جموں و کشمیر
اینٹی کرپشن بیورو کی بڑی کارروائی، بد عنوانی کے الزام میں تین اعلیٰ انجینئر گرفتار
سری نگر، اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کو سرینگر میں دو علیحدہ بدعنوانی کے مقدمات درج کرتے ہوئے ایک بڑے گھپلے کا پردہ فاش کیا ہے۔ ان مقدمات میں فلڈ اسپِل چینل ڈویژن ناربل کے دو سابق ایگزیکٹو انجینئرز اور ایک اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر کو حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ کیس ہوکرسر ویٹ لینڈ میں غیرشفاف ڈریجنگ اور سرینگر کے گگری بل علاقے میں غیرقانونی تعمیرات کے معاملات سے متعلق ہے۔
اینٹی کرپشن بیورو کے ایس ایس پی جاوید حسن بٹ نے ہفتے کو سری نگر میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ اے سی بی نے شکایت موصول ہونے کے بعد بد عنوانی کے سلسلے میں دو کیس درج کئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہو کر سر ویٹ لینڈ نارہ بل میں ڈرجنگ کے دوران مبینہ بد عنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور پیشہ وارانہ بد انتظامی کے الزامات کے سلسلے میں اے سی بی نے باضابط طورپر کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جولائی 2018میں چیف انجینئر آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے ہوکر سر لینڈ میں ڈرجنگ کی خاطر ایم ایس ریچ ڈرجنگ لمیٹیڈ کو ٹھیکہ الاٹ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کی شرط کے مطابق کھودے گئے مواد کو ہو کر سر ویٹ لینڈ کی حدود میں ڈالنے سے گریز کرنے کو کہا گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق ٹرانسپورٹیشن کے نرخوں میں ہیر پھیر، کھدائی شدہ مواد کی غیر مناسب نقل و حمل اور ٹھیکے میں شامل اشیا کی مقدار میں دانستہ تبدیلیوں کے نتیجے میں ریاستی خزانے کو تقریباً 2.29 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ ویٹ لینڈ کے ماحولیاتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچا گیا۔
ایس ایس پی کے مطابق سابق ایگزکٹیو انجینئر سراج الدین شاہ اور سابق ایگزیکٹیو انجینئر غلام احمد بٹ ، سابق اے ڈبل ای عرفان احمد ریشی کو ملی بھگت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ ہو رہی ہے۔
ایس ایس پی جاوید حسن بٹ نے مزید بتایا کہ دوسرا کیس ایف آئی آر نمبر 08/2025 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو گگری بل، سرینگر میں غیرقانونی تعمیراتی اجازت ناموں سے متعلق ہے۔ یہ کارروائی مسجد شریف گگری بل کی انتظامیہ کمیٹی کی شکایت پر شروع کی گئی تھی، جس میں ایک شخص افتخار صادق پر تقریباً 12 کنال کی سرکاری زمین پر غیرقانونی ہوسٹل کی عمارتیں تعمیر کرنے کا الزام ہے۔
تفتیش میں انکشاف ہوا کہ افتخار صادق کو پانچ ہوسٹل کی عمارتوں کی اجازت دی گئی، حالانکہ جے اینڈ کے بلڈنگ بائی لاز 2011 کے تحت ایک ہوسٹل کے لیے کم از کم تین کنال زمین کی شرط ہے۔ ابتدائی اجازت نامے صرف تین عمارتوں کے لیے تھے، تاہم بعد میں دو مزید عمارتوں کی اجازت بھی غیرقانونی طور پر جاری کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تعمیر شدہ ڈھانچے ہوسٹل کے بجائے ریزورٹ جیسے لگتے ہیں۔
ایس ایس پی کے مطابق لاوڈا، ٹاون پلاننگ آرگنائزیشن اور کسٹوڈین پراپرٹی ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے خلاف باضابط طورپر کیس درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مذکورہ اداروں کے سرکاری اہلکاروں نے ذاتی مالی مفادات کے لیے افتخار صادق کے ساتھ سازباز کیا۔ اس مقدمے میں تفتیش جاری ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
