ہندوستان
ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے:ڈاکٹر شمس اقبال
نئی دہلی، اردو کو غیر اردو داں تک پہنچانے اور اردو رسم الخط کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب بھی ہے اور تہذیب کی حفاظت پیٹ کے لئے نہیں کرتے, ساتھ ہی کہاکہ ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ڈائرکٹر کے عہدہ پر ایک سال مکمل ہونے پر ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے ڈائرکٹر شپ کی ایک سال کی مدت کے دوران آپ اپنی کارکردگی، دقتیں، مسائل اور حصولیابیوں کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے درمیان اس ادارے کی ادبی، ثقافتی اور دیگر سرگرمیاں دیکھ لیجیے وہ خود ہی میری حصولیابیوں، دقتوں اور مسائل کی کہانیاں بیان کریں گی۔ اس ایک سال کے عرصے میں بہت سی سطحوں پر دقتیں بھی آئیں اور بہت سارے مسائل بھی سامنے آئے مگر میں نے حسن تدبیر اور وزارت تعلیم حکومت ہند کے تعاون سے ان تمام دقتوں اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور میرے رفقائے کار کا تعاون بھی اس میں شامل رہا، اس لیے موانع اور مشکلات کے باوجود قومی اردو کونسل کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں، مختلف علاقوں میں کتاب میلوں کا انعقاد ہوا، کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور سمیناروں کے علاوہ دیگر ثقافتی سلسلے بھی جاری رہے اور ممکنہ طو رپر جو کچھ ہوسکتا تھا وہ میں نے مقدور بھر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مجھے کامیابی ملی یا نہیں اس کا فیصلہ محبانِ اردو ہی کرسکیں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ تقریباً چار سالوں سے مالی معاونت کی ساری اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں ا س کی وجوہات کیا ہیں؟ کے جواب انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ وجوہات کی بناپر کچھ اسکیمیں تعطل کا شکار رہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ قومی اردو کونسل کی جو بنیادی اسکیمیں ہیں ان میں کسی طرح کا جمود یا تعطل آیا ہو، ڈسٹینس ایجوکیشن، سرٹی فیکٹ ڈپلوما کورس اور CABA-MDTP کی ساری اسکیمیں حسب دستور جاری رہیں، صرف کچھ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے کتابوں کی خریداری اور مسودہ پر مالی تعاون کی اسکیمیں ضرور متاثر ہوئیں اور نئی درخواستیں نہیں منگوائی جاسکیں۔
اردو کونسل کا کتاب میلوں اور سمیناروں کے انعقاد پر بہت زور ہے کیا اردو زبان و ادب کا ان چیزوں سے فروغ ممکن ہے؟کے سوال کے جواب میں ڈائرکٹر اقبال نے کہاکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کی بہت ساری صورتیں ہیں ان میں ایک صورت کتاب میلے اور سمیناروں کا انعقاد بھی ہے۔ کتاب میلہ صرف ناشرین اور تاجرانِ کتب کا ایک اجتماع نہیں ہوتا بلکہ کلچرل ڈسکورس کا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں مختلف زبان اور ادبیات سے تعلق رکھنے والو ں کے درمیان آئیڈیاز کا ایکسچینج ہوتا ہے اور ادب و ثقافت کی صورتِ حال پر صحت مند مکالمے کی صورت بھی نکلتی ہے اور اسی میلے کے ذریعے ناشرین کتب کو بھی ایک اچھا پلیٹ فارم بھی مل جاتا ہے۔ کتاب میلہ خواندگی کو فروغ دینے کا بھی ایک مؤثر اور مضبوط وسیلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لٹریسی کمپین (Literacy Campaign) کے لیے بھی یہ تکنیک اپنائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں خواندگی کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں بھی کتاب میلے کو خواندگی مہم سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتاب میلوں کی وجہ سے بہت سے ایسے افراد جن تک کتاب کی رسائی نہیں ہوپاتی یا جو اپنے ذوق کی کتابیں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان تک کتابیں پہنچ جاتی ہیں۔ خاص طور پر جہاں نہ کتابوں کی دکانیں ہیں اور نہ ہی کتابوں تک رسائی کا کوئی اور انتظام ہے وہاں کتاب میلوں کے انعقاد کے بہت مفید اور مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، اسی طرح سمیناروں کے ذریعے ادب کے اہم رجحانات اور رویوں سے ہم نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں بہت سے تجاویز اور مشوروں سے بھی آشنا ہوتے ہیں، اس لیے اگر کتاب میلے اور سمینار کا مثبت استعمال کیا جائے تواردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں یہ بہترین وسیلہ اور ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
آپ کے دور میں کتاب میلے اور نمائش کتب میں خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اس کے کیا کچھ مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں؟کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ کتاب میلے ماضی میں بھی منعقد ہوتے رہے ہیں اور بہت سے تاریخ ساز میلے بھی ہوئے اور ان میلوں میں کثیر تعدادمیں کتابیں فروخت بھی ہوئیں۔ کتاب میلہ ہمارے مینڈٹ میں شامل ہے، اسی لیے میں نے خواندگی مہم کو فروغ دینے اور کتابوں کی نکاسی کے مقصد سے نہ صرف کتاب میلے کے انعقاد پر زور دیا بلکہ مختلف علاقوں میں نمائش کتب کا بھی اہتمام کیا اور یقینی طور پر اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ اگر ایسے علاقوں کی تلاش کی جائے جہاں ایسا کوئی انتظام یا اہتمام نہیں ہے تو یقینی طور پر اور بھی بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اس سلسلے میں ہماری کوششیں جاری ہیں۔ ہم ایسے تمام علاقوں کی جستجو میں ہیں جہاں کتابوں کی نمائش کا چھوٹے یا وسیع پیمانے پر اہتمام و انتظام کیا جائے، اس سلسلے میں ہمیں محبانِ اردو سے بھی درخواست ہے کہ کچھ ایسے علاقوں کی نشاندہی فرمائیں جہاں اردو کتابوں کی رسائی ضروری ہو۔
