جموں و کشمیر
ستواری جموں میں مبینہ فرضی انکاونٹر میں21سالہ نوجوان ہلاک اہل خانہ نے کیامنصفانہ تحقیقات کا مطالبہ
واقعہ فرضی انکاو ٹر قرار،کراس فائرنگ میں ماراگیا:پولیس کی وضاحت
سری نگر:جے کے این ایس : جموں کے ستواری تھانے کے تحت آنے والے شورے چک علاقے میں جمعرات کی شام ایک پولیس کارروائی کے دوران 21 سالہ نوجوان کی موت واقعہ ہوگئی۔ پولیس کے مطابق وہ منشیات فروشوں کا پیچھا کر رہے تھے، جب یہ واقعہ پیش آیا۔ تاہم مقتول کے اہل خانہ نے اس واقعے کو فرضی انکاو ¿نٹر قرار دیتے ہوئے زوردار احتجاج کیا اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق جموں شہر کے ستواری پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے سورے چک علاقے میں مشتبہ منشیات فروشوں کا پیچھا کرنے کے دوران ایک پولیس ٹیم کے گولی لگنے کے بعد کراس فائرنگ میں ایک 21 سالہ نوجوان کی موت واقعہ ہوگئی۔حکام نے بتایا کہ تعاقب کے دوران پولیس پارٹی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایاکہ کراس فائرنگ میں21سالہ محمد پرویز ساکنہ جاوید نگر، نکی توی، زخمی ہوا۔حکام نے بتایا کہ اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں لے جایا گیا، جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ای ٹی وی بھارت کی ایک نیوز رپورٹ کے مطابق پولیس کا دعویٰ ہے کہ21سالہ محمد پرویز ولد مرحوم رحمت علی ساکن جاوید نگر نکی توی، کے قبضے سے 12 سے 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد کیا گیا ہے، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ پولیس کے مطابق خصوصی اطلاع پر ڈسٹرکٹ اسپیشل برانچ اور پولیس پوسٹ پھلاں منڈل کی ٹیم منشیات فروشوں کا تعاقب کر رہی تھی، اسی دوران مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں محمد پرویز زخمی ہوگیا۔ ا ±سے فوری طور پر جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔واقعے کی خبر پھیلتے ہی مہلوک نوجوان کے اہل خانہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں پہنچے، مگر ا ±نہیں اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
اسپتال میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات تھی۔نوجوان کی موت کی اطلاع ملنے پر مشتعل اہل خانہ نے اسپتال کے باہر احتجاج کیا اور پولیس پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک بےگناہ نوجوان کو منشیات فروش قرار دے کر مار دیا۔اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ نوجوان کو منشیات کی تجارت سے متعلق کسی بھی سرگرمی سے وابستہ کیے بغیر مارا گیا۔ان کے مطابق وہ معمول کے مطابق دریائے توی سے ریت لوڈ کر رہا تھا جب اس پر فائرنگ کی گئی۔مہلوک نوجوان کے بھائی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ میرا بھائی نہ کبھی مجرم تھا اور نہ کسی کیس میں نامزد تھا۔ اگر پولیس کو شبہ بھی تھا تو وہ ا ±سے گرفتار کرتی، قتل کیوں کیا؟۔ انہوں نے پولیس پر قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے اس واقعہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب مہلوک نوجوان کے دیگر رشتہ دار اور مقامی لوگ بھی اسپتال کے باہر جمع ہونے لگے۔
سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں بھی اسپتال کے اندر جانے سے روکا۔ بالآخر رات دیر گئے پوسٹ مارٹم کے بعد احتجاج ختم ہوا۔معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران نے موقع پر پہنچ کر معاملے کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
