تجزیہ
بس ایک روٹی تو مانگی تھی!!
تحریر : جاوید اختر بھارتی
صبح کا سورج نمودار ہوا سارے لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں ، دکاندار گراہک کے ساتھ خریدوفروخت میں لگا ہوا ہے ، آفس میں جو جس درجے و شعبے کا ذمہ دار ہے وہ اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے مدارس کے اندر درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا جارہا ہے روڈ پر ٹریفک پولیس اپنا فرض نبھارہی ہے دوپہر کا وقت ہوگیا کوئی دوپہر کا کھانا کھا رہا ہے تو کوئی کھانا کھا کر آرام کررہا ہے شہر میں اونچی اونچی بلڈنگیں ہیں پوری آبادی میں دوپہر کا سناٹا چھایا ہوا ہے ایک فقیر ہے جو پوری آبادی میں صدائیں لگا رہا ہے کہ ہے کوئی ہاتھ اونچا کرنے والا ، ہے کوئی اللہ کا بندہ جو اس فقیر کو کھانا کھلا دے ، ہے کوئی اللہ کا بندہ جو اس بے سہارے کا سہارا بن جائے۔
میں ایک فقیر ہوں ، تن تنہا ہوں ، اس دنیا میں میرا کوئی نہیں ،، بیٹی اور بیٹا بھی نہیں ، پوتی اور پوتا بھی نہیں ، بھائی اور بھتیجا بھی نہیں ، رہنے کے لئے مکان نہیں ، سونے کے لئے بستر نہیں ، اوڑھنے کے لئے چادر نہیں بس میرے پاس جو کچھ ہے وہ میرے جسم پر ہے یہی میرا کل سرمایہ ہے ، یہی میری کل پونجی ہے ، میرے پاس دولت نہیں ، میرے پاس زمین جائداد نہیں۔
مجھے بھی کبھی کبھی احساس ہوتاہے کہ کاش میرے پاس بھی دولت کی فراوانی ہوتی ، رہنے کے لئے عالیشان مکان ہوتا ، چلنے کے لئے کار ہوتی تو سماج و معاشرے میں میری بھی ایک پہچان ہوتی ، مختلف تقاریب میں مجھے بھی مدعو کیا جاتا ، میرا بھی استقبال کیا جاتا جب میں یہ سوچتا ہوں تو دماغ میں مختلف خیالات اور وسوسے آتے ہیں سانسیں تھمنے لگتی ہیں ، چہرے پر اداسی چھاجاتی ہے ، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں لیکن پھر بھی میں خود ہی اپنے آپ کو ڈھارس بندھاتا ہوں اور خود کو سنبھالتا ہوں ۔
پھر میرے دل سے آواز آتی ہے کہ آدمی مسافر ہے آتا ہے اور جاتاہے چلتی کا نام گاڑی ہے اور رک جائے تو لوہا ہے ، تو اپنا دل چھوٹا نہ کر رکشے پر بیٹھنے والا ہو یا رکشا چلانے والا ہو ، جھگی جھوپڑی میں رہنے والا ہو یا شیش محل میں رہنے والا ہو ، بادشاہ ہو یا فقیر، راجہ ہو یا رعایا ، امیر ہو یا غریب ، گورا ہو یا کالا،شہری ہو یا دیہاتی سب کو ایک دن مرنا ہے سب کو اسی مٹی میں دفن ہونا ہے۔
محلوں میں رہنے والا بھی محل چھوڑ کر قبر میں جائے گا جو کھاکھا کر مرے گا وہ بھی قبر میں جائے گا اور جو بھوکا پیاسا مرے گا وہ بھی قبر میں جائے گا ،، دنیا میں جتنا چاہے اچھل کود لے ، جتنا چاہے سیر وتفریح کرلے لیکن سچائی یہی ہے کہ ہر راستہ گھوم پھر کر قبرستان ہی کی طرف جاتا ہے بس تو اپنے سے کمزوروں کو دیکھ جینے کا حوصلہ ملے گا کیونکہ تیرے پاس دو آنکھیں ہیں کسی کے پاس