ہندوستان
ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے:ڈاکٹر شمس اقبال
نئی دہلی، اردو کو غیر اردو داں تک پہنچانے اور اردو رسم الخط کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب بھی ہے اور تہذیب کی حفاظت پیٹ کے لئے نہیں کرتے, ساتھ ہی کہاکہ ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ڈائرکٹر کے عہدہ پر ایک سال مکمل ہونے پر ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے ڈائرکٹر شپ کی ایک سال کی مدت کے دوران آپ اپنی کارکردگی، دقتیں، مسائل اور حصولیابیوں کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے درمیان اس ادارے کی ادبی، ثقافتی اور دیگر سرگرمیاں دیکھ لیجیے وہ خود ہی میری حصولیابیوں، دقتوں اور مسائل کی کہانیاں بیان کریں گی۔ اس ایک سال کے عرصے میں بہت سی سطحوں پر دقتیں بھی آئیں اور بہت سارے مسائل بھی سامنے آئے مگر میں نے حسن تدبیر اور وزارت تعلیم حکومت ہند کے تعاون سے ان تمام دقتوں اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور میرے رفقائے کار کا تعاون بھی اس میں شامل رہا، اس لیے موانع اور مشکلات کے باوجود قومی اردو کونسل کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں، مختلف علاقوں میں کتاب میلوں کا انعقاد ہوا، کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور سمیناروں کے علاوہ دیگر ثقافتی سلسلے بھی جاری رہے اور ممکنہ طو رپر جو کچھ ہوسکتا تھا وہ میں نے مقدور بھر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مجھے کامیابی ملی یا نہیں اس کا فیصلہ محبانِ اردو ہی کرسکیں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ تقریباً چار سالوں سے مالی معاونت کی ساری اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں ا س کی وجوہات کیا ہیں؟ کے جواب انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ وجوہات کی بناپر کچھ اسکیمیں تعطل کا شکار رہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ قومی اردو کونسل کی جو بنیادی اسکیمیں ہیں ان میں کسی طرح کا جمود یا تعطل آیا ہو، ڈسٹینس ایجوکیشن، سرٹی فیکٹ ڈپلوما کورس اور CABA-MDTP کی ساری اسکیمیں حسب دستور جاری رہیں، صرف کچھ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے کتابوں کی خریداری اور مسودہ پر مالی تعاون کی اسکیمیں ضرور متاثر ہوئیں اور نئی درخواستیں نہیں منگوائی جاسکیں۔
اردو کونسل کا کتاب میلوں اور سمیناروں کے انعقاد پر بہت زور ہے کیا اردو زبان و ادب کا ان چیزوں سے فروغ ممکن ہے؟کے سوال کے جواب میں ڈائرکٹر اقبال نے کہاکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کی بہت ساری صورتیں ہیں ان میں ایک صورت کتاب میلے اور سمیناروں کا انعقاد بھی ہے۔ کتاب میلہ صرف ناشرین اور تاجرانِ کتب کا ایک اجتماع نہیں ہوتا بلکہ کلچرل ڈسکورس کا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں مختلف زبان اور ادبیات سے تعلق رکھنے والو ں کے درمیان آئیڈیاز کا ایکسچینج ہوتا ہے اور ادب و ثقافت کی صورتِ حال پر صحت مند مکالمے کی صورت بھی نکلتی ہے اور اسی میلے کے ذریعے ناشرین کتب کو بھی ایک اچھا پلیٹ فارم بھی مل جاتا ہے۔ کتاب میلہ خواندگی کو فروغ دینے کا بھی ایک مؤثر اور مضبوط وسیلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لٹریسی کمپین (Literacy Campaign) کے لیے بھی یہ تکنیک اپنائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں خواندگی کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں بھی کتاب میلے کو خواندگی مہم سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتاب میلوں کی وجہ سے بہت سے ایسے افراد جن تک کتاب کی رسائی نہیں ہوپاتی یا جو اپنے ذوق کی کتابیں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان تک کتابیں پہنچ جاتی ہیں۔ خاص طور پر جہاں نہ کتابوں کی دکانیں ہیں اور نہ ہی کتابوں تک رسائی کا کوئی اور انتظام ہے وہاں کتاب میلوں کے انعقاد کے بہت مفید اور مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، اسی طرح سمیناروں کے ذریعے ادب کے اہم رجحانات اور رویوں سے ہم نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں بہت سے تجاویز اور مشوروں سے بھی آشنا ہوتے ہیں، اس لیے اگر کتاب میلے اور سمینار کا مثبت استعمال کیا جائے تواردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں یہ بہترین وسیلہ اور ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
آپ کے دور میں کتاب میلے اور نمائش کتب میں خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اس کے کیا کچھ مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں؟کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ کتاب میلے ماضی میں بھی منعقد ہوتے رہے ہیں اور بہت سے تاریخ ساز میلے بھی ہوئے اور ان میلوں میں کثیر تعدادمیں کتابیں فروخت بھی ہوئیں۔ کتاب میلہ ہمارے مینڈٹ میں شامل ہے، اسی لیے میں نے خواندگی مہم کو فروغ دینے اور کتابوں کی نکاسی کے مقصد سے نہ صرف کتاب میلے کے انعقاد پر زور دیا بلکہ مختلف علاقوں میں نمائش کتب کا بھی اہتمام کیا اور یقینی طور پر اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ اگر ایسے علاقوں کی تلاش کی جائے جہاں ایسا کوئی انتظام یا اہتمام نہیں ہے تو یقینی طور پر اور بھی بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اس سلسلے میں ہماری کوششیں جاری ہیں۔ ہم ایسے تمام علاقوں کی جستجو میں ہیں جہاں کتابوں کی نمائش کا چھوٹے یا وسیع پیمانے پر اہتمام و انتظام کیا جائے، اس سلسلے میں ہمیں محبانِ اردو سے بھی درخواست ہے کہ کچھ ایسے علاقوں کی نشاندہی فرمائیں جہاں اردو کتابوں کی رسائی ضروری ہو۔
