جموں و کشمیر
سری نگر پولیس کا دہشت گرد معاونین کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، درجنوں مقامات پر چھاپے
سری نگر،جموں و کشمیر پولیس نے غیر قانونی سرگرمی ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج معاملات کی تحقیقات کے سلسلے میں دہشت گرد تنظیموں کے معاونین کے خلاف سری نگر شہر کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر تلاشیاں اور چھاپے مارے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائیاں دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کرنے اور علاقے میں امن و امان کو مستحکم کرنے کے مقصد سے انجام دی گئیں۔ تلاشیاں قانونی تقاضوں کے تحت، ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں، اعلیٰ پولیس افسران کی نگرانی میں عمل میں لائی گئیں۔
پولیس نے جن افراد کے مکانات پر چھاپے مارے ان میں متعدد ایسے افراد شامل ہیں جن کے خلاف پہلے سے ہی مختلف تھانوں میں یو اے پی اے اور اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔جن افراد کے گھروں کی تلاشی لی گئی ان کی تفصیلات حسبِ ذیل ہیں:
جاوید احمد نجار ساکن زیباکدل، جو متعدد ایف آئی آرز بشمول قتل، اقدام قتل اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمات میں ملوث ہیں۔
عادل احمد صوفی ساکن رتھ پورہ عیدگاہ، جس کے خلاف 2024 میں یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج ہے۔
شبیر احمد گنائی ساکن گنائی محلہ نیو تھید، جو 2019 میں یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کیس میں ملوث ہے۔
شیخ فیصل رشید ولد عبدالرشید شیخ ساکن فردوس کالونی سیدہ پورہ اور مومن جووری گوجری، دونوں سنگین مقدمات میں مطلوب۔
رئیس احمد نجار، احتشام بلال اور عامر صدیق نجار، جو حال ہی میں درج کیس میں ملوث پائے گئے ہیں۔
مبشر رشید، مزمل خورشید اور مہرہان خان، جو یو اے پی اے ایکٹ کے مختلف دفعات کے تحت کیسوں میں نامزد ہیں۔
عاشق حسین بٹ، فاروق احمد ڈار، برہان احمد شاہ اور دیگر کئی افراد جن پر اقدام قتل، اسلحہ ایکٹ اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات درج ہیں۔
عاشق حسین بٹ ساکن درباغ، جن پر 2021 میں اقدام قتل اور دیگر سنگین الزامات کے تحت کیس درج ہے۔
فاروق احمد ڈار ساکن باغوان پورہ، جو یو اے پی اے ایکٹ کے تحت ملوث ہیں۔
برہان احمد شاہ ساکن زامپاکدل سری نگر، جو اسلحہ ایکٹ اور یو اے پی اے ایکٹ کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
الطاف احمد ڈار اور محمد آصف ناتھ، دونوں کے خلاف 2022 میں اسلحہ ایکٹ اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کیس درج ہیں۔
عمر حمید شیخ ساکن اسار کالونی حضرتبل، جو 2020 میں اقدام قتل، سازش اور دہشت گردی کے مقدمات میں شامل ہیں۔
توحید احمد اورشبیر احمد بٹ دونوں 2018 کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
الیاس احمد ساکن ابو بکر لین لالبازار، جو یو اے پی اے ایکٹ کے تحت ملوث ہیں۔
منظور احمد بٹ ساکن حمزہ کالونی صورہ، جن پر یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔
طاؤوس احمد گڈا ساکن ہمدانیا کالونی بامینہ، جو اسلحہ ایکٹ اور یو اے پی اے ایکٹ میں ملوث ہیں۔
جنید احمد پرے عرف بِلّا ساکن باری پورہ، جو پی ایس اے کے تحت ہیں۔
معراج الدین خان عرف صحبہ ساکن خانقاہ سوختہ نوہ کدل، جن پر دہشت گردی کے الزامات ہیں۔
مصور نبی بٹ ساکن وانگان پورہ، جو مختلف دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
آرش کول ساکن دلال محلہ نوا بازار سری نگر، جو یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کیس میں شامل ہیں۔
شاکر فاروق بٹ ساکن شاہ محلہ نواب بازار، جو سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
بشارت احمد بزاز ساکن مالک آگان فتح کاڈال سری نگر (پی ایس اے کے تحت ہیں)۔
فرقان نذیر ساکن اسلام یار بل زین کدل سری نگر۔
ذلفقار احمد نجار ساکن رفاکی کوچہ اردو بازار سری نگر، جو قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین مقدمات میں ملوث ہیں۔
مومن احمد شیخ ساکن بٹیار عالی کدل سری نگر۔قیصر الطاف حکیم ساکن سید حمیدپورہ نواب بازار۔منظور احمد ڈن پوش ساکن گنز کھڈ ڈب ٹال۔سجاد احمد گلکار ساکن پاندان نوہٹہ (ہلاک شدہ دہشت گرد)۔
عاشق حسین رنگریز ساکن اقبال مارکیٹ جامع مسجد۔فیضان نثار رنگریز ساکن اندر وانی نائد کدل سری نگر، جن پر اقدام قتل اور دہشت گردی کے مقدمات ہیں۔
عاقب لطیف وانی ساکن مومہ خان محلہ،فاروق احمد وانی ساکن کاٹھی دروازہ۔سید احمد پریمو ساکن مومخان محلہ بادامواری۔
سید اسرار قادری ساکن قریشی محلہ لالبازار، جو یو اے پی اے ایکٹ، 153اے اور 505 آئی پی سی کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
جاسیا نذیر دختر نذیر احمد بٹ ساکن کھنموہ، جو یو اے پی اے ایکٹ میں شامل ہیں۔
بشیر سلطان بٹ ساکن شنک پورہ نوگام، جو اسلحہ ایکٹ اور دہشت گردی کے الزامات میں ملوث ہیں۔
ذرائع کے مطابق چھاپوں کا مقصد دہشت گرد معاونین کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنا، ان کے نیٹ ورک کو توڑنا اور امن دشمن عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرنا تھا۔ اس دوران نہ صرف ماضی کے مقدمات کی چھان بین کو آگے بڑھایا گیا بلکہ نئے شواہد جمع کر کے مستقبل میں دہشت گردی کے خطرات کو روکنے کی بنیاد ڈالی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سری نگر اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے سہارے وجود پانے والے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔
حکام نے واضح کیا کہ جو بھی شخص امن کو سبوتاژ کرنے یا دہشت گردی کے فروغ میں ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ ریاست میں دیرپا امن قائم رکھا جا سکے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
