پاکستان
آج کے دور میں منفرد ایک بڑا آدمی سردار خالد ابراہیم
اطہر مسعود وانی
توہین عدالت کا ملزم سردار خالد ابرا ہیم ‘برین ہیمرج’ کا شکار ہوکر ایک رات ہسپتال میں رہنے کے بعد صبح سویرے اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔جسد خاکی کو راولاکوٹ لیجایا گیا جہاں سٹیڈیم میں نماز جنازہ کے بعد آبائی گائوں کوٹ متے خان میں سپرد خاک کر دیاگیا۔راولاکوٹ کے سٹیڈیم میں ہزاروں لوگ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ سٹیڈیم کے باہر بھی بڑی تعداد میں لوگ نماز جنازہ میں شریک تھے۔سردار خالد ابراہیم قیام پاکستان کے تقریبا دو ماہ بعدپیدا ہوئے اور71سال کی عمر میں وفات پاگئے۔وہ ریاست کشمیر کی اولین سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے رہنما اورپاکستان زیر انتظام کشمیرکے پہلے صدر سردار محمد ابرہیم خان کے فرزند تھے۔ سردار محمد ابراہیم خان کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ سرینگر کے علاقے آبی گزر گاہ میں میر واعظ کشمیر مولومی محمد یوسف شاہ کے مکان میں قیام کے دوران وہاں مسلم کانفرنس کے ایک غیر رسمی اجلاس میں قرار داد الحاق پاکستان منظور ہوئی۔تاریخی واقعات اور حقیقی طور پر بڑے لوگوں کے ماحول نے سردار خالد ابراہیم کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے جن کا اظہار ان کے کردار سے بخوبی ہوتا ہے۔جس بات کو درست سمجھتے،اس پہ ڈٹ جاتے ،چاہے ان کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو جائے۔چند ہفتے قبل پاکستان زیر انتظام کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرنے پر پاکستان زیر انتظام کشمیر کی ایپلٹ کورٹ ،سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے،حالانکہ پاکستان زیر انتظام کشمیر میں یہ اختیار ہائی کورٹ کا ہے،سردار خالد ابراہیم پر عدلیہ کی توہین کے الزام میں فرد جرم عائید کیا۔سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ۔لیکن گرفتار ہونے اور عدالت سے مجرم قرار دینے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔دیکھا جائے تو بات اصول کی ہے، وفات پاگئے تو کیا ہوا، اصول کی خاطر مثال قائم کرنے کے لئے اب اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان زیر انتظام کشمیر ان کے ” توہین عدالت” کا مجرم ہونے کی بابت فیصلہ کرے۔کیا توہین عدالت کے ملزم سردار خالد ابرہیم کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے ملکی،معاشرتی رواجات میں فوج اورعدلیہ تنقید سے بالاتر ہیں، ان پہ تنقید توہین مذہب کی طرح ہی ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔چناچہ آزاد کشمیر اسمبلی میں ججز سے متعلق تنقید پر سردار خالد ابراہیم کو بعد از وفات عدلیہ کی توہین کا مجرم قرار دینا عدلیہ کی حرمت،وقار،جاہ و جلال اور ٹھاٹھ باٹھ کے رواجات کی بقاء کے لئے از حد ضروری ہے۔مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہوتا ہے کہ انسان اپنی عمر کا وقت پورا ہونے پر ہی وفات پاتا ہے،باقی موت کے بہانے ہوتے ہیں کہ اس طرح مر گیا،اس وجہ سے مر گیا۔وفات جس وجہ سے بھی ہو،ہم یہی کہتے ہیں کہ اس کا وقت پورا ہو گیا تھا،باقی سب بہانے ہیں۔
میرے والد خواجہ عبدالصمد وانی1950میں اپنے دو ساتھیوں خواجہ محمد امین مختار اور حفیظ مانسبلی کے ہمراہ جموں کشمیر سے پاکستان زیر انتظام کشمیر پہنچے۔خواجہ عبدالصمد وانی نے اپنے رہنما چودھری غلام عباس کی قیادت میں جبکہ خواجہ محمد امین مختار نے سردار محمد ابراہیم خان کے ساتھ سیاسی سفر اختیار کیا اور1977کے مارشل لاء تک سردار محمد ابراہیم خان کے سیاسی ساتھی رہے۔انہیں سردار محمد ابراہیم خان کا ‘ رائٹ مین’ بھی کہا جاتا تھا۔سردار محمد ابراہیم خان اپنے بیٹے خالد ابراہیم کو خالدی کہہ کر پکارتے تھے اور خواجہ محمد امین مختار بھی سردار خالد ابراہیم کو ہمیشہ خالدی ہی کہتے،ان کے سامنے بھی اور ان کے تذکرے کے وقت بھی انہیں خالدی کے نام سے یاد کرتے تھے۔ان کے خالدی کہنے میں محبت واضح طور پر چھلکتی تھی۔
