جموں و کشمیر
عظیم الشان تعلیمی کانفرنس سرینگر میں منعقد، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر اور بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین نمایاں مہمانوں میں شامل
بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ کی جموں و کشمیر کے نجی تعلیمی شعبے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
“تجدیدِ تعلیم کا آغاز کلاس رومز سے ہونا چاہیے”: آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی کی اصلاحِ تعلیم پر زور
جے کے بورڈ کی بڑھتی مشکلاتپیشِ نظر: اگر تعلیمی مسائل حل نہ ہوئے تو قومی بورڈز کا رخ ناگزیر ہوگا: صدر پی ایس اے جے کے، جی این وار
“جدید نظامِ تعلیم ہی کشمیر کو عالمی قیادت کے سفر پر لے جا سکتا ہے”: بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم اشوک کمار
سرینگر، جموں و کشمیر میں تعلیمی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے موضوع پر ایک غیر معمولی، تاریخی اور فکرانگیز تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عہدیداران، ماحولیاتی ماہرین اور نجی اسکولوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اہم کانفرنس کریسنٹ پبلک اسکول، نسیم باغ، سرینگر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا آغاز ایک پُراثر اور پُرتپاک استقبالیہ تقریب سے ہوا، جہاں معزز مہمانوں کا خیرمقدم پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا اور ان کی خدمت میں کشمیری روایتی شال بطور تحفہ و اعزاز پیش کی گئیں—جو وادی کی مہمان نوازی، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی روشن علامت ہیں۔
شرکاء میں شامل ممتاز شخصیات: ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس)، چیئرمین، بھارتیہ شکشا بورڈ؛ پروفیسر بی ایس مورتی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد؛ پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر؛ اشوک کمار ٹھاکر، بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرِ تعلیم و چیئرمین مونی انٹرنیشنل اسکول نئی دہلی؛ پروفیسر ایم اے شاہ، این آئی ٹی سرینگر۔
علاقائی قائدین کی نمایاں شرکت: جی این وار (صدر، پی ایس اے جے کے، منظور احمد ونگنو (چیئرمین، بلالیہ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ)، انجینئر محمد شکیل ڈار (چیئرمین) و انجینئر محمد شاہد ڈار (ڈائریکٹر، کریسنٹ اسکول)، مشتاق کینی (سینئر تعلیمی رہنما)، عشرت ٹنکی (صدر خواتین ونگ پی ایس اے جے کے)، فیصل اسلام میر (جنرل سیکرٹری)، شاہ گلزار (چیف آرگنائزر)، مجید بٹ (ڈویژنل آرگنائزر)، بلال بٹ (ضلع صدر)، طاہر وگے (ضلع سیکرٹری)، سیدہ رفیدہ صولیحہ (پی آر او) کے علاوہ ایم وائی وانی (چیئرمین گرین ویلی) اور فاروق فاضلی (چیئرمین، ڈالفن اسکول) وغیرہ۔
بھارتیہ شکشا بورڈ، چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس) نے اپنے خطاب میں کہاکہ “بھارتیہ شکشا بورڈ ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ قومی تعلیمی بورڈ ہے، جس کا مقصد ہندوستانی تہذیب اور فکری ورثے پر مبنی ایک خالص دیسی نظامِ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس بورڈ کی اسناد کو ملک بھر میں تعلیمی اور ملازمت کے تمام مقاصد کے لیے مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ “بھارتیہ شکشا بورڈ، CBSE اور دیگر قومی بورڈز کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ، خصوصاً شعبہ اسکول ایجوکیشن و خواندگی (Department of School Education & Literacy) پر جائیں، تو آپ دیکھیں گے کہ CBSE اور بھارتیہ شکشا بورڈ دونوں کو قومی تعلیمی بورڈز کے طور پر سرکاری سطح پر درج کیا گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا “یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتِ ہند نے اپنے طور پر ایک قومی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے۔ اس بورڈ کو انڈین یونیورسٹیز کی ایسوسی ایشن (AIU) نے مساوات کا درجہ دے رکھا ہے، جس سے اس کی اسناد کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے تعلیمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا “کشمیر نے ہندوستانی تہذیب اور علمی شناخت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کے عروج کی کہانی، کشمیر کی علمی، روحانی اور خدماتی بلندیوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سرزمین ہمیشہ سے عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہی ہے۔”
