جموں و کشمیر
عظیم الشان تعلیمی کانفرنس سرینگر میں منعقد، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر اور بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین نمایاں مہمانوں میں شامل
بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ کی جموں و کشمیر کے نجی تعلیمی شعبے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
“تجدیدِ تعلیم کا آغاز کلاس رومز سے ہونا چاہیے”: آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی کی اصلاحِ تعلیم پر زور
جے کے بورڈ کی بڑھتی مشکلاتپیشِ نظر: اگر تعلیمی مسائل حل نہ ہوئے تو قومی بورڈز کا رخ ناگزیر ہوگا: صدر پی ایس اے جے کے، جی این وار
“جدید نظامِ تعلیم ہی کشمیر کو عالمی قیادت کے سفر پر لے جا سکتا ہے”: بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم اشوک کمار
سرینگر، جموں و کشمیر میں تعلیمی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے موضوع پر ایک غیر معمولی، تاریخی اور فکرانگیز تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عہدیداران، ماحولیاتی ماہرین اور نجی اسکولوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اہم کانفرنس کریسنٹ پبلک اسکول، نسیم باغ، سرینگر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا آغاز ایک پُراثر اور پُرتپاک استقبالیہ تقریب سے ہوا، جہاں معزز مہمانوں کا خیرمقدم پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا اور ان کی خدمت میں کشمیری روایتی شال بطور تحفہ و اعزاز پیش کی گئیں—جو وادی کی مہمان نوازی، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی روشن علامت ہیں۔
شرکاء میں شامل ممتاز شخصیات: ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس)، چیئرمین، بھارتیہ شکشا بورڈ؛ پروفیسر بی ایس مورتی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد؛ پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر؛ اشوک کمار ٹھاکر، بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرِ تعلیم و چیئرمین مونی انٹرنیشنل اسکول نئی دہلی؛ پروفیسر ایم اے شاہ، این آئی ٹی سرینگر۔
علاقائی قائدین کی نمایاں شرکت: جی این وار (صدر، پی ایس اے جے کے، منظور احمد ونگنو (چیئرمین، بلالیہ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ)، انجینئر محمد شکیل ڈار (چیئرمین) و انجینئر محمد شاہد ڈار (ڈائریکٹر، کریسنٹ اسکول)، مشتاق کینی (سینئر تعلیمی رہنما)، عشرت ٹنکی (صدر خواتین ونگ پی ایس اے جے کے)، فیصل اسلام میر (جنرل سیکرٹری)، شاہ گلزار (چیف آرگنائزر)، مجید بٹ (ڈویژنل آرگنائزر)، بلال بٹ (ضلع صدر)، طاہر وگے (ضلع سیکرٹری)، سیدہ رفیدہ صولیحہ (پی آر او) کے علاوہ ایم وائی وانی (چیئرمین گرین ویلی) اور فاروق فاضلی (چیئرمین، ڈالفن اسکول) وغیرہ۔
بھارتیہ شکشا بورڈ، چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس) نے اپنے خطاب میں کہاکہ “بھارتیہ شکشا بورڈ ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ قومی تعلیمی بورڈ ہے، جس کا مقصد ہندوستانی تہذیب اور فکری ورثے پر مبنی ایک خالص دیسی نظامِ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس بورڈ کی اسناد کو ملک بھر میں تعلیمی اور ملازمت کے تمام مقاصد کے لیے مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ “بھارتیہ شکشا بورڈ، CBSE اور دیگر قومی بورڈز کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ، خصوصاً شعبہ اسکول ایجوکیشن و خواندگی (Department of School Education & Literacy) پر جائیں، تو آپ دیکھیں گے کہ CBSE اور بھارتیہ شکشا بورڈ دونوں کو قومی تعلیمی بورڈز کے طور پر سرکاری سطح پر درج کیا گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا “یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتِ ہند نے اپنے طور پر ایک قومی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے۔ اس بورڈ کو انڈین یونیورسٹیز کی ایسوسی ایشن (AIU) نے مساوات کا درجہ دے رکھا ہے، جس سے اس کی اسناد کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے تعلیمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا “کشمیر نے ہندوستانی تہذیب اور علمی شناخت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کے عروج کی کہانی، کشمیر کی علمی، روحانی اور خدماتی بلندیوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سرزمین ہمیشہ سے عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہی ہے۔”
