جموں و کشمیر
چنار بک فیسٹیول کے ساتویں دن تعلیمی و ادبی موضوعات پر دو مذاکرے، نئی نسل کی ادبی نشو و نما پر ورکشاپ کے تین سیشنز
سرینگر / نئی دہلی، چنار بک فیسٹیول،سری نگر کے ساتویں دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اورشعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے دو مذاکرے ’نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں لسانی تنوع:اردو اور کشمیری میں امکانات‘ اور’اردو ادب اور ثقافتی مکالمے میں کشمیری خواتین‘کے عنوان سے منعقد ہوئے قومی اردو کونسل کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق پہلے مذاکرے میں پروفیسر شریف الدین پیر زادہ(سابق صدر شعبہ ریاضیات و ڈین اکیڈمک افیئرز،کشمیر یونیورسٹی)،پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد صدیقی(چیف کوآرڈینیٹر،این ای پی،کشمیر یونیورسٹی)اور ماجد زماں (کنٹرولر آف اگزامنیشن،کشمیر یونیورسٹی) نے گفتگو کرتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں علاقائی اور مادری زبانوں کی تدریس،ان کے فروغ اور مستقبل کے امکانات و مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروفیسر شریف الدین پیر زادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 ملک کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک ٹرانسفارمیشن یعنی ہمہ گیر تبدیلی کا پیش خیمہ ہے اگر اس کو طلبہ نے صحیح طریقے سے فالو کرلیا تو یقینا کامیابی ان کے قدم چومے گی۔انھوں نے مزید کہاکہ اس پالیسی میں مادری اور علاقائی زبانوں کو ابتدائی تعلیم کاذریعہ بنانے کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے جو اردو اور کشمیری زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں اردو اور کشمیری زبانوں کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
پروفیسر مشتاق احمد صدیقی نے کہاکہ نئی تعلیمی پالیسی کا خاطر خواہ نتیجہ اسی وقت نکل سکتاہے جب اسے اسکولس،کالجز اوریونیورسٹیز میں مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔انھوں نے مزید کہاکہ اس پالیسی میں جس طرح کی تجاویز پیش کی گئی ہیں اگر انھیں عملی طور پر اپنایا گیاتو ہمارے تعلیمی معیار میں یقینا بہتری آئے گی۔ماجد زماں نے کہاکہ نیو ایجوکیشن پالیسی میں کثیر لسانی تعلیم اور مادری زبان میں ابتدائی تعلیم پر زور دینا ایک اہم قدم ہے، کیوں کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے نہ صرف یہ کہ پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کی رفتار بڑھتی ہے بلکہ اس سے ثقافتی ورثہ بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر مشتاق حیدر(استاد شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
آج کا دوسرا مذاکرہ ’اردو ادب اور ثقافتی مکالمے میں کشمیری خواتین‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ اس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ایاز رسول نازکی (سابق رجسٹرار،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی،راجوری) نے کہاکہ کشمیر کی ادبی روایت میں روحانیت کی نمائندہ لل دید اور رومانیت کی نمائندہ حبہ خاتون کی مثالیں دونوں سمتوں کی تخلیقی جہات کو واضح کرتی ہیں، بعد میں رخسانہ جبیں اور دیگر شاعرات نے اس روایت کو جاری رکھا تاہم درمیان میں ایک طویل خلا نظر آتاہے۔ محترمہ رخسانہ جبیں (سابق ڈائریکٹر آل انڈیا ریڈیو،سرینگر) نے کہاکہ عابدہ احمد اور شملہ مفتی نے نسائی ادب کو بنیاد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے۔انھوں نے مزید کہاکہ کشمیری خواتین کے ادب میں موضوعات کا ایک متنوع سلسلہ ملتاہے تاہم سماجی جبر اور معاشرتی رویے خواتین کو پوری طرح ابھرنے سے روکتے ہیں۔ ڈاکٹر نگہت سعید قریشی (ممتاز شاعرہ وفکشن نگار) نے کہاکہ شاعری کا تعلق فوری اور جذباتی اظہار سے ہے اس لیے کشمیر میں زیادہ تر خواتین شاعری کی طرف مائل رہی ہیں۔ انھوں نے نسائیت اور تانیثیت کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ نسائیت ایک سماجی اور نوثقافتی تصور ہے جبکہ تانیثیت ایک فکری و سماجی تحریک ہے۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر کوثر رسول(اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
قومی اردو کونسل اور شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے جاری سہ روزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان ‘نئی نسل میں ادبی و تخلیقی مہارتوں کی نشوونما’ کے آج تین سیشنز بہت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن کا عنوان ’کہانی میں مکالمہ اور توضیحی عناصر‘ تھا،اس کی اسپیکر ڈاکٹر کوثر رسول(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی) تھیں، انھوں نے منظر نگاری اور مکالمہ نگاری کے حوالے سے بڑی اہم گفتگو کی۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر اویس احمد بھٹ (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،کشمیر یونیورسٹی) نے۔دوسرے سیشن کاعنوان ’کہانی کی ساخت اورر اختتام: اپنا بیانیہ کیسے تشکیل دیں‘ تھا۔اس کے اسپیکر شکیل الرحمن(مشہورشاعر،ناقد) تھے۔انھوں نے کہانی کی ساخت اور اختتام کے حوالے سے بڑی مفید گفتگو کی۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر اقبال لون (اسسٹنٹ ایڈیٹر،شیرازہ،کلچر اکیڈمی، جموں وکشمیر) نے کی۔ آج کا تیسرا اور آخری سیشن ’تخلیقی تحریر کی رہنمائی: آپ کہانی کیسے لکھیں‘تھا۔اس سیشن کے مینٹور مشہور فکشن دیپک بدکی،مشہور شاعر وفکشن نگار مشتاق مہدی اورمعروف ادیب وڈرامانویس غلام نبی شاہد تھے۔ان حضرات نے کہانی کیسے وجود میں آتی ہے اورتخلیقی تحریر کی کیا کیا خصوصیات ہیں ان پر گفتگو کی۔اس سیشن کی نظامت نوجوان شاعر و فکشن نگار ڈاکٹر محمدیوسف وانی نے کی۔ ورکشاپ کے ان سیشنز میں شرکانے دلچسپی کا مظاہرہ کیا اوراخیر میں اسپیکر و مینٹور حضرات سے سوالات بھی کیے جن کا مقررین نے تسلی بخش جواب دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