آنکھیں نہیں ، تیرے پاس آنکھیں بھی ہیں اور روشنی بھی کسی کے پاس آنکھیں ہیں تو روشنی نہیں ، تیرے پاس ہاتھ ہیں تو کسی کے پاس ہاتھ نہیں ، تیرے پاس پاؤں ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس پاؤں نہیں،، دنیا میں صحت مند ہیں تو بیمار بھی ہیں ، دشمن ہیں تو دوست بھی ہیں ، تنقید کرنے والے ہیں تو تعریف کرنے والے بھی ہیں پوری دنیا ایسے ہی ہے جیسے ریل کا سفر ،، ایک جگہ سے بن کر چلتی ہے اور ایک جگہ پر سفر مکمل ہوتاہے پھر وہ اس سے آگے نہیں بڑھتی اس پر سوار مختلف مقامات پر بیچ بیچ میں اترتے رہتے ہیں اور جہاں سفر مکمل ہوتاہے وہاں سب اتر جاتے ہیں اسی طرح آئے دن لوگ مرتے رہتے ہیں اور پیدا بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن ایک دن ایسا آئے گا کہ پیدا کوئی نہیں ہوگا بلکہ اس دن سب کو موت کے گھاٹ اترنا ہوگا۔
سب کا مالک اللہ ہے سب کا خالق اللہ ہے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا آدمی چودھری اپنی زندگی ایک منٹ بڑھا نہیں سکتا ، اپنی اور دوسرے کی تقدیر بدل نہیں سکتا ان سب خصوصیات کا مالک اللہ ہے اسی کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا بغیر اس کی مرضی کے ایک ذرہ بھی ادھر سے اُدھر نہیں ہوسکتا تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھ وہی رزاق ہے ایک پرندہ صبح سے شام تک سیر وتفریح کرتاہے اڑتا پھرتا ہے اور شام کو جب اپنے گھونسلے میں واپس آتا ہے تو اس کے منہ میں اس کے بچوں کی خوراک ہوتی ہے دنیا کا کوئی انسان اس پرندے سے نہیں کہتاہے کہ تو اپنی چونچ میں اپنے بچوں کے لئے کچھ لے کر جا پرندوں کو یہ صلاحیت اللہ نے عطا فرمائی ہے تو بھی اسی پروردگار سے لو لگا وہ تجھے بھی رزق عطا فرمائے گا۔
آخر کار بھوکا فقیر صدائیں لگاتے لگاتے ایک بڑی اونچی بلڈنگ کے قریب پہنچتا ہے دروازے پر کنڈی کھٹکھٹا کر آواز دیتاہے کہ تمہیں اللہ کا واسطہ بھوکے فقیر کو بھی روٹی کھلادو ،، اس بلڈنگ میں رہنے والے بہت دولت مند تھے فقیر نے آواز لگائی تو اس بلڈنگ کی بالائی چھت سے ایک شخص نے روٹی پھینکی جب روٹی زمین پر گری تو کئی ٹکڑے ہو گئی اور روٹی کے ٹکڑے کچھ دور تک پھیل گئے فقیر بیچارہ روٹی کے ٹکڑے کو ایک جگہ جمع کیا اور صاف کرکے کھایا اور کھانے بعد کہتاہے کہ اللہ تمہارے اہل وعیال کو ہر آفت و بلا سے محفوظ فرمائے اور خوب خیر وبرکت کا نزول فرمائے۔
بلڈنگ کے بالائی چھت سے جب روٹی کا ٹکڑا پھینکا تو پھینکنے والے کا باپ اپنی آنکھوں سے دیکھا ، فقیر کو روٹی کا ٹکڑا اکٹھا کرتے ہوئے دیکھا اور صاف کرکے کھاتے ہوئے بھی دیکھا فقیر نے جب دعائیں دیں تو آواز اس کے کانوں تک پہنچی وہ بے چین ہوا نیچے اتر کر آیا فقیر سے معافی مانگی پھر گھر میں داخل ہوا تو بیٹے کو بہت ڈانٹا پھٹکارا اور گھر میں کہدیا کہ اس کو کھانا کوئی نہیں دے گا اسے میں کھانا دونگا۔