انہوں نے جموں و کشمیر کے نجی اسکولوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات اور مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا “ایک قومی تعلیمی بورڈ کے نمائندے کی حیثیت سے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور ان کے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں گے۔”
اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا “ایک سینئر آئی اے ایس آفسر کی حیثیت سے، جس نے 34 برس پالیسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، میں بخوبی جانتا ہوں کہ پالیسی سازی میں بعض اوقات غلط فہمیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ٹیم کی صورت میں ہم مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں گے۔”
ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد پروفیسر بی ایس مورتی نے اپنے خطاب میں کہا “ہندوستان اُس وقت ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا جب ہمارا نظامِ تعلیم طلبہ کو صرف اچھی ملازمتوں کے حصول کی ترغیب نہ دے، بلکہ انہیں بامقصد اختراعات کرنے، خود روزگار پیدا کرنے اور قوم کی تعمیر میں بھرپور حصہ لینے کے قابل بھی بنائے۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “قومی فخر، بین الشعبہ جاتی سوچ اور تخلیقی آزادی جیسے عناصر کا فروغ اسکول کی سطح سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ ہم جب تک طلبہ کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کریں گے، ہم ’وکست بھارت‘ کا خواب پورا نہیں کر پائیں گے۔”
پروفیسر مورتی نے آئی آئی ٹی حیدرآباد میں رائج اختراعی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارے یہاں طلبہ کو پہلے ہی سال سے اپنا کاروباری خیال عملی شکل دینے کے لیے سیمسٹر بریک کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہم انہیں ابتدائی سرمایہ (Seed Funding) بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبوں پر کام کر سکیں۔”
پروفیسر مورتی نے کہا کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اب تک 260 سے زائد اسٹارٹ اپس وجود میں آ چکے ہیں، جنہوں نے 1500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ ایک زندہ مثال ہے کہ اگر نوجوان ذہنوں کو سازگار ماحول، اعتماد اور وسائل میسر آئیں، تو وہ محض خواب نہیں دیکھتے بلکہ اُنہیں عملی شکل دے کر انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبے، اس سوچ اور اس نظام کو ملک کے ہر اسکول اور ہر تعلیمی ادارے تک وسعت دی جائے۔”
پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر نے کہا “یونیورسٹی سب کے لیے ہے۔ میں یہاں موجود تمام طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ دل کے ساتھ محنت کریں، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کریں، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ آپ کے خواب قابلِ قدر ہیں، اور اگر آپ اخلاص، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں گے، تو یقیناً آپ اُنہیں حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں اور اپنے والدین کا فخر بن سکتے ہیں”۔
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی آف کشمیر وادی کے تمام اسکولوں کے لیے کھلی ہے۔ اگر ہم، ایک یونیورسٹی کے طور پر، معاشرے سے تعلق مضبوط نہیں کریں گے، تو پھر یہ فریضہ کون ادا کرے گا؟ یہ ادارہ طلبہ کا ہے، اور میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔”
“میرے تجربے میں، طلبہ کی تین اقسام سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسم اُن طلبہ کی ہے جو بالکل غیر سنجیدہ ہوتے ہیں، وہ صرف والدین کے دباؤ پر اسکول آتے ہیں، اُن کا کوئی مقصد یا شوق نہیں ہوتا۔ میں سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اس زمرے میں آتے ہیں، تو مستقبل آپ کے لیے سخت دشوار ہوگا۔ جب تک آپ خود اپنی مدد نہیں کریں گے، کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
دوسری قسم میں وہ طلبہ آتے ہیں جو مخلص اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ ملک و بیرونِ ملک میں مواقع آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ کو صرف محنت کرنی ہے، اپنے اساتذہ کا احترام، والدین سے محبت اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنا ہے۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں ہیں، محض ایک افسانہ ہے۔
میری طلبہ سے عاجزانہ گزارش ہے: یہ وقت آپ کا ہے—اسے ضائع نہ کریں۔ محنت کریں۔ ایک اچھے سول سرونٹ، پروفیسر، یا کسی بھی شعبے کے ماہر بنیں۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کریں۔ اُن کی محبت اور قربانیوں کا بدلہ ادا کریں۔ تبدیلی ہمیشہ فردِ واحد سے شروع ہوتی ہے۔ کسی اور کے انتظار میں مت رہیں—پہلا قدم آپ خود اٹھائیں۔”
