جموں و کشمیر
اُردو زبان سے متعلق سپریم کورٹ کا تاریخی تبصرہ
بھید بھاو اورمتعصبانہ رویہ ہر لحاظ سے غلط قرار
اُردو سائن بورڈ کو چیلنج کرنے والی عرضداشت مسترد
سرینگر:جے کے این ایس : اردو زبان کے ساتھ بھید بھاو اورمتعصبانہ رویہ کو سپریم کورٹ نے ہر لحاظ سے غلط قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے اردو زبان سے متعلق تاریخی تبصرے کیے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2رکنی بنچ نے اردو سے متعلق پائی جانے والی تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اردو کسی کی مذہب کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اُردو، مراٹھی اور ہندی کی طرح، ایک ہند آریائی زبان ہے اور ہندوستان کےلئے اجنبی نہیں ہے کیونکہ یہ یہاں پیدا ہوئی اور پھلی پھولی۔
بھارت کے لسانی تنوع کے احترام کی وکالت کرتے ہوئے ایک اہم فیصلے میں، سپریم کورٹ نے منگل15 اپریل کو مہاراشٹر کی ایک میونسپلٹی کے سائن بورڈ میں اردو کے استعمال کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کو مسترد کر دیا۔سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کو خارج کر دیا جس میں مہاراشٹر کے ضلع اکولا میں میونسپل کونسل، پتور کی نئی عمارت کے سائن بورڈ پر اردو میں نام لکھے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا کہ اضافی زبان کی نمائش مہاراشٹر لوکل اتھارٹیز (سرکاری زبانوں) ایکٹ2022 کی خلاف ورزی نہیں ہے اور اردو کے استعمال پر مذکورہ ایکٹ میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے بڑے ہی شائستہ انداز میں واضح کیا کہ، اردو کے استعمال کا مقصد محض موثر ابلاغ ہے اور زبان میں تنوع کا احترام کیا جانا چاہیے۔فیصلے میں اپیل کی گئی کہ زبان لوگوں میں تقسیم کا باعث نہ بنے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا، ہماری غلط فہمیوں، شاید کسی زبان کے خلاف ہمارے تعصبات کو بھی ہمت اور سچائی کے ساتھ حقیقت کے مقابلے میں آزمانا پڑتا ہے، جو ہماری قوم کا یہ عظیم تنوع ہے، ہماری طاقت کبھی ہماری کمزوری نہیں ہو سکتی۔ آئیے اردو اور ہر زبان سے دوستی کریں۔سپریم کورٹ نے کہا، اردو ہندوستان کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ یہ ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پروان چڑھی۔اردو زبان کے خلاف تعصب غلط:عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ، اردو کے خلاف تعصب اس غلط فہمی سے پیدا ہوتا ہے کہ اردو ہندوستان کے لیے اجنبی ہے جبکہ یہ رائے غلط ہے کیونکہ اردو، مراٹھی اور ہندی کی طرح، ایک ہند آریائی زبان ہے۔
یہ ایک زبان ہے جس نے اس سرزمین پر جنم لیا۔ اردو ہندوستان میں مختلف ثقافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے ترقی اور فروغ پاتی رہی جو خیالات کا تبادلہ اور آپس میں بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ صدیوں میں اس نے پہلے سے زیادہ تطہیر حاصل کی اور کئی مشہور شاعروں کی پسند کی زبان بن گئی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ آج بھی بھارت کے عام لوگ جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ اردو زبان کے الفاظ سے بھری پڑی ہے، چاہے کوئی اسے جانتا بھی نہ ہو۔سپریم کورٹ کی2 رکنی بنچ نے اپنے تاریخی تبصرہ میں کہا کہ، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اردو کے الفاظ یا اردو سے ماخوذ الفاظ استعمال کیے بغیر ہندی میں روزانہ کی گفتگو نہیں ہو سکتی۔ لفظ ہندی خود فارسی کے لفظ ہندوی سے نکلا ہے! الفاظ کا یہ تبادلہ دونوں طرح سے ہوتا ہے کیونکہ اردو میں سنسکرت سمیت دیگر ہندوستانی زبانوں سے بھی بہت سے الفاظ مستعار لیے گئے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو الفاظ کا فوجداری اور دیوانی قانون دونوں میں عدالتی گفتگو پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ عدالت سے لیکر حلف نامہ تک، ہندوستانی عدالتوں کی زبان میں اردو کا اثر بہت زیادہ ہے۔اردو کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہیے:عدالت عظمیٰ نے کہا۔ ہمارے تصورات واضح ہونے دیں۔ زبان مذہب نہیں ہے۔ زبان مذہب کی نمائندگی بھی نہیں کرتی۔ زبان کا تعلق ایک برادری سے ہے، کسی علاقے سے ہے، لوگوں سے ہے۔ اور کسی مذہب سے نہیں۔ عدالت نے کہا، زبان ثقافت ہے۔
زبان کسی کمیونٹی اور اس کے لوگوں کے تہذیبی مارچ کو ماپنے کا پیمانہ ہے۔ اسی طرح اردو کا معاملہ ہے، جو گنگا جمنی تہذیب یا ہندوستانی تہذیب کا بہترین نمونہ ہے۔مولود بن زادی کا ایک اقتباس پڑھا گیا:جسٹس دھولیا نے فیصلے کا آغاز مولود بن زادی کے ایک اقتباس سے کیا۔ انھوں کہا، جب آپ کوئی زبان سیکھتے ہیں، تو آپ صرف نئی زبان بولنا اور لکھنا نہیں سیکھتے۔ آپ کھلے ذہن، آزاد خیال، روادار، مہربان اور تمام بنی نوع انسان کے لیے خیال رکھنا بھی سیکھیں۔مہاراشٹر کے ضلع اکولا میں میونسپل کونسل پتور کے ایک سابق ممبر کی طرف سے اٹھائی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ اردو زبان کا کسی بھی طرح سے استعمال جائز نہیں ہے۔ اس نے سب سے پہلے میونسپل کونسل سے رجوع کیا، جس نے اس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سائن بورڈ پر مراٹھی زبان کے علاوہ اردو کا استعمال جائز ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