دوسرے دن دوپہر کا کھانا سب نے کھا لیا بس ایک بیٹا ابھی کھانا نہیں کھایا تھا ،، باپ اس کو کھلانے کے لئے کھانا اس کے کمرے میں لے گیا دسترخوان پر سب کچھ رکھ دیا اور روٹی اپنے ہاتھوں میں لے کر کمرے کے دروازے پر کھڑا ہوگیا بیٹا کہتاہے کہ روٹی تو ہے ہی نہیں آخر میں کیسے کھانا کھاؤں گا تب باپ نے روٹی کے چار ٹکڑے کرکے ایک ٹکڑا بیٹے کے سامنے پھینک دیا ،، پھر بیٹے نے روٹی مانگی تو پھنک کر دیا چوتھی بار جب باپ نے روٹی کا ٹکڑا پھینکا تو بیٹا کہتا ہے کہ ابو آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کررہے ہیں تو باپ نے جواب دیا کہ اس لئے کہ تجھے معلوم ہوسکے کہ روٹی پھینک کر دینے اور کسی کو ذلیل وخوار کرنے کا انجام کیا ہوتا اور جس کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے اس پر کیا گزرتی ہے۔
آخر تجھے دولت کا گھمنڈ کیوں ہے ابھی تو ایک پھوٹی کوڑی کا بھی مالک تو نہیں میں ہوں ،، ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر غور کر وہ فقیر اتنی ذلت ورسوائی کے بعد ڈھیر ساری دعائیں دے کر گیا اور تو روزانہ کھاتا ہے لیکن کیا کبھی دعائیں دیں؟ کبھی نہیں ،، آخر کس بات کا تجھے گھمنڈ ہے دونوں ہاتھوں سے دولت بٹورنے والا خالی ہاتھ قبرستان جاتاہے, سکندر ذوالقرنین خالی ہاتھ قبرستان گیا ،، تو بھی ایک دن قبرستان جائے گا ، مرنے کے بعد وہ فقیر جھگی جھوپڑی میں نہ رہ کر قبرستان جائے گا تو یاد رکھ مرنے کے بعد اس عالیشان محل میں تو بھی نہیں رہے گا تجھے بھی مر کر قبرستان ہی جانا ہے ،، تو انسان تو ہے مگر تیرے اندر انسانیت نہیں ہے ، تیرے پاس دل تو ہے لیکن تیرے دل میں غریبوں کی عزت و ہمدردی نہیں ہے ،، اس فقیر کی کوئی مجبوری ہوگی بس ایک روٹی کا ہی تو سوال کیا تھا تونے اسے روٹی بھی دی تو حقارت بھرے انداز میں ، تونے اسے روٹی تو دی مگر اس کی غربت کا مذاق اڑا کر ، تونے اسے روٹی تو دی مگر اس کی عزت کی دھجیاں اڑاکر ،، یاد رکھنا جس کے اندر اخلاق نہیں اس کے کچھ بھی نہیں ، جس کے اندر احساس نہیں اس کے اندر کچھ نہیں ۔
آج سے توبہ کر اپنے گناہوں کی اللہ تبارک وتعالیٰ سے معافی مانگ ، اپنے سے بڑوں کی عزت کرنا سیکھ ، چھوٹوں سے پیار ومحبت اور شفقت سے پیش آنا سیکھ ہاتھ اللہ نے عطا کیا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں دیا ہے راہ صداقت کے لئے ، دل دیا ہے تجھے ایمان کی دولت کے لئے ہر نظر ہو تیری نظارۂ الفت کے لئے دل بیتاب رہے اللہ و رسول کی اطاعت کے لئے تب تجھے جینے کا مزا آئے گا اور مرنے کے بعد یہی اعمال ساتھ جائے گا ۔
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
موبائل: 8299579972
javedbharti508@gmail.com
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
