تازہ ترین
ویڈیو: بجبہاڑہ خونین جھڑپ: لشکرکمانڈرسمیت6مقامی جنگجوجاں بحق، مکمل رپورٹ
خبراردو:
جنوبی کشمیربالخصوص قصبہ بجبہاڑہ اوراسکے نواحی علاقوں ،کھنہ بل اوراسلام آبادقصبہ میں جمعہ کوعلی الصبح سے ہی افراتفری کی صورتحال پیداہوئی جب بجبہاڑہ کے ایک مضافاتی علاقہ میں کچھ مقامی جنگجوؤں میں محصورہونے اوربعداذاں 6جنگجوؤں بشمول لشکرکمانڈرآزادملک کے جاں بحق ہوجانے کی خبرپھیل گئی ۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کورات دیرگئے جب یہ مصدقہ اطلاع ملی کہ بجبہاڑہ قصبہ کے مضافاتی گاؤں شال گنڈ،دچھنی پورہ میں کچھ جنگجوچھپے بیٹھے ہیں ،توفوج کی3آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس نیزاسکے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے اس پورے علاقے کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لے لیا۔مقامی لوگوں نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ جمعرات کورات دیرگئے فوج اورفورسزنے اس پورے علاقے کاگھیراؤکیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ رات بھرپورے علاقے کوسخت محاصرے میں رکھنے کے بعدجمعتہ المبارک کوصبح صادق کے وقت جب فوج ،فورسزاورپولیس کے مشترکہ دستوں نے یہاں تلاشی کارروائی شروع کی تومحاصرے میں پھنسے جنگجوؤں نے محاصرہ توڑکرفرارہونے کی کوشش کے تحت سیکورٹی اہلکاروں پرفائرنگ شرو ع کردی۔
ذرائع کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے بھی فوراًہی جوابی کارروائی عمل میں لائی ،جسکے نتیجے میں طرفین کے درمیان شدیدگولی باری کاسلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ صبح صادق کے وقت گولی باری اوردھماکوں کی گونج کے نتیجے میں پورے علاقے میں خوف ودہشت کی لہردوڑگئی اورمقامی آبادی گھروں میں سہم کررہ گئی ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ جنگجوؤں اورسیکورٹی اہلکاروں کے درمیان دوبدؤلڑائی چھڑجانے کے کچھ وقت بعدیہاں کچھ لوگوں نے جنگجومخالف کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے سیکورٹی اہلکاروں پرسنگباری شروع کردی تاہم پولیس اورفورسزنے فوری طورنظم وضبط کے تحت ان مظاہرین کومنتشرکرنے کی کارروائی عمل میں لائی اوراُنھیں جاے جھڑپ کے قریب جانے سے روکاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ بروقت کارروائی عمل میں لاکرفوج ،فورسزاورایس اؤجی اہلکاروں نے جنگجوؤں کے فرارہونے کی کوشش ناکام بنادی جبکہ کچھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ کے دوران محاصرے میں موجودسبھی جنگجومارے گئے ۔انہوں نے کہاکہ گولی باری کاسلسلہ تھم جانے کے بعد6جنگجوؤں کی نعشوں ،6رائفلوں اوردیگرکچھ سامان کوبھی یہاں سے برآمدکیاگیا۔
