جموں و کشمیر
’بابائے سبز انقلاب‘کے نام سے مشہورممتاز زرعی سائنسدان سوامی ناتھن کی جینتی کی صد سالہ تقریب ، وزیر اعظم کاخطاب
کسان ملک کی اولین ترجیح،مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
مجھے قیمت چکانی پڑے گی، میں تیار ہوں،ٹرمپ کی جانب سے محصولات 50 فیصد تک بڑھانے پرنریندر مودی کا جواب
سری نگر:جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ملک کسانوں، ماہی گیروں اور ڈیری کسانوں کے مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کےلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کےلئے تیار ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو ملک کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک ان کے مفادات سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ میں ذاتی طور پر مانتا ہوں کہ مجھے اس کی قیمت چکانی پڑے گی اور میں اس کےلئے تیار ہوں۔ وہ جمعرات کو نئی دہلی میں ممتاز زرعی سائنسدان ایم ایس سوامی ناتھن کی جینتی کی صد سالہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا یہ تبصرہ اس پس منظر میں آیا ہے جب امریکہ نے زرعی مصنوعات سمیت بھارتی اشیا پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہمارے لیے اپنے کسانوں کا ہٹ سروچ پرتھمکتا ہے۔ بھارت اپنے کسانوں، پشو پالکوں اور مچھوارے بھائی بہنوں کے ہٹوں کے ساتھ کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے لئے کسانوں کے مفادات ہمارے کسانوں کے مفاد پر کبھی بھی سرفہرست نہیں ہوں گے۔ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کےلئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھاری قیمت ادا کرنے کےلئے تیار ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ میں جانتا ہوں کی حقیقتگت روپ سے مجھے بہت بڑی بڑی قیمت چکانی پڑیگی۔لیکن میں اس کےلئے تیار ہوں۔ انہوںنے کہاکہمیں جانتا ہوں کہ مجھے ذاتی طور پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ لیکن میں اس کے لیے تیار ہوں۔مزید، انہوں نے کہاکہ میرے دیش کے مچھواروں کے لئے، میرے دیش کے پشو پالوکون کےلئے آج بھارت تیّار ہے۔
انہوںنے کہاکہ (آج، ہندوستان ماہی گیروں اور ڈیری فارمرز کے لیے (قیمت ادا کرنے کے لیے) تیار ہے)۔اپنے خطاب کے دوران، وزیر اعظم نے فارم اور اس سے منسلک شعبے کی ہمہ گیر ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی مختلف اسکیموں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے درمیان خوراک کی پیداوار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظممودی نے فصلوں کی مزید آب و ہوا سے مزاحم اقسام تیار کرنے پر زور دیا۔ ریاستہائے متحدہ کی طرف سے لگائے گئے50فیصد محصولات کے خلاف ایک مضبوط پیغام میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو زور دے کر کہا کہ کسان ہندوستان کی اولین ترجیح ہیں اور یہ کہ ملک ان کے مفادات سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔انہوںنے کہاکہ ہمارے لئے، ہمارے کسانوں کا مفاد ہماری اولین ترجیح ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہاکہ ہندوستان کسانوں، ماہی گیروں اور ڈیری فارمرز کے مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ ہمیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اور میں اس کے لئے تیار ہوں۔ ہندوستان اس کے لیے تیار ہے ۔وزیر اعظم مودی کا یہ تبصرہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہندوستان سے آنے والی اشیا پر ٹیرف کو دوگنا کرکے 50 فیصد کرنے پر افراتفری کے درمیان آیا ہے۔ تجارتی مذاکرات کے دوران امریکہ ہندوستان کی زرعی منڈی، خاص طور پر مکئی، سویابین اور کپاس تک زیادہ رسائی کے لیے زور دے رہا تھا۔تاہم، گھریلو ذریعہ معاش اور کسانوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش کی وجہ سے، بھارت نے اب تک زرعی شعبے، اور ڈیری مصنوعات کو کھولنے کی مزاحمت کی ہے۔ اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان سے درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔وائٹ ہاو ¿س کی طرف سے جاری کردہ حکم کے مطابق، ٹرمپ نے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے خدشات کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ تجارتی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے، یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات، براہ راست یا بالواسطہ، امریکہ کے لیے ایک غیر معمولی اور غیر معمولی خطرہ ہیں۔ حکم کے بعد، ہندوستانی اشیاءپر کل ٹیرف50 فیصد ہو جائے گا، جب کہ ابتدائی ڈیوٹی 7 اگست سے نافذ العمل ہو جائے گی، اضافی محصول 21 دن کے بعد نافذ ہو جائے گا اور امریکہ میں درآمد کیے جانے والے تمام ہندوستانی سامان پر لاگو ہو جائے گا، سوائے ان سامان کے جو پہلے سے ٹرانزٹ میں ہیں یا جو مخصوص چھوٹ کو پورا کرتے ہیں۔وزیر اعظم نریندرمودی نے اس عظیم سائنسدان کے اعزاز میں ایک صد سالہ یادگاری یادگاری سکہ اور ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ وہ ایک مشہور بھارتی ماہر جینیات اور زرعی سائنسدان تھے۔
انہیں 1960 کی دہائی میں گندم کی اعلیٰ پیداواری اقسام اور جدید زرعی تکنیکوں کو اپنا کر بھارتی زراعت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے ہندوستان میں”بابائے سبز انقلاب“کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے کاموں نے بھارت میں خوراک کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا اور کسانوں کی غربت کو کم کیا۔وزیر اعظم نریندر مودی اس موقعے پر3 روزہ عالمی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ یہ کانفرنس سائنسدانوں، پالیسی سازوں، ترقیاتی پیشہ ور افراد اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو’سدا بہار انقلاب‘ کے اصولوں کو آگے بڑھانے پر بات چیت اور غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔کلیدی موضوعات میں حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کا پائیدار انتظام، خوراک اور غذائیت کے تحفظ کے لیے پائیدار زراعت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھال کر موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا، پائیدار اور مساوی معاش کے لیے مناسب ٹیکنالوجیز کا استعمال، اور ترقیاتی مباحثوں میں نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقوں کو شامل کرنا شامل ہیں۔ ان کی وراثت کو عزت دینے کے لیے، ایم ایس سوامی ناتھن ریسرچ فاو ¿نڈیشن (ایم ایس ایس آر ایف) اور دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز (ٹی ڈبلیو اے ایس) مشترکہ طور پر ایم ایس سوامی ناتھن فوڈ اینڈ پیس پرائز کا آغاز کریں گے۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
