جموں و کشمیر
مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے آن لائن پورٹل سے کشمیری زبان کا صفایا
خبراردو:
مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے اپنے آن لائن رابطہ پورٹل سے کشمیری پنڈتوں کی طرف سے اعتراض کئے جانے کے بعد کشمیری زبان کو ہذف کردیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزارت نے محکمہ کی طرف سے جاری مختلف زبانوں کے کیے دستیاب آن لائن پورٹل ’بھاشا سنگم‘ سے کشمیری زبان کو کشمیری پنڈتوں کے اعتراض کے بعد ہٹا دیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ محکمہ نے کشمیری زبان کے چند جملوں بشمول ’’السلام علیکم‘‘ اور ’’تویہ چھو ہز ٹھیک پیٹھ‘‘ شامل ہیں۔ محکمہ کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں موجود ماہر لسانیات سے مدد طلب کی جائے گی اور اس طرح کے جملوں کے صحیح معنی حاصل کئے جائیں گے۔یا درہے مذکورہ سروس مودی حکومت کی طرف سے قائم کی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں مختلف زبانوں سے ملکی عوام واقف ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن پورٹل پر کسی بھی زبان کا ترجمہ شائع کرنے سے قبل این سی ای آر ٹی اور ماہر لسانیات سے تبادلہ خیال کیا جاتا ہے جس کے بعد ہی مواد کو آن لائن دستیاب رکھا جاتا ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیری پنڈتوں نے کشمیر زبان کے چند جملوں پر اعتراض جتایا ہے جس کے بعد محکمہ نے اپنے پورٹل پر کشمیری زبان کو مکمل طور پر ہذف کردیا۔ کشمیری پنڈتوں نے کشمیری زبان کا لفظ ’السلام علیکم‘ پر اعتراض جتایا ہے جو انگریزی لفاظ ’ہیلو‘ کا ترجمہ ہے۔ انہوں نے بتایا پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ’السلام علیکم‘ زیادہ مسلمانیت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ہندو جو کشمیری سماج کا ایک حصہ ہے، اس کو اپنی زبان میں ’نمسکار ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ’السلام علیکم‘ کہنے سے زیادہ تر مسلمانیت جھلکتی ہے جبکہ ہندوبرادری ’نمسکار‘ کے ذریعے اپنی برادری کے درمیان استقبال کرتے ہیں۔معلوم ہے کہ پنڈتوں نے آن لائن پورٹل پر دوسرے انگریزی لفظ ’ہاؤ آر یو‘ کے کشمیری ترجمے پر بھی اعتراض جتایا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ محکمہ کے پورٹل پر کشمیری زبان کے ترجمے کے مطابق اس کاترجمہ ’توہیہ چھوہز ٹھیک‘ کیا گیا ہے۔ پنڈتوں کا کہنا ہے اس طرح کا ترجمہ صرف مسلمانیت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ہندو برادری کے درمیان کشمیری لفظ ’ہز‘ کا ترجمہ مہرا‘ کیا جا تاہے۔ادھر سینئرصحافی راہل پنڈتا جو ایسے پہلے شخص ہے جنہوں نے اس معاملے پر اعتراض اُٹھایا ہے ، نے بتایا کہ مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو کشمیری زبان کا ترجمہ پورٹل پر جاری کرنے سے قبل کشمیری پنڈتوں کے احساسات کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔
راہل کے مطابق انگریزی لفظ ’ہیلو‘ کشمیری زبان میں دو طرح سے بولا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمان اس لفظ کو اپنے طریقے سے استعمال کرتے ہیں جبکہ ہندؤں کا اپنا الگ طریقہ ہے۔مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے آن لائن پورٹل کو چاہیے تھا کہ دونوں تراجم عوام کے لیے دستیاب رکھتے لیکن انہوں نے صرف ایک ترجمہ پر ہی اکتفا کیا ہے۔لسانیات کے اسکالر ڈاکٹر اُدے ککرو کا کہنا ہے کہ اردو لفظ ’آپ‘ جو کہ ادب و احترام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، بھی مسلمانوں اور ہندؤں کے درمیان دو الگ الگ ترجموں میں بولا جاتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت وادی کشمیر میں تہذیبی یلغار پر کام ہورہا ہے جبکہ ایک ہی لفظ کے لیے مختلف تراجم موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان بول چال کا الگ طریق کار ہے۔ مسلمانوں کی اپنی زبان اردو اور فارسی سے متاثر ہے جبکہ ہندؤں کی اپنی زبان سنسکرت سے متاثر ہے۔ ڈاکٹر ادے ککرو نے بتایا کہ کشمیری زبان اسلام اور صوفی ازم سے قبل سنسکرت زبان سے متاثر تھی لیکن بعد میں اس زبان پر اردو اور فارسی کا غلبہ رہا۔ادھر کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ کشمیری زبان کے پروفیسر مجروح رشید نے بتایا کہ ہر ایک زبان فطرتی طور پر مختلف مراحل سے گزرتی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہاں ہندو مہاراجاؤں کا راج تھا تو تب یہ زبان سنسکرت سے متاثر تھی اور جب بعد میں یہاں مسلم حکمرانوں کا غلبہ ہوا تو یہ زبان فارسی سے متاثر ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ جب یہاں ڈوگرہ حکرانی کا دور دورہ تھا تب کشمیری زبان اردو سے متاثر رہی جبکہ فی الوقت اس زبان پر انگریزی نے بھی اپنی چھاپ ڈالنی شروع کی ہے۔
پروفیسر رشید کاماننا ہے کہ جب کشمیری مسلمان ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں تو وہ ’ہزُ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جب کشمیری پنڈت اپنی برادری میں ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں تو وہ لفاظ ’مہرا‘ استعمال کرتے ہیں ، تاہم دونوں ترجمے ٹھیک ہیں۔اس دوران لبرٹی فورم بانڈی پورہ نے مرکزی حکومت کے اس اقدام کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ چند شرپسند عناصر کی طرف سے آن لائن پورٹل سے کشمیری زبان کو ہذف کرنا ایک سیاسی حربہ ہے۔فورم نے مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مذموم حرکات اور سیاسی چالبازیوں کی قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی۔فورم نے چند منفی کشمیری پنڈتوں کی طرف سے آن لائن پورٹل سے کشمیری زبان کو ہٹانے کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایسے عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کشمیری زبان کے ساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑ سے پرہیز کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی ویب سائٹ سے کشمیری زبان کو ہٹانے سے قبل سرکار کو جملہ ماہر لسانیات کے ساتھ باہمی مشورہ اور تبادلہ خیال کرنا چاہیے تھا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
