تازہ ترین
نجی اسکولوں اور کتب فروشوں کے درمیان ساز باز کا انکشاف
خبراردو:
وادی کے نجی اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کی آمد پر اسکولی انتظامیہ اور پبلی شروں کے درمیان سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق اسکولی انتظامیہ پبلی شروں کے ساتھ من مانے طریقے پر طلبا کومخصوص بک سلروں کے پاس کتابیں حاصل کرنے کی ہدایت کررہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ بیشتر کلاسوں کے امتحانات مکمل ہونے کے بعد اسکولی انتظامیہ نے طلبا کو من چاہے پبلی شروں کی جانب سے طبع کی گئی کتب کو مخصوص ڈیلروں کے پاس سے حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ، سوپور، ہندوارہ اور کپوارہ میں بیشتر اسکولوں نے نئے تعلیمی سال کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبا کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کا باضابطہ آغاز کردیا ہے جس دوران طلبا کو اسکولی انتظامیہ کی جانب سے من چاہی کتب ہی خریدنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر چہ آٹھویں جماعت تک اسکولوں میں محکمہ تعلیم کی جانب سے کوئی مخصوص نصاب مقرر نہیں ہے لہٰذا اسکولی انتظامیہ اسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پبلی شروں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے طلبا کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بیشتر تعلیمی اداروں نے بیرون وادی پبلی شروں کے ساتھ ساز باز کرکے من چاہی کتب کو بازار میں لاتے ہوئے طلبا کو انہیں خریدنے کے لیے مجبور کردیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سوپور اور ہندوارہ کے تعلیمی اداروں نے نرسری سے لے کرساتویں جماعت تک کے طلبا کے لئے من پسند کتب کو پبلی شروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے انہیں طبع کیا ہے جس کے نتیجے میں معمولی سی معمولی کتاب جس کی بازار میں صرف 40روپے قیمت ہونی چاہیے تھی اس پر 150سے زائد رقم وصول کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سوپور کی ایک نامی گرامی تعلیمی ادارے کی طرف سے درجہ سوم کے لیے جو کتب مختص کی گئی ہے اُن کی قیمت 2000وصول کی جارہی ہے جبکہ اصل میں اُن کی مارکیٹ ویلیو 800سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح یہاں کے کئی اور تعلیمی اداروں نے بھی طلبا کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے اور انہوں نے مخصوص بک اسٹالوں پر کتب کو دستیاب رکھتے ہوئے طلبا کو ذہنی کوفت میں مبتلاکردیا ہے۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سوپورکے کئی نامی گرامی تعلیمی ادارے پبلی شروں اور بک سلروں سے ان کتابوں کے عوض لاکھوں روپے کمیشن حا صل کرتے ہیں جس کا بوجھ صرف اور صرف غریب والدین کو ہی برداشت کرنا پڑتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوپور کے ایک اور نامی گرامی تعلیمی ادارہ میں ساتویں کلاس کے لیے مختص کی گئی کتب کی قیمت 4150مقررہے حالانکہ اگر مارکیٹ ویلیوسے اس کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ 1800سے 2000تک کی رقم بن جاتی ہے۔اسی طرح یہاں ایک اور تعلیمی ادارے میں طلبا کو درجہ چہارم کے لیے مختص کی گئی کتب کو 3500کے عوض فراہم کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں یہاں غریب والدین کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
خفیہ ذرائع نے کے بتایا کہ وادی میں نئے تعلیمی سال کی آمد کے ساتھ ہی بیشتر اسکولوں نے بیرون ریاست پبلشروں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے لاکھوں روپے کمانا شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے نامی گرامی اسکولوں نے نئی کتابوں کو مخصوص دکانوں پر رکھنے اور طلبا کو انہیں خریدنے کے لیے مجبور کرنے کے عوض لاکھوں روپے کا کمیشن کھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے ایک اسکول نے بیرون ریاست پبلی شر کے ساتھ ملی بھگت کرکے 33لاکھ روپے کا کمیشن حاصل کیا ہے ۔ اسی طرح یہاں چند اور اسکولوں نے من پسند کتابوں کو طلبا پر تھوپنے کے عوض 3.50لاکھ، 18لاکھ کا کمیشن وصول کیا ہو اہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوارہ کے ایک نامی گرامی تعلیمی ادارہ نے بھی طلبا کے تعلیمی کیرئر کے ساتھ کھلواڑکرتے ہوئے بیرون ریاست پبلی شر کی کتابوں کو طلبا پر تھوپنے کے عوض پبلی شر سے 45فیصد کمیشن حاصل کیا ہے۔ ادھر محکمہ تعلیم کی بروقت کارروائی نہ کرنے کے نتیجے میں بھی وادی کے اکثر تعلیمی اداروں نے یہاں مافیا کی شکل اختیار کی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں غریب طلبا سے سال بھر ایک یا دوسرے بہانے من چاہی قیمتیں وصول کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کی لاپرواہی کے نتیجے میں اسکولی انتظامیہ آئے روز طلبا سے پیسے اینٹھنے میں لگے رہتے ہیں جس دوران پرنٹنگ چارج جیسے معمولی معاملے پر بھی طلبا سے بھاری اور من چاہی قیمتی وصول کی جاتی ہے۔ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جی این یتو نے بتایا کہ صوبائی کمشنر نے اس حوالے سے پہلے ہی متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ جہاں کہیں بھی ایسی شکایات موصول ہوں تو فوراً وہاں اسکولوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے بتایا اس سلسلے میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر ضلعی چیف ایجوکیشن آفیسر کے ساتھ واقعات کی تحقیقات عمل میں لاکرکارروائی شروع کرسکتے ہیں۔KNS
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