اس سوال پر کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب کرنے کے لیے کونسل کے پاس کیا منصوبے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب لانے کے لیے کونسل کے پاس کئی منصوبے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ عنوان کے تحت نئی نسل کو پرگتی میدان کے عالمی کتاب میلے میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرایا گیا تھا جس میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور معاصر ادب کے مسائل و متعلقات کے حوالے سے گفتگو کی۔ نوجوانوں نے یہ محسوس کیا کہ پہلی بار انھیں قومی اردو کونسل کے توسط سے ایک بڑاپلیٹ فارم میسرآیا ہے جہاں وہ نہایت خوداعتمادی کے ساتھ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیے کئی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو قومی اردو کونسل نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی بھی کرتی رہی ہے۔
س: بچوں کی بہت بڑی دنیا ہے اردوکونسل بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کیا کررہی ہے؟ڈاکٹر شمس اقبال نے بتایا کہ بچوں کے ادب کے فروغ پر کونسل کا خصوصی ارتکاز ہے اس لیے گذشتہ ایک سال کے دوران ادبِ اطفال پر بہت سے ورکشاپ منعقد کیے گئے اور بچوں کے ادیبوں کو ورکشاپ میں بطور خاص مدعو کیا گیا تاکہ وہ بچو ں کے لیے الگ الگ موضوعات پر تخلیقی مواد تیار کرسکیں، چنانچہ ورکشاپ کی وجہ سے بچوں کے لیے خاصا تخلیقی مواد تیار ہوگیا اور اب قومی اردو کونسل عالمی معیار کے مطابق اس تخلیقی مواد کو کتابی صورت میں شائع کررہی ہے جس میں بچوں کی نفسیات اور ترجیحات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ تمام کتابیں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں تاریخی اور ثقافتی وراثت، سائنس فکشن، نامور شخصیات کی سوانح، تہذیبی و لسانی تنوع، صنفی مساوات، انٹرنیٹ سیفٹی یا حفاظتی تدابیر، مالیاتی خواندگی، جسمانی اثباتیت، رویہ جاتی مسائل، ہجرت، خاندانی نامیات جیسے اہم موضوعات پر تیار کی گئی ہیں۔ یہ کتابیں باتصویر بھی ہیں اور نہایت معلوماتی بھی، جن سے بچوں کی دلچسپی میں نہ صرف اضافہ ہوگابلکہ وہ ذوق و شوق کے ساتھ یہ کتابیں پڑھیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ کونسل سائنسی موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں دیتی توسائنسی اور تکنیکی موضوعات پر کونسل کا اشاعتی منصوبہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قومی ارد وکونسل سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماضی میں بھی کتابیں شائع کرتی رہی ہے اور اس کے لیے ایک خاص پینل بھی ہے جس کے تحت نئے نئے سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماہرین کی میٹنگ کے بعد سائنسی اور تکنیکی مواد تیار کیا جاتا ہے اور پھر کتابی شکل میں اسے شائع کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی کتابیں قومی اردو کونسل سے شائع ہوں جو سائنس اور تکنیک کے تعلق سے بچوں اور نوجوانوں کی معلومات میں اضافہ کرسکیں اور عصر حاضر کے سائنسی اور تکنیکی رجحانات سے انھیں مکمل طور پر روشناس کراسکیں۔
اردو رسم الخط کی بقا اور تحفظ کے لیے کونسل کیا اقدامات ہیں، کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اردو رسم الخط اردو زبان کی روح ہے اور اس کے تحفظ کے لیے کونسل کوشاں ہے۔ اردو کونسل ہر سال اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو اردو رسم الخط سکھا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے رسم الخط کے تحفظ کے ساتھ ہم اردو زبان و ادب کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کریں اور جو علاقے اردو کے لیے نامانوس یا اجنبی ہیں ان علاقوں تک بھی ہماری زبان کی رسائی ممکن ہوسکے۔ آج بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جو رومن یا دیوناگری رسم الخط میں اردو کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں تو ایسے قارئین کے لیے بھی ہم اب ذولسانی کتابوں کی اشاعت پر غور کررہے ہیں۔
س: کیا کونسل نے ان امکانی علاقوں کی تلاش کی ہے جہاں اردو زبان کو فروغ دیا جاسکتا ہے؟کے جواب میں ڈائرکٹر صاحب نے کہا کہ کونسل ہمیشہ سے نئے امکانی علاقوں کی تلاش میں رہی ہے۔ قومی اردو کونسل نے شمال مشرق کے کئی ریاستوں میں اردو کمپیوٹر سینٹر اور فاصلاتی تعلیم کے مراکز قائم کیے ہیں اور ان علاقوں میں اردو خواندگی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے اور وہاں بھی اردو کا ذوق شوق تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اب ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ان علاقائی زبانوں سے اردو کا تال میل قائم کیا جائے تاکہ دونوں زبانوں کے مابین لین دین کی کوئی صورت نکل سکے۔ اس تعلق سے ہم وہاں کے علاقائی زبانوں میں لغت اور فرہنگ پر بھی کام کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ اردو قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کے جواب انہوں نے کہاکہ اردو کے لیے میرا تو ہمیشہ ایک مثبت پیغام رہا ہے کہ ہم منفی سوچ کے حصار سے باہر نکلیں اور مخلصانہ جذبے کے ساتھ اردو کاز کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو ہمارے راستے کی ساری مشکلات اور رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔گھر گھر اردو پہنچانے کے لیے جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ پرخلوص جذبے اور جنون کی ضرورت ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
