جموں و کشمیر
کشمیر: سری نگر میں رواں سیزن کا گرم ترین دن ریکارڈ درجہ حرارت 34 ڈگری کے پار
سری نگر،وادیٔ کشمیر، جو عمومی طور پر اپنی معتدل آب و ہوا کے لیے جانی جاتی ہے، اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور جمعرات کو سرینگر، قاضی گنڈ اور کوکرناگ جیسے اہم علاقوں میں درجہ حرارت نے دہائیوں پرانے ریکارڈ توڑ دیے۔ محکمہ موسمیات نے اسے غیر معمولی موسمیاتی رجحان قرار دیتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔
ماہر موسمیات کے مطابق، سرینگر شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو کہ 1889 کے بعد مئی کے مہینے کا تیسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل بھی درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ نوٹ کیا جا رہا تھا، مگر آج کی گرمی نے مقامی شہریوں اور ماہرین دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو کہ 1956 سے لے کر اب تک مئی کے مہینے کا تیسرا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔ اگرچہ مئی 2024 میں یہاں 34.0 ڈگری سیلسیس درج ہو چکا ہے جو اب بھی سب سے بلند سطح ہے، لیکن موجودہ درجہ حرارت نے ثابت کیا ہے کہ موسمی حالات میں مستقل تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔
وادی کے معروف پہاڑی مقام کوکرناگ میں آج 33.3 ڈگری سیلسیس درج ہوا، جو کہ 1978 سے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل کا ریکارڈ 15 مئی 2001 کو 32.6 ڈگری سیلسیس تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی گرمی اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی۔
ماہرینِ موسمیات اور ماحولیاتی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ درجہ حرارت عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) اور موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
ماہر موسمیات کے مطابق:’یہ صرف وقتی اثر نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ کشمیر جیسے خطے میں، جہاں موسم عمومی طور پر معتدل رہتا ہے، اس قسم کی شدت نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت، جنگلات اور پانی کے وسائل پر بھی منفی اثر ڈالے گی۔‘
شدید گرمی کے باعث بازاروں میں رش کم، سڑکوں پر آمدورفت میں کمی اور طبی مراکز پر ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
محکمہ صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ:دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں،پانی کا زیادہ استعمال کریں،دھوپ میں کام کرنے والے افراد خاص طور پر سر اور چہرہ ڈھانپ کر رکھیں،بوڑھوں اور بچوں کا خاص خیال رکھیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو تا تین دن تک وادی میں گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، 25 مئی کے بعد کہیں کہیں ہلکی بارش اور ہواؤں کی پیش گوئی کی جا رہی ہے جو درجہ حرارت میں کچھ حد تک کمی لا سکتی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیر، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور معتدل موسم کے لیے مشہور ہے، اب موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آ چکا ہے۔ گرمی کے نئے ریکارڈ نہ صرف ماحولیاتی خطرے کی گھنٹی ہیں بلکہ حکومت، شہری انتظامیہ اور عوام کے لیے بھی ایک چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ماحولیاتی پالیسیوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
