جموں و کشمیر
جموں وکشمیرمیں ہزاروں کروڑروپے مالیت کے مبینہ جل جیون مشن (JJM) گھوٹالے کا نیا موڈ
ہاﺅس کمیٹی تحقیقات سے قبل سابقIASافسرنے کیااہم خلاصہ
ACBکو ارسال کردہ خطہ میں سابق چیف سیکرٹری اور3سابق چیف انجینئروں پرسنگین الزامات عائد
عوامی فنڈز و عوامی عہدے کا غلط استعمال کرنے اور قانونی دفعات اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کادعویٰ
سرینگر:جے کے این ایس : جموںوکشمیر اسمبلی کی ایک ہاوس کمیٹی جو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے جل جیون مشن (JJM) گھوٹالے کی تحقیقات شروع کرنے کےلئے تیار ہے، ایسے میںسابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمار نے سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا سمیت دیگر اعلیٰ افسروںکےخلاف عوامی عہدے اور بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کےلئے اینٹی کرپشن بیورو (ACB) سے رجوع کیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سابق آئی اے ایس افسراشوک کمارپرمارنے 12 اپریل کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خط میں، انسداد کورپشن بورﺅ ACBکو بتایا ہے کہ سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا اور جموں و کشمیر کے جل شکتی محکمہ کے3 ریٹائرڈ چیف انجینئروں کے خلاف مرکزی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دیگر الزامات کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے قانون،1988 کے تحت مقدمہ چلانے کےلئے معتبر ثبوت موجود ہیں۔نیوزپورٹل دی وائر میں شائع ایک تفصیلی نیوزرپورٹ کے مطابق جل شکتی محکمہ کے تین ریٹائرڈ چیف انجینئروں کی شناخت منیش بھٹ، ہمیش منچندا اور بشارت جیلانی کاووسہ کے طور پر کی گئی ہے۔ خط میں سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا اور3 ریٹائرڈ چیف انجینئروں پرعوامی فنڈز کا غلط استعمال کرنے، ذاتی فائدے کےلئے عوامی عہدے کا غلط استعمال کرنے اور قانونی دفعات اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت کو غلط نقصان پہنچانے کاارتکاب کرکے6000 کروڑ روپے مالیت کی پائپوں کی خریداری میں مجرمانہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔سابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمار نے خط میں الزام لگایا ہے کہ جموں و کشمیر کے سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا نے ذاتی فائدے کےلئے عوامی عہدے کا غلط استعمال کیا، سپلائی کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کی، اور وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت داخلہ کو گمراہ کیا، جس سے مالی نقصان ہوا اور جل جیون مشن (JJM) کے نفاذ میں تاخیر ہوئی۔سابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمارنے الزام لگایا کہ ارون کمار مہتا نے پائپوں کی خریداری کے لیے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی زیر صدارت انتظامی کونسل کی انتظامی منظوری حاصل نہیں کی جو کہ ایس او15 کے مطابق لازمی تھی اور ان کے خدشات کے باوجود، ارون کمارمہتا نے بے قاعدہ معاہدوں کو بھی منسوخ نہیں کیا جس کی وجہ سے ٹھیکیداروں کی افزودگی ہوئی۔1992بیچ کے آئی اے ایس افسر نے پائپوں کی رسیدوں اور انوینٹری اور ٹھیکیداروں کے کردار کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن پر اس نے الزام لگایا ہے کہ اس اسکیم کے تحت متعدد معاہدوں کے تحت کاموں وپائپوں کے لیے ڈپلیکیٹ ادائیگیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کا مقصد جموں و کشمیر کے تمام گھرانوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ہے۔مشن ڈیڈ لائن سے محروم: جل جیون مشن (JJM)، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے 15 اگست 2019 کو شروع کیا تھا، گزشتہ سال جموں و کشمیر میں اپنی دوسری ڈیڈ لائن سے محروم ہو گیا تھا جس میں 18,69,467 میں سے صرف 15,06,729 ٹارگٹڈ گھرانوں (80.5فیصد) کو اسکیم کے تحت شامل کیا گیا تھا۔خط میں سابق آئی اے ایس افسراشوک کمار پرمار نے الزام لگایا ہے کہ سابق چیف سکریٹری ارون کمارمہتا نے اپنے دفتر کا غلط استعمال کیا اور منچندا کو جل شکتی محکمہ اور دیگر افسران کو منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی تاکہ نامعلوم ٹھیکیداروں کی مدد سے مالی بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا جا سکے۔سابق آئی اے ایس افسر کا دعویٰ ہے کہ ارون کمار مہتا اور محکمہ کے دیگر افسران نے پائپوں کی غیر ضروری خریداری کو جواز بنانے کے لیے جموں وکشمیر میں آپریشنل واٹر سپلائی سکیموں کو نئےJJM پروجیکٹوں کے طور پر غلط بیان کیا۔ارون کمار مہتا نے 5 مئی2022 سے 7 اگست2022 کے درمیان30 میٹنگیں کیں تاکہ ناجائز اثر و رسوخ کی نشاندہی کرنے والے پائپ پروکیورمنٹ کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس خط کے مطابق، جس میں لکھا گیا ہے کہ پرمار کو 7 اگست2022 کو مبینہ طور پر 582.50کروڑ روپے مالیت کے ہائی ڈینسٹی پولیتھیلین پائپوں کے استعمال کو منسوخ کرنے کی تجویز پر ٹرانسفر کیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں کےلئے موزوں نہیں تھے۔ جل جیون مشن (JJM) مبینہ گھوٹالے نے جموں و کشمیر میں حال ہی میں ختم ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ کھڑا کر دیا، جس نے22 مارچ2025 کو اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو ہاو ¿س کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔9 اپریل2025 کو، اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک حکم نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ممبر اسمبلی پانپورریٹائرڈ جج جسٹس حسنین مسعودی کی سربراہی میںایک11 رکنی ہاﺅس کمیٹی قائم کی۔
سابق آئی اے ایس افسراشوک کمارپرمار، جن کے خلاف سروس رولز کی خلاف ورزی کرنے پر حکومت کی طرف سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے، نے اے سی بی کو بھیجے میں اُن تمام خطوط یا خط وکتابت کاحوالہ بھی دیاہے ،جو اُس نے سابق چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا، اس وقت کے مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا، موجودہ چیف سکریٹری اٹل ڈلو کو مبینہ مجرمانہ سازش کے بارے میں لکھے ہیں۔ان خطوط میں سابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمار نے جل جیون مشن اسکیم سمیت مختلف نوعیت کی بے قاعدگیوں اور متعلقہ معاملات کا بھی خلاصہ کیا ہے،جن کا تعلق تین سابق چیف انجینئروں منیش بھٹ، ہمیش منچندا اور بشارت جیلانی کاووسہ سے ہے ۔ان خطوط میں اشوک کمار پرمار نے اہم انکشافات اوردعوے بھی کئے ہیں۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
