جموں و کشمیر
ریاست کی بحالی کےلئے دستخطی مہم،حکومت کی مخالفت کرنا اپوزیشن کا کام :وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
سانحہ کشتواڑ : اب لاشوں کی بازیابی پر توجہ مرکوزتاکہ لواحقین آخری رسومات ادا کر سکیں
لاپتہ افرادکے زندہ ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر
تمام غیر محفوظ مقامات کی نشاندہی کےلئے حکومت جلدہی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دے گی
سری نگر:جے کے این ایس: اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حکومت لاشوں کو نکالنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ لواحقین عزت کے ساتھ آخری رسومات ادا کر سکیں،وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ کشتواڑ سانحہ میں لاپتہ ہونے والوں کے زندہ ملنے کے امکانات اب نہ ہونے کے برابر ہیں،۔خبر رساں ایجنسی جے کے این ایس کے مطابق، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہاں سنتور ہوٹل سری نگر میں قومی تعلیمی پالیسی 2020پر ایک سیمینار میں شرکت کے بعد نامہ نگاروں کو بتایاکہ کشتواڑ کی صورتحال سب کو معلوم ہے۔ تقریباً 70 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، لیکن اس مرحلے پر، ان کے زندہ ملنے کی توقع کرنا تقریباً ناممکن ہے۔انہوںنے بتایاکہایسی صورتحال میں، ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لاشیں برآمد کی جائیں تاکہ خاندان مناسب آخری رسومات ادا کر سکیں۔ مقامی سطح پر، ہم متاثرہ خاندانوں کو درکار امداد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔آفات کے تخفیف پر، عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ موجودہ ڈیزاسٹر مٹیگیشن فنڈ خاص طور پر برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق کشتواڑ میں جو کچھ ہوا، وہ برفانی جھیل کے پھٹنے سے نہیں بلکہ بادل پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں ماہرین کی تقرری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کی نشاندہی کی جا سکے کہ کون سے علاقے اس طرح کے خطرات سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں تمام غیر محفوظ مقامات کی نشاندہی کرنے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بنانے پر غور کر رہی ہے اور مستقبل میں جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات بھی تجویز کر رہی ہے۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشتواڑ کی صورتحال سب کو معلوم ہے اور دن بہ دن لاپتہ افراد کا زندہ تلاش کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ وہاں کے لوگوں نے کئی مسائل پیش کیے ہیں اور حکومت اس پر غور کرے گی اور اس کے مطابق فیصلے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشتواڑ کا واقعہ بادل پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام کمزور علاقوں کی نشاندہی کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔انہوںنے بتایاکہ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ مستقبل میں ایسے واقعات میں کم سے کم نقصان کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔ ہم ان سے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے رپورٹ طلب کریں گے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال پہلے رام بن میں دیکھی گئی تھی، لیکن کشتواڑ کے مقابلے انسانی نقصانات کم تھے۔ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنا غلط ہے، خصوصاً سیاست دانوں کی طرف سے۔ کوئی بھی حکومت ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر کل موجودہ حکومت بدل جاتی ہے تو اگلی حکومت آر ایس ایس کے خلاف لکھنا شروع کردے تو کیا ہوگا؟۔ انہوں نے سوال کیا اور مزید کہا کہ تاریخ کو سیاست سے دور رکھنا ہی بہتر ہے۔
ریاست کی بحالی کے لیے دستخطی مہم پر اپوزیشن کی تنقید پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کی مخالفت کرنا ان کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ نہیں چاہتے کہ ہم عوام کے پاس جائیں اور ریاست کی بحالی نہیں چاہتے تو یہ ٹھیک ہے، جب ہم یہ نہیں کر رہے تھے تو وہ ہم سے پوچھیں گے کہ وہ لوگوں کو کیوں شامل نہیں کرتے، اپوزیشن کا کام مخالفت کرنا ہے اور ہمارا کام کام کرنا ہے، انہیں اپنا کام کرنے دیں۔تعلیم کے شعبے کا رخ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے انفراسٹرکچر میں بڑی خامیوں اور دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی کمی کا اعتراف کیا۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ تعلیمی نظام میں کمزوریاں ہیں، چاہے انفراسٹرکچر کے لحاظ سے ہو یا دور دراز کے علاقوں میں اساتذہ کی کمی۔انہوںنے کہاکہ بجٹ میں ہم نے جدید کلاس رومز اورK-12سکولوں جیسے نئے انفراسٹرکچر کا اعلان کیا تھا۔ میں نے ایک تفصیلی روڈ میپ اور سفارشات مانگی ہیں تاکہ ہم ان منصوبوں کو موثر طریقے سے نافذ کر سکیں ۔اس موقع پر وزیر تعلیم سکینہ ایتو اور ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ سیمینار کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے سیو دی چلڈرن کے تعاون سے کیا تھا اور اسے ایچ سی ایل فاو نڈیشن نے تعاون کیا تھا۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