اس سوال پر کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب کرنے کے لیے کونسل کے پاس کیا منصوبے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب لانے کے لیے کونسل کے پاس کئی منصوبے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ عنوان کے تحت نئی نسل کو پرگتی میدان کے عالمی کتاب میلے میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرایا گیا تھا جس میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور معاصر ادب کے مسائل و متعلقات کے حوالے سے گفتگو کی۔ نوجوانوں نے یہ محسوس کیا کہ پہلی بار انھیں قومی اردو کونسل کے توسط سے ایک بڑاپلیٹ فارم میسرآیا ہے جہاں وہ نہایت خوداعتمادی کے ساتھ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیے کئی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو قومی اردو کونسل نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی بھی کرتی رہی ہے۔
س: بچوں کی بہت بڑی دنیا ہے اردوکونسل بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کیا کررہی ہے؟ڈاکٹر شمس اقبال نے بتایا کہ بچوں کے ادب کے فروغ پر کونسل کا خصوصی ارتکاز ہے اس لیے گذشتہ ایک سال کے دوران ادبِ اطفال پر بہت سے ورکشاپ منعقد کیے گئے اور بچوں کے ادیبوں کو ورکشاپ میں بطور خاص مدعو کیا گیا تاکہ وہ بچو ں کے لیے الگ الگ موضوعات پر تخلیقی مواد تیار کرسکیں، چنانچہ ورکشاپ کی وجہ سے بچوں کے لیے خاصا تخلیقی مواد تیار ہوگیا اور اب قومی اردو کونسل عالمی معیار کے مطابق اس تخلیقی مواد کو کتابی صورت میں شائع کررہی ہے جس میں بچوں کی نفسیات اور ترجیحات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ تمام کتابیں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں تاریخی اور ثقافتی وراثت، سائنس فکشن، نامور شخصیات کی سوانح، تہذیبی و لسانی تنوع، صنفی مساوات، انٹرنیٹ سیفٹی یا حفاظتی تدابیر، مالیاتی خواندگی، جسمانی اثباتیت، رویہ جاتی مسائل، ہجرت، خاندانی نامیات جیسے اہم موضوعات پر تیار کی گئی ہیں۔ یہ کتابیں باتصویر بھی ہیں اور نہایت معلوماتی بھی، جن سے بچوں کی دلچسپی میں نہ صرف اضافہ ہوگابلکہ وہ ذوق و شوق کے ساتھ یہ کتابیں پڑھیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ کونسل سائنسی موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں دیتی توسائنسی اور تکنیکی موضوعات پر کونسل کا اشاعتی منصوبہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قومی ارد وکونسل سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماضی میں بھی کتابیں شائع کرتی رہی ہے اور اس کے لیے ایک خاص پینل بھی ہے جس کے تحت نئے نئے سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماہرین کی میٹنگ کے بعد سائنسی اور تکنیکی مواد تیار کیا جاتا ہے اور پھر کتابی شکل میں اسے شائع کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی کتابیں قومی اردو کونسل سے شائع ہوں جو سائنس اور تکنیک کے تعلق سے بچوں اور نوجوانوں کی معلومات میں اضافہ کرسکیں اور عصر حاضر کے سائنسی اور تکنیکی رجحانات سے انھیں مکمل طور پر روشناس کراسکیں۔
اردو رسم الخط کی بقا اور تحفظ کے لیے کونسل کیا اقدامات ہیں، کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اردو رسم الخط اردو زبان کی روح ہے اور اس کے تحفظ کے لیے کونسل کوشاں ہے۔ اردو کونسل ہر سال اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو اردو رسم الخط سکھا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے رسم الخط کے تحفظ کے ساتھ ہم اردو زبان و ادب کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کریں اور جو علاقے اردو کے لیے نامانوس یا اجنبی ہیں ان علاقوں تک بھی ہماری زبان کی رسائی ممکن ہوسکے۔ آج بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جو رومن یا دیوناگری رسم الخط میں اردو کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں تو ایسے قارئین کے لیے بھی ہم اب ذولسانی کتابوں کی اشاعت پر غور کررہے ہیں۔
س: کیا کونسل نے ان امکانی علاقوں کی تلاش کی ہے جہاں اردو زبان کو فروغ دیا جاسکتا ہے؟کے جواب میں ڈائرکٹر صاحب نے کہا کہ کونسل ہمیشہ سے نئے امکانی علاقوں کی تلاش میں رہی ہے۔ قومی اردو کونسل نے شمال مشرق کے کئی ریاستوں میں اردو کمپیوٹر سینٹر اور فاصلاتی تعلیم کے مراکز قائم کیے ہیں اور ان علاقوں میں اردو خواندگی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے اور وہاں بھی اردو کا ذوق شوق تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اب ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ان علاقائی زبانوں سے اردو کا تال میل قائم کیا جائے تاکہ دونوں زبانوں کے مابین لین دین کی کوئی صورت نکل سکے۔ اس تعلق سے ہم وہاں کے علاقائی زبانوں میں لغت اور فرہنگ پر بھی کام کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ اردو قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کے جواب انہوں نے کہاکہ اردو کے لیے میرا تو ہمیشہ ایک مثبت پیغام رہا ہے کہ ہم منفی سوچ کے حصار سے باہر نکلیں اور مخلصانہ جذبے کے ساتھ اردو کاز کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو ہمارے راستے کی ساری مشکلات اور رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔گھر گھر اردو پہنچانے کے لیے جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ پرخلوص جذبے اور جنون کی ضرورت ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
