جموں و کشمیر
پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کوبین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہئے: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ
موجودہ صورتحال مشکل اور حساس،پاکستان ایک غیر ذمہ دار اور بدمعاش ملک
کہاآپریشن سندور ،ہندستان کی دہشت گردی کےخلاف اب تک کی سب سے دلیرانہ کارروائی ،کامیابی پرقوم کاسرفخر سے بلند
’بات چیت صرف دہشت گردی اورPoKکے بارے میں ہوگی، دہشت گردانہ حملہ اب جنگ کی کارروائی سمجھا جائے گا‘
سری نگر :جے کے این ایس: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کوہندستان کی دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے دلیرانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے جمعرات کویہ واضح کیاکہ بات چیت صرف دہشت گردی اورپاکستانی زیرقبضہ کشمیرکے بارے میں ہوگی۔موجودہ صورتحال کو مشکل اور حساس قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں فوجیوں کے درمیان موجود ہونے پر بہت فخر محسوس کرتاہوں۔وزیردفاع نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ہندوستانی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو اب جنگ کی کارروائی کے طور پر سمجھا جائے گا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک’غیر ذمہ دار اور بدمعاش قوم‘ قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں لایا جانا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے بھارت کوعدم تشدد کاعلمبردار اور پاکستان کو دہشت گردی وتشددکاپیروکار قرار دیتے ہوئے اسلام آبادکوعالمی مالیاتی بینک کی جانب سے دئیے گئے قرضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہاکہ جہاں پاکستان کھڑا ہوتاہے ،وہاں سے لائن لگ جاتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرکے ایک روزہ دورے پر جمعرات کی صبح آرمی چیف جنرل اوپیندردویدی کے ہمراہ سری نگر پہنچنے کے بعدوزیردفاع راجناتھ سنگھ نے سری نگر کی بادامی باغ چھاو ¿نی میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر سخت سوال اٹھائے ۔انہوںنے بین الاقوامی برادری کو ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہاکہ میں پوری دنیا سے پوچھتا ہوں کی ایسی غیر ذمہ دار اور بدمعاش قوم(پاکستان) کےلئے جوہری ہتھیار رکھنا محفوظ ہے؟۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہاکہ میرا ماننا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔راجناتھ سنگھ نے بھارت کوعدم تشدد کاعلمبردار اور پاکستان کو دہشت گردی وتشددکاپیروکار قرار دیتے ہوئے اسلام آبادکوعالمی مالیاتی بینک کی جانب سے دئیے گئے قرضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہاکہ جہاں پاکستان کھڑا ہوتاہے ،وہاں سے لائن لگ جاتی ہے ۔راجناتھ سنگھ، جو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ہمراہ تھے، نے آپریشن سندور میں ہندوستانی فوج کے کردار کی تعریف کی، جو کہ ایک حالیہ انسداد دہشت گردی آپریشن ہے جس نے قومی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے فوجی جوانوں اورافسروں سے مخاطب ہوکر کہاکہ میں آپ کے درمیان ایسے ناگفتہ بہ حالات میں موجود ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ آپریشن سندور ،ہندستان کی دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے دلیرانہ کارروائی ہے،جو ہندوستان کو فخر کامقام ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہندوستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔وزیردفاع نے کہاکہ بات چیت صرف دہشت گردی اورپاکستانی زیرقبضہ کشمیرکے بارے میں ہوگی۔یہ بتاتے ہوئے کہ ہندوستان نے دکھایا ہے کہ جب وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بات آتی ہے تو وہ جرات مندانہ فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچائے گا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے انہوں نے پہلگام میں ہندوستان کی پیشانی پر زخم لگانے کی کوشش کی لیکن ہندوستان نے ان کے سینے پر وار کیا۔موجودہ صورتحال کو مشکل اور حساس قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں فوجیوں کے درمیان موجود ہونے پر بہت فخر محسوس کرتاہوں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قابل قیادت میں، ہماری افواج نے آپریشن سندورکے دوران جو کچھ کیا اس نے پوری قوم کو فخر سے بھر دیا ہے۔