ذرائع نے بتایاکہ مارے گئے سبھی 6جنگجوؤں کی نعشوں اورضبط شدہ اسلحہ وگولی بارودکوضلع پولیس لائنزاننت ناگ پہنچایاگیا۔ذرائع نے مزیدبتایاکہ پولیس لائنزمیں مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت اورتنظیمی وابستگی کے بارے میں چھان بین شروع کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ مکمل چھا ن بین اورتحقیقات کے بعدمارے گئے جنگجوؤں کی شناخت کاعمل مکمل کیاگیا۔ذارائع نے بتایاکہ قصبہ بجبہاڑہ کے ایک مضافاتی گاؤں شال گنڈدچھنی پورہ میں جھڑپ کے دوران مارے گئے جنگجوؤں میں لشکرکمانڈرآزاداحمدملک عرف آزادداداولدنذیراحمدملک ساکنہ عیدگاہ محلہ آرونی بجبہاڑہ ،باسط احمدمیرولداشفاق احمدساکنہ پوشوارہ کھنہ بل ،یونس عرف انیس شفیع ولدمحمدشفیع بٹ ساکنہ تکیہ مقصودشاہ،آطف احمدنجارساکنہ واگہامہ بجبہاڑہ ،فردوس احمدنجارساکنہ مچھی پورہ پلوامہ اورشاہدبشیرساکنہ کاونی اونتی پورہ شامل ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ آزادملک اورانیس شفیع کاتعلق لشکرطیبہ سے تھا،اورآزادملک لشکرکمانڈرنویدجاٹ کاقریبی ساتھی بھی تھا۔انہوں نے کہاکہ جھڑپ کے دوران مارے گئے باقی چاروں جنگجوؤں کاتعلق حزب المجاہدین کیساتھ تھا۔پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایاگیاکہ لشکرکمانڈرآزادملک سیکورٹی فورسزکوکافی وقت سے مطلوب تھاکیونکہ وہ نویدجاٹ اوردوسرے کچھ جنگجوؤں کیساتھ سری نگرکی پریس کالونی میں سینئرصحافی شجاعٹ بخاری کی ہلاکت کے واقعے میں شامل اورملوث تھا۔
پولیس بیان میں بتایاگیاکہ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت کاعمل اورلازمی قانونی کارروائی کے بعدانکی نعشیں لواحقین کے سپردکی گئیں ۔بیان میں مقامی لوگوں پرزوردیاگیاکہ وہ جائے جھڑپ کے نزدیک تب تک نہ جائیں جب تک پولیس وفورسزکی ٹیم اس جگہ کامعائنہ نہیں کرتی ہے۔اُدھرجمعہ کوعلی الصبح جھڑپ شروع ہوونے کے کچھ دیربعدشال گنڈدچھنی پورہ بجبہاڑہ میں نوجوان گھروں سے باہرآئے اورانہوں نے انکاؤنٹرمخالف مظاہرے کرنے کے بعدسنگباری بھی کی ۔تاہم ان کوجلدہی منتشرکیاگیا۔ اس دوران جب یہاں 6جنگجوؤں کے جاں بحق ہوجانے کی خبرپھیل گئی توقصبہ بجبہاڑہ اوردیگرکچھ نواحی علاقوں کے علاوہ کھنہ بل میں بھی نوجوانوں نے گھروں سے نکل کرمظاہرے شروع کردئیے اورجب پولیس وفورسزنے ان کومنتشرکرنے کی کوشش کی تونوجوانوں نے مشتعل ہوکرسنگباری شروع کردی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ نوجوان مظاہرین اورخشت باری کرنے والوں کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاروں نے ٹیرگیس شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کے بعدگولیوں ے کچھ راؤنڈبھی فائرکئے ،جسکے نتیجے میں کم سے کم نصف درجن افرادزخمی ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ تین زخمیوں کواسپتال منتقل کیاگیاجہاں سے ایک نوجوان کوسری نگرروانہ کیاگیاکیونکہ اُسکی بازؤمیں گولی لگی ہے۔اُدھربیک وقت 6جنگجوؤں کے جاں بحق ہوجانے کے بعدجنوبی ضلع اسلام آبادکے ضلع صدرمقام،کھنہ بل اوربجبہاڑہ سمیت دوسرے قصبوں میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ اسے پہلے ہی ممکنہ افواہوں اورمظاہروں کے پیش نظرسیکورٹی حکام کی ہدایت پرضلع اسلام آبادمیں موبائل انٹرنیٹ خدمات کومنقطع کردینے کیساتھ بانہال اورسری نگرکے درمیان چلنے والی ریل سروس کوبھی معطل رکھاگیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
