ہندوستان
وقف ترمیمی قانون کے خلاف جماعت اسلامی ہند نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی
نئی دہلی، وقف ترمیمی قانون 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے یہ عرضی جماعت کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر و دیگر مرکزی ذمہ داران مولانا شفیع مدنی اور انعام الرحمن خان کے ذریعے داخل کی گئی ہے عرضی میں نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات ، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسر خلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردار کو متاثر کرنے والی ہیں ۔ عرضی میں ہندوستانی آئین کی دفعہ 14، 15، 16، 25، 26 اور 300 اے کے خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انھیں ختم کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔
پٹیشن میں اٹھائے گئے اہم نکات:
1: بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ:
اس ترمیم شدہ ایکٹ نے وقف کی تعریف اور اس کی بنیادی ساخت کو بدل دیا ہے۔ وقف پر غیر ضروری پابندیاں لگا دی گئی ہیں کہ کون وقف کر سکتا ہے اور ان کا انتظام و انصرام کیسے کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اب وقف کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم سے کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار رہا ہے جبکہ اسلام میں وقف کنندہ کے لیے ایسی کوئی بھی شرط نہیں ہے۔ یہ غیر ضروری شرط براہ راست آرٹیکل 25 اور 15 کے خلاف ہے جس میں مذہبی آزادی اور امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
2: وقف بورڈ کی خود مختاری پر حملہ:
اس نئے قانون کے ذریعے وقف بورڈ میں منتخب افراد کی جگہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عہدیداروں کو شامل کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے جن میں غیر مسلم اور وقف کے لیے مطلوبہ فقہی مسائل سے ناواقف افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ یہ قانون بنیادی طور پر ملک میں مختلف مذہبی طبقات کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے دیئے گئے حق کے خلاف ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس نئے قانون میں سی ای او کے لیے مسلمان ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے جس سے بورڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے شدید طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے ۔
3: وقف املاک پر ناجائز قبضہ جات کا مسئلہ:
قانون کے سیکشن 3ڈی کو جلد بازی میں من مانے ڈھنگ سے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے محفوظ یادگار قرار دی گئیں تمام وقف شدہ ملکیتوں کو وقف بورڈ کے کنٹرول سے نکال کر اے ایس آئی کی ملکیت بنایا جا سکے چاہے ان مقامات کی تاریخی ومذہبی حیثیت و اہمیت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ یہ شق بنیادی طور پر قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے ایکٹ 1958 کے سیکشن 6 کو ختم کردیتی ہے جوکہ وقف املاک سے متعلق ہے ۔ مزید براں اس قانون کی وجہ سے تجاوزات کرنے والوں کو وقف اراضی پر منفی قبضہ کرنے کے لیے دعویٰ کرنے کا حق مل جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کے وقف املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
4: کمیونٹی کنسلٹیشن کی ناکامی:
ترامیم کی حساسیت کے باوجود اس بل کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ۔ منصفانہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمانی کارروائی کے دوران سیکشن 3ڈی اور 3 ای جیسی تبدیلیاں آخری وقت میں شامل کی گئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مختلف مسلم تنظیموں بشمول جماعت اسلامی ہند نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اس قانون پر اپنے اعتراضات درج کرائے تھے مگر انہیں نظر انداز کردیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز اور وقف سے متعلق تنظیموں و افراد کی شمولیت کو نظر انداز کرکے قانون بنانا، مسلمہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
اضافی قانونی دلائل:
وقف بائے یوزر کی شق کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ رام جنم بھومی بابری مسجد کیس و دیگر کئی سابقہ عدالتی فیصلوں میں یہ بات موجود ہے کہ استعمال اور تاریخی تسلسل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا جانا چاہئے ۔ لال شاہ بابا درگاہ، شیخ یوسف چاولہ اور رامجس فاؤنڈیشن کے فیصلوں میں بھی یہ کہا گیا کہ مذہبی اوقاف کو کمیونٹی کے استعمال اور تاریخی تسلسل کے حوالے سے پرکھا جانا چاہئے نہ کہ حکومتی رکارڈ کو بنیاد بنا کر۔
جماعت اسلامی ہند اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وقف، اسلامی عقیدے و تہذیب نیز ہندوستانی ورثے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے جس کا خیرات، تعلیم اور سماجی بہبود سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے مذہبی اور اجتماعی کردار کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہے۔ جماعت سول سوسائٹیز، قانونی ماہرین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وقف قانون کو من مانی طریقے پر ختم کرنے کے خلاف آواز بلند کریں اور اس آئینی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