انہوں نے جموں و کشمیر کے نجی اسکولوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات اور مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا “ایک قومی تعلیمی بورڈ کے نمائندے کی حیثیت سے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور ان کے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں گے۔”
اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا “ایک سینئر آئی اے ایس آفسر کی حیثیت سے، جس نے 34 برس پالیسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، میں بخوبی جانتا ہوں کہ پالیسی سازی میں بعض اوقات غلط فہمیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ٹیم کی صورت میں ہم مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں گے۔”
ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد پروفیسر بی ایس مورتی نے اپنے خطاب میں کہا “ہندوستان اُس وقت ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا جب ہمارا نظامِ تعلیم طلبہ کو صرف اچھی ملازمتوں کے حصول کی ترغیب نہ دے، بلکہ انہیں بامقصد اختراعات کرنے، خود روزگار پیدا کرنے اور قوم کی تعمیر میں بھرپور حصہ لینے کے قابل بھی بنائے۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “قومی فخر، بین الشعبہ جاتی سوچ اور تخلیقی آزادی جیسے عناصر کا فروغ اسکول کی سطح سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ ہم جب تک طلبہ کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کریں گے، ہم ’وکست بھارت‘ کا خواب پورا نہیں کر پائیں گے۔”
پروفیسر مورتی نے آئی آئی ٹی حیدرآباد میں رائج اختراعی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارے یہاں طلبہ کو پہلے ہی سال سے اپنا کاروباری خیال عملی شکل دینے کے لیے سیمسٹر بریک کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہم انہیں ابتدائی سرمایہ (Seed Funding) بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبوں پر کام کر سکیں۔”
پروفیسر مورتی نے کہا کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اب تک 260 سے زائد اسٹارٹ اپس وجود میں آ چکے ہیں، جنہوں نے 1500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ ایک زندہ مثال ہے کہ اگر نوجوان ذہنوں کو سازگار ماحول، اعتماد اور وسائل میسر آئیں، تو وہ محض خواب نہیں دیکھتے بلکہ اُنہیں عملی شکل دے کر انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبے، اس سوچ اور اس نظام کو ملک کے ہر اسکول اور ہر تعلیمی ادارے تک وسعت دی جائے۔”
پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر نے کہا “یونیورسٹی سب کے لیے ہے۔ میں یہاں موجود تمام طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ دل کے ساتھ محنت کریں، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کریں، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ آپ کے خواب قابلِ قدر ہیں، اور اگر آپ اخلاص، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں گے، تو یقیناً آپ اُنہیں حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں اور اپنے والدین کا فخر بن سکتے ہیں”۔
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی آف کشمیر وادی کے تمام اسکولوں کے لیے کھلی ہے۔ اگر ہم، ایک یونیورسٹی کے طور پر، معاشرے سے تعلق مضبوط نہیں کریں گے، تو پھر یہ فریضہ کون ادا کرے گا؟ یہ ادارہ طلبہ کا ہے، اور میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔”
“میرے تجربے میں، طلبہ کی تین اقسام سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسم اُن طلبہ کی ہے جو بالکل غیر سنجیدہ ہوتے ہیں، وہ صرف والدین کے دباؤ پر اسکول آتے ہیں، اُن کا کوئی مقصد یا شوق نہیں ہوتا۔ میں سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اس زمرے میں آتے ہیں، تو مستقبل آپ کے لیے سخت دشوار ہوگا۔ جب تک آپ خود اپنی مدد نہیں کریں گے، کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
دوسری قسم میں وہ طلبہ آتے ہیں جو مخلص اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ ملک و بیرونِ ملک میں مواقع آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ کو صرف محنت کرنی ہے، اپنے اساتذہ کا احترام، والدین سے محبت اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنا ہے۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں ہیں، محض ایک افسانہ ہے۔
میری طلبہ سے عاجزانہ گزارش ہے: یہ وقت آپ کا ہے—اسے ضائع نہ کریں۔ محنت کریں۔ ایک اچھے سول سرونٹ، پروفیسر، یا کسی بھی شعبے کے ماہر بنیں۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کریں۔ اُن کی محبت اور قربانیوں کا بدلہ ادا کریں۔ تبدیلی ہمیشہ فردِ واحد سے شروع ہوتی ہے۔ کسی اور کے انتظار میں مت رہیں—پہلا قدم آپ خود اٹھائیں۔”
