جموں و کشمیر
پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کوبین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہئے: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ
موجودہ صورتحال مشکل اور حساس،پاکستان ایک غیر ذمہ دار اور بدمعاش ملک
کہاآپریشن سندور ،ہندستان کی دہشت گردی کےخلاف اب تک کی سب سے دلیرانہ کارروائی ،کامیابی پرقوم کاسرفخر سے بلند
’بات چیت صرف دہشت گردی اورPoKکے بارے میں ہوگی، دہشت گردانہ حملہ اب جنگ کی کارروائی سمجھا جائے گا‘
سری نگر :جے کے این ایس: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کوہندستان کی دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے دلیرانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے جمعرات کویہ واضح کیاکہ بات چیت صرف دہشت گردی اورپاکستانی زیرقبضہ کشمیرکے بارے میں ہوگی۔موجودہ صورتحال کو مشکل اور حساس قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں فوجیوں کے درمیان موجود ہونے پر بہت فخر محسوس کرتاہوں۔وزیردفاع نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ہندوستانی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو اب جنگ کی کارروائی کے طور پر سمجھا جائے گا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک’غیر ذمہ دار اور بدمعاش قوم‘ قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں لایا جانا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے بھارت کوعدم تشدد کاعلمبردار اور پاکستان کو دہشت گردی وتشددکاپیروکار قرار دیتے ہوئے اسلام آبادکوعالمی مالیاتی بینک کی جانب سے دئیے گئے قرضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہاکہ جہاں پاکستان کھڑا ہوتاہے ،وہاں سے لائن لگ جاتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرکے ایک روزہ دورے پر جمعرات کی صبح آرمی چیف جنرل اوپیندردویدی کے ہمراہ سری نگر پہنچنے کے بعدوزیردفاع راجناتھ سنگھ نے سری نگر کی بادامی باغ چھاو ¿نی میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر سخت سوال اٹھائے ۔انہوںنے بین الاقوامی برادری کو ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہاکہ میں پوری دنیا سے پوچھتا ہوں کی ایسی غیر ذمہ دار اور بدمعاش قوم(پاکستان) کےلئے جوہری ہتھیار رکھنا محفوظ ہے؟۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہاکہ میرا ماننا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے بھارت کوعدم تشدد کاعلمبردار اور پاکستان کو دہشت گردی وتشددکاپیروکار قرار دیتے ہوئے اسلام آبادکوعالمی مالیاتی بینک کی جانب سے دئیے گئے قرضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہاکہ جہاں پاکستان کھڑا ہوتاہے ،وہاں سے لائن لگ جاتی ہے ۔راجناتھ سنگھ، جو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ہمراہ تھے، نے آپریشن سندور میں ہندوستانی فوج کے کردار کی تعریف کی، جو کہ ایک حالیہ انسداد دہشت گردی آپریشن ہے جس نے قومی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے فوجی جوانوں اورافسروں سے مخاطب ہوکر کہاکہ میں آپ کے درمیان ایسے ناگفتہ بہ حالات میں موجود ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ آپریشن سندور ،ہندستان کی دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے دلیرانہ کارروائی ہے،جو ہندوستان کو فخر کامقام ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہندوستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔وزیردفاع نے کہاکہ بات چیت صرف دہشت گردی اورپاکستانی زیرقبضہ کشمیرکے بارے میں ہوگی۔یہ بتاتے ہوئے کہ ہندوستان نے دکھایا ہے کہ جب وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بات آتی ہے تو وہ جرات مندانہ فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچائے گا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے انہوں نے پہلگام میں ہندوستان کی پیشانی پر زخم لگانے کی کوشش کی لیکن ہندوستان نے ان کے سینے پر وار کیا۔موجودہ صورتحال کو مشکل اور حساس قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں فوجیوں کے درمیان موجود ہونے پر بہت فخر محسوس کرتاہوں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قابل قیادت میں، ہماری افواج نے آپریشن سندورکے دوران جو کچھ کیا اس نے پوری قوم کو فخر سے بھر دیا ہے۔