جموں و کشمیر
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہی جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہوگا: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہی جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہوگا انہوں نے جمعہ کے روز کٹرہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف چناب ریل پل کا افتتاح کرنے کے بعد لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘میری خوش قسمتی ہے کہ میں جموں و کشمیر کے تمام ریلوے پروجیکٹوں میں وزیر اعظم کے ساتھ منسلک رہا ہوں پہلا، جب اننت ناگ ریلوے اسٹیشن کا افتتاح ہوا، دوسرا، جب بانہال ریلوے ٹنل کا افتتاح ہوا’۔
ریاستی درجے کی بحالی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے مذاق میں کہا کہ ‘ایل جی منوج سنہا کو ایک جونیئر پوزیشن سے اپنے موجودہ عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ مجھے ریاست کے وزیر اعلیٰ سے تنزلی کرکے یونین ٹریٹری کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا’۔
سال 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم مودی کے کٹرا کے پہلے دورے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا: ‘یہ ایک اتفاق ہے کہ 2014 میں اس تقریب میں چار لوگ موجود تھے اور آج وہ چاروں ایک بار پھر اس اسٹیج پر آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘میں اس وقت ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ تھا لیکن آج ایک یونین ٹریٹری کا وزیر اعلیٰ ہوں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہی جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہوگا’۔
عمر عبداللہ نے سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کو جموں-بارہمولہ ریل پروجیکٹ کو قومی اہمیت کے پروجیکٹ کا درجہ دینے پر بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ‘یہ پروجیکٹ 1983-84 میں شروع کیا گیا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘ میں نے میڈیا کو مذاق میں بتایا کہ جب یہ پروجیکٹ شروع ہوا تو میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ آج میں 55 سال کا ہوں، میرے بچے کالج سے فارغ التحصیل ہیں اور آخر کار یہ منصوبہ مکمل ہو گیا’۔
انہوں نے نئی ٹرین لائن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: ‘ یہ خطے کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے، خاص طور پر بارش کی وجہ سے شاہراہوں میں رکاوٹوں کے دوران، جب بھی بارش ہوتی ہے اور ہائی وے بند ہو جاتی ہے، تو ہوائی سفر کا کرایہ بڑھا جاتا ہے،عام طور پر جن ٹکٹوں کی قیمت 5 ہزار روپیہ ہوتی ہے وہ یکایک 8 ہزار روپیہ تک پہنچ جاتی ہیں لیکن اب اس ٹرین سے یہ استحصال کم ہو جائے گا، اور سفر آسان ہو جائے گا’۔
عمر عبداللہ نے مقامی زراعت کے لیے ریلوے رابطے کے اقتصادی فوائد پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے سیب، چیری اور دیگر پھل اب زیادہ مؤثر طریقے سے ملک بھر کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ آخر کار عالمی منڈیوں تک ان کی رسائی ہوگی’۔
انہوں نے جموں اور سری نگر رنگ روڈ، دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے، جموں-سری نگر ہائی وے فور لیننگ پروجیکٹ اور جموں اور سری نگر دونوں ہوائی اڈوں کی توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے بنیادی ڈھانچے پر مرکزی حکومت کے عزم کو تسلیم کرتے ہوئے کہا: ‘’ہمارا پورا ارادہ اور پرعزم کوشش ہے کہ ان پروجیکٹوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے اور آپ کے ’وکیسٹ جموں کشمیر، وکسٹ بھارت‘ کے نعرے کو پورا کیا جائے’۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی کا دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ مزید جامع ترقی کے منتظر ہیں ۔
یو این آئی -ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