وزیردفاع نے سرحد کے اس پار درست اور اچھی طرح سے کئے گئے حملوں کے لیے فوج کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا، آپ نے پاکستان کی چوکیوں اور بنکروں کو اتنی طاقت سے گرایا کہ دشمن اسے کبھی نہیں بھولے گا۔آپریشن کے دوران فوجیوں کی طرف سے دکھائے گئے نظم و ضبط کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہ لوگ اکثر جوش و خروش کے لمحات میں اپنے ہوش و حواس کھو دیتے ہیں، لیکن آپ(فوج) نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ آپ پرسکون رہے، اور وضاحت اور ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کی پوزیشنوں کو تباہ کر دیا۔وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے خود کو ہندوستانی عوام کا پیغامبر بتاتے ہوئے کہاکہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں آپ کے پاس ڈاکیہ بن کر آیا ہوں، 140 کروڑ ہندوستانیوں کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور صرف ایک فوجی نام نہیں تھا بلکہ ایک قومی عزم تھا۔ انہوںنے کہاکہ یہ آپریشن ہر ہندوستانی فوجی کی آنکھوں میں ایک خواب تھا کہ ہم دہشت گردوں کے ہر ٹھکانے کو تباہ کر دیں گے، چاہے وہ وادیوں میں ہو یا زیر زمین بنکروں میں۔ ہم ان کے سینے کو پھاڑ کر فتح حاصل کر کے لوٹیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور ایک عزم ہے جو بھارت نے دکھایا ہے۔ ہم صرف دفاع نہیں کرتے، وقت آنے پر فیصلہ کن کارروائی کرتے ہیں۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ ہندوستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔انہوںنےمزیدکہاکہ گزشتہ 35 سے49 سالوں سے بھارت سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے، آج بھارت نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے ذریعے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی پاکستان کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔
پاکستان کی دھوکہ دہی کی تاریخ کوطویل قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تقریباً 21 سال قبل اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں پاکستان نے اسلام آباد میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن انہوں نے ہمیں تب بھی دھوکہ دیا اور آج بھی وہ ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں، اب وہ اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور یہ قیمت بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کے تئیں ہندوستان کی پالیسی بدل دی ہے۔ وزیردفاع نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ہندوستانی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو اب جنگ کی کارروائی کے طور پر سمجھا جائے گا۔راجناتھ سنگھ کاکہناتھاکہ وزیر اعظم مودی نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتی اور اگر بات چیت ہوتی ہے تو وہ صرف دہشت گردی اور پی او کے کے بارے میں ہو گی۔۔انہوں نے ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں گنوانے والوں اور پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ میں اپنے بہادر جوانوں کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشت گردی سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ انہوںنے کہاکہ میں پہلگام میں مارے گئے بے گناہ شہریوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور زخمی فوجیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں ۔دہشت گردی کے خلاف جموں و کشمیر کے لوگوں کے موقف کی ستائش کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ پہلگام حملے کے بعد، جموں و کشمیر کے لوگوں نے جس طرح دہشت گردوں اور پاکستان کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا، میں ان کی ہمت کو سلام کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ میں یہاں اس توانائی کو محسوس کرنے آیا ہوں جس نے دشمنوں کو کچل دیا۔ راجناتھ سنگھ نے سرحد پار سے فوج کی جوابی کارروائی کو بھی سراہااور کہاکہ آپ نے جس طرح سرحد پار پاکستانی چوکیوں اور بنکروں کو تباہ کیا، دشمن اسے کبھی نہیں بھولے گا۔اپنی تقریر کے اختتام پرراجناتھ سنگھ نے ہندوستانی فوج کی بے مثال ہمت کی تعریف کی اور انہیں یقین دلایا کہ پوری قوم فخر، احترام اور مکمل حمایت کے ساتھ ان کے پیچھے کھڑی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