ذاتی اوصاف کے حامل سردار خالد ابرہیم خان کی شخصیت پر بڑے لوگوں کی صحبت کا اثر نمایاں رہا۔مال و دولت،نمود و نمائش سے بے پرواہ،غرور،تکبر ،جاہ و جلال سے عاری۔یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ہم کسی بڑی شخصیت( عہدے یا اختیار کے حوالے سے نہیں )سے پہلی بار ملاقات کرتے ہیں تو دل میں سوچتے ہیں کہ” یہ تو عام سا آدمی ہے، میرا ان سے متعلق تصور تو غلط نکلا”۔ایسی سوچ اس لئے ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ” بڑے آدمی ” کے لوازمات اس ے قطعی مختلف ہوتے ہیں جو انسان کو حقیقی طور پر بڑا آدمی بناتے ہیں۔ سردار خالد ابرہیم اپنے اصولوں کے معاملے میں سخت گیر ہونے کے باوجود ایک نرم مزاج انسان تھے،محبت کرنے والے ،مہمان نوازی کرنے والے۔کئی بار اپنے خاندان کے مختلف افراد کی سردار محمد ابراہیم خان سے ملاقات کے موقع پر دیکھنے میں آیا کہ ملازم موجود ہونے کے باوجود خالد ابراہیم خود چائے اور لوازمات پیش کرتے۔
یہ جملہ ہمیشہ سے دہرایا جاتا ہے کہ ”نہ جانے اچھے لوگ جلد کیوں مر جاتے ہیں؟” شاید قدرت کو زندگی کا امتحان بار بار مطلوب ہوتا ہے۔سردار خالد ابراہیم جیسے افرادزندہ ہوتے ہیں تو منفی رواجات کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں،مر جاتے ہیں تو ان کے مخالفین بھی ان کے اچھے کردار کے گواہ بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ مرنے کے بعد اس کے اچھے کردار کا اعتراف کرنا، اس کے اچھے کردار کی گواہی دینا صرف اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے ہی مترادف ہو سکتا ہے۔ ، مرنے کے بعد تو مرنے والے کے افعال و اعمال ہی شمار ہوں گے ، اللہ نے دوسرے کے لئے مادیت کی قربانی دینے، خود کو مشکل میں ڈال کر دوسروں کی مشکلات ،مسائل کے حل میں کام آنا،مصیبت زد ہ افراد کے کام آنے کو نیکی بتایا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں نیکی کو محض عبادات میں ہی محدود سمجھا جا تا ہے۔سماجی طور پر،معاشی طور پر،سیاسی طور پر ایسی نیکی کی راہ اختیار کرناجس میں مادیت کی قربانی کا جذبہ محیط ہو،یہی نیکی ہے،یہی اللہ کی راہ ہے جس پر چلنے کی،کاربند رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اللہ کو وفات پا چکے انسان کے معاملے میں انسانوں کی گواہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ہر انسان کے لئے اللہ تعالی کا اپنا پیمانہ ہے جس کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا۔اچھا کردار یہ کہ اچھی سوچ اور عمل کو مادیت پر قربان نہیں کرتے لیکن ایسے افراد کی زندگی میں لوگ انہیں اچھاشخص کہتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ” ہے تو یہ بہت اچھا آدمی لیکن ایسے قیمتی سکے کی مانند ہے جو ہے تو بہت قیمتی لیکن رائج الوقت نہیں ہے،آج کے دور میں یہ ” قیمتی سکہ” چلتا نہیں ہے،متروک ہو چکا ہے۔
سالہا سال پہلے راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹائون علاقے میں ایک سیاسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس کے مہمان خصوصی سردار خالد ابراہیم تھے۔تقریب کا اہتمام جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی جنرل سیکرٹری محترمہ نبیلہ ایڈووکیٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہونے کے حوالے سے کیا تھا۔اس موقع پر سردار خالد ابراہیم سے بات چیت ہوئی۔میں نے قریب ہی واقع اپنے گھر چلنے کی درخواست کی تو مسکرا کر کہنے لگے،آپ کے گھر کو میں اپنا ہی گھر سمجھتا ہوں۔سوشل میڈیا سے سردار خالد ابراہیم کو ”برین ہیمرج” کی اطلاع سے دلی صدمہ ہوا، سوچا تھا کہ اگلے روز ہسپتال جائوں گا لیکن کیا معلوم تھا کہ وہ اگلے روز صبح سویرے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے جس دنیا نے،جہاں کے لوگوں نے اس عظیم انسان کی قدر نہیں کی،اس کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ ہر حوالے سے حقدار تھے۔انسان مر جاتا ہے لیکن اس کا کردار رہتی دنیا تک ایک مثال کے طور پر زندہ رہتا ہے،خالد ابراہیم بھی ایک ایسا ہی شخص تھا۔
نوٹ : مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
