جموں و کشمیر
جموں وکشمیرمیں ہزاروں کروڑروپے مالیت کے مبینہ جل جیون مشن (JJM) گھوٹالے کا نیا موڈ
ہاﺅس کمیٹی تحقیقات سے قبل سابقIASافسرنے کیااہم خلاصہ
ACBکو ارسال کردہ خطہ میں سابق چیف سیکرٹری اور3سابق چیف انجینئروں پرسنگین الزامات عائد
عوامی فنڈز و عوامی عہدے کا غلط استعمال کرنے اور قانونی دفعات اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کادعویٰ
سرینگر:جے کے این ایس : جموںوکشمیر اسمبلی کی ایک ہاوس کمیٹی جو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے جل جیون مشن (JJM) گھوٹالے کی تحقیقات شروع کرنے کےلئے تیار ہے، ایسے میںسابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمار نے سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا سمیت دیگر اعلیٰ افسروںکےخلاف عوامی عہدے اور بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کےلئے اینٹی کرپشن بیورو (ACB) سے رجوع کیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سابق آئی اے ایس افسراشوک کمارپرمارنے 12 اپریل کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خط میں، انسداد کورپشن بورﺅ ACBکو بتایا ہے کہ سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا اور جموں و کشمیر کے جل شکتی محکمہ کے3 ریٹائرڈ چیف انجینئروں کے خلاف مرکزی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دیگر الزامات کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے قانون،1988 کے تحت مقدمہ چلانے کےلئے معتبر ثبوت موجود ہیں۔نیوزپورٹل دی وائر میں شائع ایک تفصیلی نیوزرپورٹ کے مطابق جل شکتی محکمہ کے تین ریٹائرڈ چیف انجینئروں کی شناخت منیش بھٹ، ہمیش منچندا اور بشارت جیلانی کاووسہ کے طور پر کی گئی ہے۔ خط میں سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا اور3 ریٹائرڈ چیف انجینئروں پرعوامی فنڈز کا غلط استعمال کرنے، ذاتی فائدے کےلئے عوامی عہدے کا غلط استعمال کرنے اور قانونی دفعات اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت کو غلط نقصان پہنچانے کاارتکاب کرکے6000 کروڑ روپے مالیت کی پائپوں کی خریداری میں مجرمانہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔سابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمار نے خط میں الزام لگایا ہے کہ جموں و کشمیر کے سابق چیف سکریٹری ارون کمار مہتا نے ذاتی فائدے کےلئے عوامی عہدے کا غلط استعمال کیا، سپلائی کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کی، اور وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت داخلہ کو گمراہ کیا، جس سے مالی نقصان ہوا اور جل جیون مشن (JJM) کے نفاذ میں تاخیر ہوئی۔سابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمارنے الزام لگایا کہ ارون کمار مہتا نے پائپوں کی خریداری کے لیے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی زیر صدارت انتظامی کونسل کی انتظامی منظوری حاصل نہیں کی جو کہ ایس او15 کے مطابق لازمی تھی اور ان کے خدشات کے باوجود، ارون کمارمہتا نے بے قاعدہ معاہدوں کو بھی منسوخ نہیں کیا جس کی وجہ سے ٹھیکیداروں کی افزودگی ہوئی۔1992بیچ کے آئی اے ایس افسر نے پائپوں کی رسیدوں اور انوینٹری اور ٹھیکیداروں کے کردار کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن پر اس نے الزام لگایا ہے کہ اس اسکیم کے تحت متعدد معاہدوں کے تحت کاموں وپائپوں کے لیے ڈپلیکیٹ ادائیگیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کا مقصد جموں و کشمیر کے تمام گھرانوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ہے۔مشن ڈیڈ لائن سے محروم: جل جیون مشن (JJM)، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے 15 اگست 2019 کو شروع کیا تھا، گزشتہ سال جموں و کشمیر میں اپنی دوسری ڈیڈ لائن سے محروم ہو گیا تھا جس میں 18,69,467 میں سے صرف 15,06,729 ٹارگٹڈ گھرانوں (80.5فیصد) کو اسکیم کے تحت شامل کیا گیا تھا۔خط میں سابق آئی اے ایس افسراشوک کمار پرمار نے الزام لگایا ہے کہ سابق چیف سکریٹری ارون کمارمہتا نے اپنے دفتر کا غلط استعمال کیا اور منچندا کو جل شکتی محکمہ اور دیگر افسران کو منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی تاکہ نامعلوم ٹھیکیداروں کی مدد سے مالی بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا جا سکے۔سابق آئی اے ایس افسر کا دعویٰ ہے کہ ارون کمار مہتا اور محکمہ کے دیگر افسران نے پائپوں کی غیر ضروری خریداری کو جواز بنانے کے لیے جموں وکشمیر میں آپریشنل واٹر سپلائی سکیموں کو نئےJJM پروجیکٹوں کے طور پر غلط بیان کیا۔ارون کمار مہتا نے 5 مئی2022 سے 7 اگست2022 کے درمیان30 میٹنگیں کیں تاکہ ناجائز اثر و رسوخ کی نشاندہی کرنے والے پائپ پروکیورمنٹ کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس خط کے مطابق، جس میں لکھا گیا ہے کہ پرمار کو 7 اگست2022 کو مبینہ طور پر 582.50کروڑ روپے مالیت کے ہائی ڈینسٹی پولیتھیلین پائپوں کے استعمال کو منسوخ کرنے کی تجویز پر ٹرانسفر کیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں کےلئے موزوں نہیں تھے۔ جل جیون مشن (JJM) مبینہ گھوٹالے نے جموں و کشمیر میں حال ہی میں ختم ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ کھڑا کر دیا، جس نے22 مارچ2025 کو اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو ہاو ¿س کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔9 اپریل2025 کو، اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک حکم نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ممبر اسمبلی پانپورریٹائرڈ جج جسٹس حسنین مسعودی کی سربراہی میںایک11 رکنی ہاﺅس کمیٹی قائم کی۔
سابق آئی اے ایس افسراشوک کمارپرمار، جن کے خلاف سروس رولز کی خلاف ورزی کرنے پر حکومت کی طرف سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے، نے اے سی بی کو بھیجے میں اُن تمام خطوط یا خط وکتابت کاحوالہ بھی دیاہے ،جو اُس نے سابق چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا، اس وقت کے مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا، موجودہ چیف سکریٹری اٹل ڈلو کو مبینہ مجرمانہ سازش کے بارے میں لکھے ہیں۔ان خطوط میں سابق آئی اے ایس افسر اشوک کمار پرمار نے جل جیون مشن اسکیم سمیت مختلف نوعیت کی بے قاعدگیوں اور متعلقہ معاملات کا بھی خلاصہ کیا ہے،جن کا تعلق تین سابق چیف انجینئروں منیش بھٹ، ہمیش منچندا اور بشارت جیلانی کاووسہ سے ہے ۔ان خطوط میں اشوک کمار پرمار نے اہم انکشافات اوردعوے بھی کئے ہیں۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
