جموں و کشمیر
پہلگام حملہ انسانیت اور کشمیریت پر حملہ تھا: وزیر اعظم مودی
جموں، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنا کر پاکستان نے ’انسانیت‘ اور ’کشمیریت‘ پر حملہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانا اور کشمیری عوام کو ان کے روزگار سے محروم کرنا تھاوزیر اعظم کٹرا میں خطاب کر رہے تھے جہاں انہوں نے کشمیر وادی کے لیے پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، جن میں دریائے چناب پر دنیا کے سب سے بلند ریلوے پل اور بھارت کا پہلا کیبل اسٹیڈ انجی پل شامل ہیں۔
مودی نے کہا، ’سیاحت روزگار فراہم کرتی ہے اور لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا ہمسایہ ملک انسانیت، ہم آہنگی اور سیاحت کا دشمن ہے۔ پہلگام میں 22 اپریل کو جو کچھ ہوا، وہ اس کی واضح مثال ہے۔ پاکستان نے انسانیت اور کشمیریت پر حملہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی جائے اور کشمیر کے عوام کو، جو سیاحت پر انحصار کرتے ہیں، ان کی روزی روٹی سے محروم کیا جائے۔
وزیر اعظم نے متاثرہ گھوڑے بان، عادل، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنی روزی کمانے وہاں موجود تھا اور دہشت گردوں کی بہادری سے مزاحمت کرتے ہوئے جان بحق ہوا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر میں سیاحت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں سیاح وادی کا رخ کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امن اور ترقی کی راہ پر خطہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
مودی نے مزید کہا، ’پاکستان نے جان بوجھ کر ٹوریسٹ گائیڈز، گھوڑے بانوں ، گیسٹ ہاؤس مالکان، دکانداروں اور ڈھابہ چلانے والوں کے روزگار کو نشانہ بنایا، جو سیاحتی شعبے پر منحصر ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ‘آپریشن سندور’ کے ذریعے بھارتی سیکورٹی فورسز نے پاکستان میں چھپے دہشت گردوں پر کاری ضرب لگائی۔ جب جب پاکستان کو آپریشن سندور یاد آئے گا، وہ اپنی شرمناک شکست کو یاد رکھے گا۔
وزیر اعظم نے ادھم پور-سرینگر-بارہ مولہ ریل منصوبے کو ایک بااختیار جموں و کشمیر کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چناب اور انجی پل ریاست کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے دروازے ثابت ہوں گے۔
انہوں نے 272 کلومیٹر پر محیط اس ریل منصوبے کے مکمل ہونے کے موقع پر وندے بھارت ٹرین کو جھنڈی دکھائی، جس سے کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے براہِ راست ریل رابطہ فراہم ہو گیا ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کٹرا کے لیے 46 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور کئی منصوبے قوم کے نام وقف کیے۔
تقریباً 43,780 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے ریل منصوبے میں 36 سرنگیں شامل ہیں جن کی مجموعی لمبائی 119 کلومیٹر ہے، جب کہ 943 پل بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔
یہ منصوبہ کشمیر اور باقی ملک کے درمیان ہر موسم میں جاری رہنے والی بلارکاوٹ ریل خدمات کا ضامن ہے اور علاقائی نقل و حمل کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی انضمام کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
دنیا5 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