صدر پی ایس اے جےکے، جی این وار نے اپنے خطاب میں کہا کہ”جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے پیدا کی جانے والی مسلسل رکاوٹوں، غیر ضروری این او سی کی شرائط، فیسوں میں بلا جواز اضافے، جی ایس ٹی کے نفاذ، اور تاخیر سے فیس جمع ہونے کے بہانے سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کے پیش نظر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سنجیدگی سے قومی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن اور ایفلیشن پر غور کر رہی ہے”۔
اس وقت رجسٹریشن اور تجدید سے متعلق سینکڑوں فائلیں زیر التوا ہیں اور اسکولوں کو مختلف غیر ضروری کاغذی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو بارہا اجاگر کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر کی اعلیٰ ترین انتظامیہ کی توجہ میں بھی لایا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
حال ہی میں جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے چند معمولی تکنیکی نکات کی بنیاد پر طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت نہ دینا — حالانکہ اسکولوں نے تمام بنیادی تقاضے پورے کیے تھے — ایک انتہائی بیوروکریٹک اور غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
“ہم ایک بار پھر انتہائی مؤدبانہ انداز میں حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دیرینہ اور سنگین مسائل کا فوری اور جامع حل نکالا جائے۔ اگر معاملات اسی طرح التوا کا شکار رہے، تو ہم قوم کے مفاد اور طلبہ کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتیہ شکشا بورڈ یا دیگر قومی بورڈز سے الحاق کا سنجیدگی سے جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری اولین ترجیح ہمیشہ طلبہ کا مستقبل رہی ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تعلیم کسی کی انا یا بیوروکریسی کا شکار نہیں بننی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی شعبے کو سیاست اور پیچیدہ عمل سے نکال کر اصلاحات کی راہ پر ڈالا جائے۔”
بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم، اشوک کمار ٹھاکر نے کہا “تعلیم محض نصابی کتابوں کے صفحات یا امتحانات کی کامیابیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا دائرہ فکر و شعور، خود شناسی، خود مختاری اور قیادت کے جوہر تک پھیلنا چاہیے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف روزگار کے پیچھے نہ دوڑے، بلکہ اپنے کردار، وژن اور عمل سے معاشرے میں بیداری اور تبدیلی کی شمع روشن کرے۔ کشمیر کے نوجوان فکری بالیدگی، تخلیقی قوت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انہیں صرف ایک ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو ان کے خوابوں کو پر دے، ان کی سوچ کو وسعت دے، اور انہیں عالمی سطح پر قیادت کی نئی راہوں پر گامزن کرے۔ تعلیم اگر دلوں کو روشن کرے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
پروفیسر ایم اے شاہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT) سرینگر نے کہا “کشمیر ہمیشہ سے ایک علمی اور فکری مرکز رہا ہے۔ ہمیں اپنی اس شان دار علمی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے سائنسی تعلیم کو اسکولوں کی سطح پر عام اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔ صرف نظری علم کافی نہیں، ہمیں طلبہ کو تجرباتی طریقے سے سکھانا ہوگا تاکہ وہ سائنسی حقائق کو محسوس کر سکیں، سمجھ سکیں، اور ان پر تحقیق کر سکیں۔ مستقبل ان ہی طلبہ کا ہے جو تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”
چیف آرگنائزر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن شاہ گلزار نے اپنے خطاب میں کہا “یہ تعلیمی کانفرنس جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی شعبے کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک مشترکہ عزم ہے—طلبہ کی بہتری، معیاری تعلیم، اور ایک روشن تعلیمی مستقبل کے لیے۔ میں دل کی گہرائیوں سے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، ماہرین تعلیم، اسکول منتظمین، اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت اور خیالات سے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ آگے راستہ مشکل ہے، لیکن اگر ہم سب متحد رہیں، تو ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے اور تعلیمی شعبے میں ایک مؤثر اور دیرپا تبدیلی ممکن ہے”۔
کانفرنس ایک پرامید عزم پر اختتام ہوئی—ایک ایسے نظامِ تعلیم کی تشکیل پر اتفاق، جو برابری، جدت اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