وزیردفاع نے سرحد کے اس پار درست اور اچھی طرح سے کئے گئے حملوں کے لیے فوج کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا، آپ نے پاکستان کی چوکیوں اور بنکروں کو اتنی طاقت سے گرایا کہ دشمن اسے کبھی نہیں بھولے گا۔آپریشن کے دوران فوجیوں کی طرف سے دکھائے گئے نظم و ضبط کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہ لوگ اکثر جوش و خروش کے لمحات میں اپنے ہوش و حواس کھو دیتے ہیں، لیکن آپ(فوج) نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ آپ پرسکون رہے، اور وضاحت اور ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کی پوزیشنوں کو تباہ کر دیا۔وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے خود کو ہندوستانی عوام کا پیغامبر بتاتے ہوئے کہاکہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں آپ کے پاس ڈاکیہ بن کر آیا ہوں، 140 کروڑ ہندوستانیوں کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور صرف ایک فوجی نام نہیں تھا بلکہ ایک قومی عزم تھا۔ انہوںنے کہاکہ یہ آپریشن ہر ہندوستانی فوجی کی آنکھوں میں ایک خواب تھا کہ ہم دہشت گردوں کے ہر ٹھکانے کو تباہ کر دیں گے، چاہے وہ وادیوں میں ہو یا زیر زمین بنکروں میں۔ ہم ان کے سینے کو پھاڑ کر فتح حاصل کر کے لوٹیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور ایک عزم ہے جو بھارت نے دکھایا ہے۔ ہم صرف دفاع نہیں کرتے، وقت آنے پر فیصلہ کن کارروائی کرتے ہیں۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ ہندوستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔انہوںنےمزیدکہاکہ گزشتہ 35 سے49 سالوں سے بھارت سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے، آج بھارت نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے ذریعے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی پاکستان کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔
پاکستان کی دھوکہ دہی کی تاریخ کوطویل قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تقریباً 21 سال قبل اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں پاکستان نے اسلام آباد میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن انہوں نے ہمیں تب بھی دھوکہ دیا اور آج بھی وہ ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں، اب وہ اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور یہ قیمت بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کے تئیں ہندوستان کی پالیسی بدل دی ہے۔ وزیردفاع نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ہندوستانی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو اب جنگ کی کارروائی کے طور پر سمجھا جائے گا۔راجناتھ سنگھ کاکہناتھاکہ وزیر اعظم مودی نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتی اور اگر بات چیت ہوتی ہے تو وہ صرف دہشت گردی اور پی او کے کے بارے میں ہو گی۔۔انہوں نے ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں گنوانے والوں اور پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ میں اپنے بہادر جوانوں کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشت گردی سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ انہوںنے کہاکہ میں پہلگام میں مارے گئے بے گناہ شہریوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور زخمی فوجیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں ۔دہشت گردی کے خلاف جموں و کشمیر کے لوگوں کے موقف کی ستائش کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ پہلگام حملے کے بعد، جموں و کشمیر کے لوگوں نے جس طرح دہشت گردوں اور پاکستان کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا، میں ان کی ہمت کو سلام کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ میں یہاں اس توانائی کو محسوس کرنے آیا ہوں جس نے دشمنوں کو کچل دیا۔ راجناتھ سنگھ نے سرحد پار سے فوج کی جوابی کارروائی کو بھی سراہااور کہاکہ آپ نے جس طرح سرحد پار پاکستانی چوکیوں اور بنکروں کو تباہ کیا، دشمن اسے کبھی نہیں بھولے گا۔اپنی تقریر کے اختتام پرراجناتھ سنگھ نے ہندوستانی فوج کی بے مثال ہمت کی تعریف کی اور انہیں یقین دلایا کہ پوری قوم فخر، احترام اور مکمل حمایت کے ساتھ ان کے پیچھے کھڑی ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
