جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس مجلس عاملہ کا اجلاس: پہلگام حملے کی مذمت، خصوصی حیثیت کی بحالی سمیت 7 قراردادیں منظور
سری نگر،نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس بدھ کو پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سرینگر میں منعقد ہوا، جس میں جموں، کشمیر اور لداخ کے تمام زونوں سے وابستہ اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد جموں و کشمیر اور لداخ میں موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال، عوامی مشکلات اور پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور و خوض کرنا تھا۔
اجلاس کی شروعات میں پہلگام دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، اجے سدھوترا، قمر علی آخون سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سات اہم قراردادیں منظور کی گئیں:قرارداد نمبر 1: تشدد کی مذمت اور شہداء کو خراج تحسین
مجلس عاملہ نے پہلگام حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی جس میں 26 بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں نوجوان سید عادل حسین شاہ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ سرحد پار سے کی گئی شیلنگ میں 23 شہریوں کی ہلاکت پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔
پارٹی کارکنان اور سابقہ اجلاس کے بعد وفات پانے والے رہنماؤں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
قرارداد نمبر 2: خصوصی حیثیت کی بحالی کا اعادہ
اجلاس میں جموں و کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عوامی اُمنگوں، وقار اور اعتماد کی علامت ہے، اور اس کی بحالی پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔
قرارداد نمبر 3: ریاستی درجے کی فوری بحالی
مجلس عاملہ نے مرکز حکومت سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو فوراً مکمل ریاستی درجہ واپس دیا جائے، جیسا کہ پارلیمنٹ، عوامی بیانات اور حالیہ سپریم کورٹ فیصلوں میں بارہا کہا گیا ہے۔
قرارداد نمبر 4: پائیدار امن اور مذاکرات کی حمایت
اجلاس نے حالیہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور بھارت و پاکستان پر زور دیا کہ وہ تشدد کے خاتمے اور خطے میں مستقل امن کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔
قرارداد نمبر 5: پارٹی منشور کے وعدوں پر عمل پیرا رہنے کا عزم
اجلاس میں پارٹی کے آئینی و جمہوری جدوجہد کے راستے پر قائم رہنے اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے جاری کوششوں کا اعادہ کیا گیا۔
قرارداد نمبر 6: بے جا گرفتاریاں اور ہراسانی ناقابل قبول
ورکنگ کمیٹی نے وادی میں نوجوانوں کی گرفتاریوں، دھمکیوں، ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور بلڈوزر کلچر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عوام میں بیگانگی پیدا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلگام حملے کے بعد کشمیری عوام کی طرف سے سیاحوں کے ساتھ روا رکھے گئے حسنِ سلوک کو بھی سراہا گیا۔
قرارداد نمبر 7: ملک بھر میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی مذمت
اجلاس میں ملک کے مختلف شہروں میں کشمیری طلبا، تاجروں اور دیگر باشندوں کو ہراساں کئے جانے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں مجلس عاملہ کے اراکین پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ زمینی سطح پر رابطہ مضبوط کریں اور پارٹی کی تنظیمی بنیادوں کو مزید مستحکم بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ماضی میں بھی سنگین چیلنجوں کا سامنا کیا ہے اور آج بھی عوامی حمایت سے سرخرو ہو کر اُبھرے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
