ہندوستان
دنیا کی سرکردہ ہوابازی کمپنیوں کے لیے ہندوستان سرمایہ کاری عمدہ موقع فراہم کرتا ہے: وزیر اعظم
نئی دہلی، عالمی معیار کا ہوائی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ کرنے کے اپنے عزم کے عین مطابق، وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بین الاقوامی ہوائی نقل و حمل ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی 81ویں سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) اور عالمی ہوائی نقل و حمل سربراہ اجلاس(ڈبلیو اے ٹی اس) کے مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور چار دہائیوں کے بعد ہندوستان میں اس تقریب کی واپسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس مدت کے دوران ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کا ہندوستان پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہے۔ انہوں نے عالمی ہوابازی ایکو نظام میں ہندوستان کے کردار پر ، نہ صرف ایک وسیع مارکیٹ کے طور پر بلکہ پالیسی قیادت، اختراع اور جامع ترقی کی علامت کے طور پر بھی زور دیا ۔ وزیر اعظم نے یہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہ شہری ہوا بازی کے شعبے نے گذشتہ دہائی کے دوران تاریخی ترقی ملاحظہ کی ہے، جسے اچھی طرح تسلیم کیا جاتا ہے، کہا کہ “آج، ہندوستان خلائی ہوا بازی کے شعبے میں ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے”۔
اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ یہ سربراہ اجلاس اور مکالمہ نہ صرف ہوا بازی کے لیے بلکہ عالمی تعاون، آب و ہوا کے وعدوں اور مساوی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔جناب مودی نے روشنی ڈالی کہ سربراہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے عالمی ہوا بازی کو نئی سمت ملے گی، اس کے لامحدود امکانات واشگاف ہوں گے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے انسانیت کی وسیع فاصلوں اور بین البراعظمی سفر کو محض گھنٹوں میں طے کرنے کی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ 21ویں صدی کی امنگیں اور آرزوئیں روایتی سفر سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے اختراعات اور تکنیکی ترقی کی تیز رفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے رفتار بڑھ رہی ہے، دور دراز منزلیں ہمارا مقدر بن رہی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سفر اب صرف شہروں تک محدود نہیں ہے، خلائی پروازوں اور بین سیارہ سفر کو تجارتی بنانے کی امنگوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور انہیں شہری ہوا بازی شعبے سے مربوط کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے، جناب مودی نے تسلیم کیا کہ اگرچہ اس طرح کی پیشرفت میں وقت لگے گا، تاہم یہ چیزیں ہوابازی کے مستقبل کو تبدیلی اور اختراع کے مرکز کے طور پر اجاگر کرتی ہیں، جس کے لیے ہندوستان پوری طرح تیار ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے ہوابازی کے شعبے کو چلانے والے تین بنیادی ستونوں کا خاکہ پیش کیا، پہلا، ایک وسیع بازار – نہ صرف صارفین کا مجموعہ بلکہ ہندوستان کے پرامید معاشرے کا عکاس۔ دوسرا، ایک مضبوط آبادیاتی اور ٹیلنٹ پول — جہاں نوجوان اختراع کار مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، اور صاف ستھری توانائی میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ تیسرا، ایک کھلا اور معاون پالیسی ماحولیاتی نظام—جو صنعتی ترقی کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ جناب مودی نے اس امر پر زور دیا کہ ان قوتوں کے ساتھ، ہندوستان اپنے ہوابازی کے شعبے کو بے مثال بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران شہری ہوا بازی میں ہندوستان کی نمایاں تبدیلی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا، “ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوابازی منڈی بن گیا ہے”۔ اُڈان اسکیم کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے اور اسے ہندوستانی شہری ہوابازی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس پہل قدمی کے تحت، 15 ملین سے زیادہ مسافرین قابل استطاعت ہوائی سفر سے مستفید ہوئے ہیں، جس سے متعدد شہریوں کو پہلی مرتبہ پرواز کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ایئر لائنز دوہرے ہندسے کی ترقی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں سالانہ 240 ملین مسافرین سفر کرتے ہیں — جو دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ 2030 تک یہ تعداد 500 ملین مسافروں تک پہنچنے کی امید ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان میں سالانہ 3.5 ملین میٹرک ٹن کارگو ہوائی راستے