صدر پی ایس اے جےکے، جی این وار نے اپنے خطاب میں کہا کہ”جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے پیدا کی جانے والی مسلسل رکاوٹوں، غیر ضروری این او سی کی شرائط، فیسوں میں بلا جواز اضافے، جی ایس ٹی کے نفاذ، اور تاخیر سے فیس جمع ہونے کے بہانے سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کے پیش نظر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سنجیدگی سے قومی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن اور ایفلیشن پر غور کر رہی ہے”۔
اس وقت رجسٹریشن اور تجدید سے متعلق سینکڑوں فائلیں زیر التوا ہیں اور اسکولوں کو مختلف غیر ضروری کاغذی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو بارہا اجاگر کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر کی اعلیٰ ترین انتظامیہ کی توجہ میں بھی لایا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
حال ہی میں جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے چند معمولی تکنیکی نکات کی بنیاد پر طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت نہ دینا — حالانکہ اسکولوں نے تمام بنیادی تقاضے پورے کیے تھے — ایک انتہائی بیوروکریٹک اور غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
“ہم ایک بار پھر انتہائی مؤدبانہ انداز میں حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دیرینہ اور سنگین مسائل کا فوری اور جامع حل نکالا جائے۔ اگر معاملات اسی طرح التوا کا شکار رہے، تو ہم قوم کے مفاد اور طلبہ کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتیہ شکشا بورڈ یا دیگر قومی بورڈز سے الحاق کا سنجیدگی سے جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری اولین ترجیح ہمیشہ طلبہ کا مستقبل رہی ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تعلیم کسی کی انا یا بیوروکریسی کا شکار نہیں بننی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی شعبے کو سیاست اور پیچیدہ عمل سے نکال کر اصلاحات کی راہ پر ڈالا جائے۔”
بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم، اشوک کمار ٹھاکر نے کہا “تعلیم محض نصابی کتابوں کے صفحات یا امتحانات کی کامیابیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا دائرہ فکر و شعور، خود شناسی، خود مختاری اور قیادت کے جوہر تک پھیلنا چاہیے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف روزگار کے پیچھے نہ دوڑے، بلکہ اپنے کردار، وژن اور عمل سے معاشرے میں بیداری اور تبدیلی کی شمع روشن کرے۔ کشمیر کے نوجوان فکری بالیدگی، تخلیقی قوت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انہیں صرف ایک ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو ان کے خوابوں کو پر دے، ان کی سوچ کو وسعت دے، اور انہیں عالمی سطح پر قیادت کی نئی راہوں پر گامزن کرے۔ تعلیم اگر دلوں کو روشن کرے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
پروفیسر ایم اے شاہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT) سرینگر نے کہا “کشمیر ہمیشہ سے ایک علمی اور فکری مرکز رہا ہے۔ ہمیں اپنی اس شان دار علمی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے سائنسی تعلیم کو اسکولوں کی سطح پر عام اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔ صرف نظری علم کافی نہیں، ہمیں طلبہ کو تجرباتی طریقے سے سکھانا ہوگا تاکہ وہ سائنسی حقائق کو محسوس کر سکیں، سمجھ سکیں، اور ان پر تحقیق کر سکیں۔ مستقبل ان ہی طلبہ کا ہے جو تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”
چیف آرگنائزر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن شاہ گلزار نے اپنے خطاب میں کہا “یہ تعلیمی کانفرنس جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی شعبے کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک مشترکہ عزم ہے—طلبہ کی بہتری، معیاری تعلیم، اور ایک روشن تعلیمی مستقبل کے لیے۔ میں دل کی گہرائیوں سے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، ماہرین تعلیم، اسکول منتظمین، اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت اور خیالات سے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ آگے راستہ مشکل ہے، لیکن اگر ہم سب متحد رہیں، تو ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے اور تعلیمی شعبے میں ایک مؤثر اور دیرپا تبدیلی ممکن ہے”۔
کانفرنس ایک پرامید عزم پر اختتام ہوئی—ایک ایسے نظامِ تعلیم کی تشکیل پر اتفاق، جو برابری، جدت اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
