جموں و کشمیر
قومی پرچم ترنگا میرا دھرم ہے،ترنگا میری طاقت ہے، ترنگا میرے دل کی دھڑکن ہے:لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا
15اگست2025ہندوستا ن کا 79واں یوم آزادی،جموں وکشمیر میں گھر گھرگاﺅں گاﺅں ترنگا مہم میں تیزی
جھیل ڈل سے علی الصبح پُر وقار ترنگا ریلی برآمد،ہزاروں لوگوںکی شرکت
بارہمولہ ترنگاریلی میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے12000سے زیادہ شہریوں کی شرکت
ترنگا ہندوستان کے سیکولرازم اور بھائی چارے کے نظریات کو برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہے: وزیراعلیٰ عمرعبداللہ
سری نگر:جے کے این ایس : 15اگست2025کو ملک بھرمیں ہندوستان کا 79واںیوم آزادی منایا جارہاہے،اوراسی قومی دن کی مناسب سے ملک بھرمیں گھر گھر ترنگا مہم چلائی جارہی ہے ۔جموں وکشمیرمیں منگل کو علی الصبح لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جھیل ڈل کے کنارے سے ایک پُرجوش ترنگا ریلی کوجھنڈی دکھائی اور خود بھی ا س ریلی میں شامل ہوئے ۔لیفٹنٹ گورنرکیساتھ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ،کابینہ وزرائے سکینہ ایتو ،جاوید احمدڈار ،چیف سیکرٹری اتل ڈولو،ڈی جی پی نلین پربھات اور چیئرپرسن وقف بورڈ ڈاکٹر درخشاںاندرابی کے علاوہ دیگر کئی شخصیات نے قدم سے قدم ملاتے ہوئے اس ریلی میں شرکت کی ۔اُدھر بارہمولہ میں نکالی گئی ترنگاریلی میں12ہزار سے زیادہ شہریوںبشمول طلباءوطالبات نے شرکت کی جبکہ یہاں سینکڑوں لوگوں نے 2کلومیٹر لمبا ترنگا اُٹھائے ہوئے تھے ۔اس دوران وادی کے باقی سبھی 8اضلاع کیساتھ ساتھ جموں خطے کے سبھی دس اضلاع میں بھی منگل کی صبح ترنگاریلیاں برآمدہوئیں ،جن میں ہزاروں عام شہریوں ،طلباءوطالبات ،سیول وپولیس حکام اور سماج کے تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگوںنے جوش وخروش کیساتھ شرکت کی ۔
جے کے این ایس کے مطابق منگل کی صبح سری نگر اور جموں سمیت پورے جموں وکشمیرمیں لاکھوںکی تعداد میں ترنگا لہرائے نظرآئے ،کیونکہ گھر گھر ترنگا مہم کے تحت منگل کی صبح ترنگا ریلیوںکا اہتمام کیاگیا ،جن میں حکومت اور انتظامیہ کے اعلیٰ ذمہ داروںبشمول لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کئی کابینہ ساتھیوں کیساتھ شرکت کی ۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ڈل جھیل سے ترنگا یاترا کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔قومی پرچم کو سربلند کرنے کے لیے ہزاروں افراد نے فخر سے شرکت کی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، ایل جی کے دفتر نے لکھاکہ ڈل جھیل سے ترنگا یاترا کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔ ہزاروں لوگ فخر سے قومی پرچم کے احترام میں شامل ہوئے، جو ہمارے اتحاد، فخر اور مشترکہ شناخت کی علامت ہے۔ منوج سنہا نے کہاکہ ہمارے آباو ¿ اجداد اور بہادر دلوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ترنگے کو پوری طرح بلند رکھنے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں‘ پوسٹ میں لیفٹنٹ گورنر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ آج کا دن ہماری عظیم قوم کی کامیابیوں کا جشن منانے کا دن ہے، تاہم، ہمیں اپنے فرائض کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور اپنی کامیابیوں پر استوار کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں فوج، سی اے پی ایف اور پولیس کے اپنے سپاہیوں کی قربانیوں کی بنیاد پر جدید اور خوشحال جموں و کشمیر کی عمارت کی تعمیر کا عزم بھی کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہاکہ ترنگا میرا دھرم ہے،ترنگا میری طاقت ہے، ترنگا میرے دل کی دھڑکن ہے۔ فرض کی خاطر، ہم بار بار اس پاک سرزمین پر جنم لیں۔
منوج سنہا نے مزیدکہاکہ راستے میں متعدد شہروں اور دیہاتوں سے گزرنے والی اس ریلی نے نوجوان نسل کو متاثر کیا اور انہیں ہمارے بانیوں کے وڑن اور بے لوث خدمت کے ان کے نظریات کے بارے میں یاد دلایا۔انہوں نے کہاکہ یہ جموں و کشمیر کے ہر شہری کا پابند فریضہ ہے کہ وہ اس راستے پر گامزن ہو اور جموں و کشمیر کو اپنے خوابوں کے مطابق بنائے۔اس دوران ترنگا ریلی میں شرکت کے بعدوزیراعلیٰ کے آفس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ ترنگا ریلی میں وزیر اعلیٰ نے قومی پرچم کے اتحاد، امن اور ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کی طاقت کو تنوع میں ڈھالتا ہے اور سب سے اس کے سیکولرازم اور بھائی چارے کے نظریات کو برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہے۔اس دوران بارہمولہ میں ترنگا یاترا میں 12000 سے زیادہ لوگ شامل ہوئے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری 2 کلومیٹر طویل ترنگا اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک ساتھ مل کر سر بلند کیے، دل فخر سے پھولے ہوئے تھے۔دریں اثناءوادی کے باقی سبھی 8اضلاع بشمول بڈگام ،گاندربل،کپوارہ ،بانڈی پورہ،پلوامہ ،کولگام ،اننت ناگ اور شوپیان کیساتھ ساتھ جموں خطے کے سبھی دس اضلاع میں بھی منگل کی صبح ترنگاریلیاں برآمدہوئیں ،جن میں ہزاروں عام شہریوں ،طلباءوطالبات ،سیول وپولیس حکام اور سماج کے تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگوںنے جوش وخروش کیساتھ شرکت کی ۔تمام ضلعی صدر مقامات پرگھر گھر ترنگامہم کے تحت نکالی گئی ترنگاریلیوں کی قیادت متعلقہ ڈپٹی کمشنروں ،ڈی آئی جیز اورایس ایس پیز کے علاوہ دیگرسیول اورپولیس حکام نے کی ۔ان ریلیوںمیں بھی مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں کے ہزاروں طلباءاور طالبات نے دیگر شہریوںکے ہمراہ ہاتھوں میں ترنگا اُٹھائے شرکت کی ۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