سے منتقل کیا جاتا ہے اور اس دہائی کے آخر تک یہ حجم بڑھ کر 10 ملین میٹرک ٹن ہو جائے گا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ اعداد و شمار صرف اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ ہندوستان کی بے پناہ صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اس صلاحیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لیے ایک مستقبل کے روڈ میپ پر سرگرمی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی معیار کے ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے میں ہندوستان کی سرمایہ کاری پر زور دیا، اور کہا کہ 2014 میں، ملک میں 74 آپریشنل ہوائی اڈے تھے، جو اب بڑھ کر 162 ہو گئے ہیں۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ہندوستانی ایئر لائنوں نے 2,000 سے زیادہ نئے طیاروں کے آرڈر دیے ہیں، جو اس شعبے میں تیزی سے ترقی کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ صرف شروعات ہے، کیونکہ ہندوستان کی ہوابازی کی صنعت ایک اہم پرواز کے لیے تیار کھڑی ہے، جو بے مثال بلندیوں کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، انہوں نے روشنی ڈالی کہ یہ تبدیلی نہ صرف جغرافیائی حدود سے تجاوز کرے گی بلکہ عالمی سطح پر پائیداری، سبز نقل و حرکت اور مساوی رسائی کو بھی فروغ دے گی۔
یہ بتاتے ہوئے کہ حفاظت، اثر انگیزی اور پائیداری کو مساوی طور پر ترجیح دی جا رہی ہے، وزیر اعظم نے کہا، ’’ ہندوستان کے ہوائی اڈوں میں اب 500 ملین مسافروں کی سالانہ ہینڈلنگ کی گنجائش ہے اور تکنالوجی کے ذریعے صارف کے تجربے میں نئے معیارات قائم کرنے والے چند ممالک میں شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے پائیدار ہوا بازی کے ایندھن، سبز تکنالوجیوں میں سرمایہ کاری، اور کاربن اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کی طرف ہندوستان کی منتقلی پر مزید زور دیا۔ جناب مودی نے ریمارک کیا کہ ہندوستان ترقی اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، ترقی کے لیے متوازن نقطہ نظر کو تقویت فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی مہمانوں سے ڈیجی یاترا ایپ کو سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے ، اور اسے ڈیجیٹل ہوا بازی کی ایک اہم مثال کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجی یاترا چہرے کی تصدیق کی تکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک مکمل، ہموار سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے مسافروں کو ہوائی اڈے میں داخل ہونے سے بورڈنگ گیٹس تک کاغذی دستاویزات اور شناختی کارڈ کے بغیر جانے میں آسانی ہوتی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ بڑی آبادی کی خدمت میں ہندوستان کی اختراعات اور تجربہ متعدد ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “ڈیجی یاترا ایک محفوظ اور اسمارٹ حل کے طور پر نمایاں ہے، جو گلوبل ساؤتھ کے لیے تحریک کے نمونے کے طور پر کام کرتی ہے”۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلسل اصلاحات ہندوستان کے تیزی سے پھیلتے ہوا بازی کے شعبے کا ایک اہم محرک رہا ہے، وزیر اعظم نے اس وژن کی حمایت کرنے والے اہم اقدامات کے ساتھ، عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز بننے کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس سال کے بجٹ میں مشن مینوفیکچرنگ کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے صنعتی ترقی پر ہندوستان کی توجہ کو تقویت حاصل ہوئی، جناب مودی نے اس سال پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے ایئر کرافٹ آبجیکٹ بل میں مفادات کے تحفظ کو مزید اجاگر کیا، جو ہندوستان میں کیپ ٹاؤن کنونشن کو قانونی اختیار دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قانون ہندوستان میں گلوبل ایئر کرافٹ لیزنگ کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھولتا ہے۔ انہوں نے گفٹ سٹی میں پیش کی جانے والی مراعات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ہندوستان کو ایئرکرافٹ لیزنگ کے لیے ایک پرکشش مقام بنا دیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ “نیا انڈین ایر کرافٹ ایکٹ ہوابازی کے قوانین کو عالمی بہترین طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، ایک ہموار ضابطہ جاتی فریم ورک، تعمیل میں آسانی، اور ایک آسان ٹیکس ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو بڑی بین الاقوامی ہوابازی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک اہم موقع پیش کرتا ہے”۔ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے کہ صنعت پائلٹس، عملے کے ارکان، انجینئرز اور زمینی عملے کے لیے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہے، انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہوا بازی کے شعبے میں ترقی نئی پروازوں، نئی ملازمتوں اور نئے امکانات کی ترجمانی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال (ایم آر او) کو ایک ابھرتے ہوا شعبے کے طور پر اجاگر کیا اور کہا کہ ہندوستان ہوائی جہاز کی دیکھ بھال کا عالمی مرکز بننے کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2014 میں، ہندوستان کے پاس 96 ایم آر او سہولیات تھیں، جو اب بڑھ کر 154 ہو گئی ہیں جبکہ خودکار راستے کے تحت 100فیصد ایف ڈی آئی ، جی ایس ٹی میں تخفیف، اور ٹیکس کو معقول بنانے کے اقدامات نے ہندوستان کے ایم آر او شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔ جناب مودی نے ملک کی ہوابازی کی ترقی کی حکمت عملی کو تقویت بہم پہنچاتے ہوئے 2030 تک 4 بلین امریکی ڈالر کے بقدر ایم آر او مراکز قائم کرنے کے ہندوستان کے ہدف کا خاکہ پیش کیا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان کو محض ہوابازی منڈی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ویلیو چین لیڈر کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیزائن سے لے کر بہم رسانی تک، ہندوستان عالمی ہوابازی سپلائی چین کا ایک جزو لاینفک بن رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی سمت اور رفتار درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے ملک کی مسلسل تیز رفتار ترقی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے ہوابازی کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف ‘میک ان انڈیا’ بلکہ ‘ڈیزائن ان انڈیا’ کو بھی اپنائیں، جس سے ہوا بازی کی عالمی جدت طرازی میں ہندوستان کی قیادت کے وژن کو تقویت حاصل ہوگی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا ہوا بازی کا شعبہ اس کے جامع ماڈل سے مضبوط ہوا ہے، ہندوستان میں 15فیصد سے زیادہ پائلٹ خواتین ہیں، یہ تعداد عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں کیبن عملے میں خواتین کی عالمی اوسط تقریباً 70 فیصد ہے، وہیں ہندوستان میں یہ تعداد 86 فیصد ہے۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ایم آر او شعبے میں خواتین انجینئرز عالمی اوسط سے زیادہ ہیں، جو صنعت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈرون ٹکنالوجی ہوا بازی کے مستقبل کا ایک اہم جز ہے، اور ہندوستان تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ مالی اور سماجی شمولیت کے لیے اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے، وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈرون کا استعمال خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بااختیار بنانے، زراعت، خدمات بہم رسانی اور دیگر مختلف شعبوں میں ان کی شراکت کو بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہندوستان کے عزم کو تقویت دیتے ہوئے کہا، “ہوابازی سے متعلق سلامتی ہمیشہ سے ہندوستان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ ہندوستان نے اپنے ضابطوں کو آئی سی اے او کے عالمی معیارات کے ساتھ جوڑ دیا ہے”۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئی سی اے او کے حالیہ سیفٹی آڈٹ میں ہوا بازی کی حفاظت کو مضبوط بنانے میں ہندوستان کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور ایشیا پیسفک وزارتی کانفرنس میں دہلی اعلامیہ کو اپنانا عالمی ہوا بازی کی عمدہ کارکردگی کے لئے ہندوستان کے عزم کا مزید ثبوت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کھلے آسمانوں اور عالمی رابطے کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شکاگو کنونشن کے اصولوں کی ہندوستان کی توثیق کا بھی ذکر کیا، اور مزید مربوط اور قابل رسائی ہوابازی نیٹ ورک کی وکالت کی۔ جناب مودی نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسا مستقبل بنانے کے لیے مل کر کام کریں جہاں ہوائی سفر سب کے لیے قابل رسائی، قابل استطاعت اور محفوظ ہو۔ انہوں نے ہوا بازی کو مزید بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے نئے حل تیار کرنے کے شعبے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور تمام تر متعلقہ فریقوں کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو، جناب مرلی دھر موہول جیسے مرکزی وزراء، آئی اے ٹی اے کے بورڈ آف گونرس جناب پیٹر ایلبرس، آئی اے ٹی اے کے ڈائرکٹر جنرل جناب وِلی والش، انڈیگو کے منیجنگ ڈائرکٹر جناب راہل بھاٹیہ دیگر معززین کے ساتھ اس تقریب میں موجود تھے۔
یواین آئی، م ش-م ا
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین6 days agoیوم آزادی اور مسلمان
