تازہ ترین
کشمیریوں کی مددکیلئے پاکستان کی جانب دیکھنابھارت کی غلط پالیسی کانتیجہ :محبوبہ مفتی
خبراردو:
سابق وزیراعلیٰ اورعلاقائی مین اسٹریم جماعت پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے کشمیراورکشمیرکی صورتحال سے متعلق ایک مباحثے بعنوان ’ Kashmir-The way Forwardیعنی ’’کشمیر:آگے بڑھنے کاراستہ‘‘ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام اورنئی دہلی کے درمیان مکمل بداعتمادی پائی جاتی ہے ۔
پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے مذکورہ بالاعنوان کے تحت منعقدہ ایک سمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیروکشمیریوں اوردلی ودلی والوں کے درمیان دُوریاں بڑھ چکی ہیں اوراُنکے تعلقات اوروابط عملاًمنقطع ہیں ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ دلی والوں یعنی بھارت سرکارکی عدم توجہی اورغلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی کشمیری کسی اورجانب مددکیلئے دیکھتے ہیں ۔انہوں نے پاکستان کانام لئے بغیرکہاکہ بھارت سرکارکی عدم توجہی کے چلتے ہی کشمیری کسی اورجانب دیکھنے کیلئے مجبورہیں ۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ اگربھارت کی مرکزی سرکاروں اوریہاں کی سیاسی لیڈرشپ نے کشمیری عوام کی خواہشات ومشکلات کی جانب سنجیدگی سے توجہ دی ہوتی توکشمیری کسی اورجانب مددکیلئے نہیں دیکھتے ۔انہوں نے کہاکہ جب کسی انسان یاکسی قوم کے تئیں عدم توجہی اورغلط رویہ اپنایاجاتاہے تووہ انسان یاقوم مددکیلئے کسی اورجانب دیکھنے پرمجبورہوجاتی ہے۔محبوبہ مفتی نے اپنے والدمفتی محمدسعیدکے پہلے دوراقتدار2002تا2005کوکشمیرکیلئے سنہرے دورسے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ تب ریاستی وزیراعلیٰ(مفتی محمدسعید)اورملکی وزیراعظم (اٹل بہاری واجپائی )کافکروعمل ایک تھا،اوردونوں رہنماؤں کی خواہش اورکوشش تھی کہ کشمیری عوام کامتزلزل شدہ اعتمادبحال کیاجائے ،دلی اورکشمیرکے درمیان مذاکرات کاعمل شروع کیاجائے اورہندوپاک تعلقات میں بہتری لائی جائے ۔انہوں نے اپنے والدکے تین سالہ دورکاذکرکرتے ہوئے حاضرین سے مخاطب ہوکرکہاکہ تب کشمیری علیحدگی پسندوں اورمرکزی سرکارکے درمیان مذاکرات کاعمل شروع ہوا،اُن ہی برسوں میں بھارت اورپاکستان کے مابین اعلیٰ سطحی جامع مذاکرات بھی ہوئے اوراُسی دورمیں کشمیری عوام کااعتمادبھی بحال ہوا،لائن آف کنٹرول کے آرپارآواجاہی اورتجارت کیلئے دہائیوں سے بندپڑے سرحدی راستے کھل گئے اورکشمیرسے جڑے معاملات سلجھنے کی اُمیدبھی پیداہوئی ۔تاہم محبوبہ مفتی نے اظہارتاسف کیساتھ کہاکہ بعدازاں اس مذاکراتی عمل اوراُس اعتمادسازی کوصحیح سمت میں آگے نہیں بڑھایاگیا۔
انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کاسیاسی اورترقیاتی ایجنڈاملکی ،علاقائی اورعالمی سطح پربھی تسلیم کیاگیاکیونکہ پارٹی لیڈرشپ کی کوششوں کے مثبت نتائج سب کے سامنے تھے ۔سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سال2014کے اسمبلی انتخابات کے بعدبی جے پی کیساتھ گٹھ جوڑکوپی ڈی پی کی سیاسی خودکشی قراردیتے ہوئے کہاکہ ہماری لیڈرشپ نے ریاست وریاستی عوام کی بھلائی وبہبودکی خاطرذہرکاوہ گھونٹ پی لیا۔انہوں نے کہاکہ پارٹی کے بانی قائدمفتی محمدسعیدکواُمیدتھی کہ کشمیرسے متعلق بھاجپاکی سربراہی والی مرکزی سرکارسابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ادھورے مشن کوآگے بڑھائے گی لیکن بقول محبوبہ مفتی بدقسمتی سے وزیراعظم مودی اُس اُمیدپرکھرے نہیں اُترسکے ،اورانہوں نے واجپائی جی کی کشمیرپالیسی کوپس پشت ڈالکراپنی پالیسی اختیارکی ،جسکے بعدازاں نتائج اتنے بھیانک نکلے کہ کشمیرمیں بدامنی اوربداعتمادی کی صورتحال پیداہوگئی اورآج بھی وہاں حالات کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مفتی صاحب کویہ اُمیدتھی کہ مودی جی اُسی کشمیرپالیسی کوآگے بڑھائیں گے جوسال2003میں واجپائی جی نے اپنائی تھی لیکن ایسابالکل نہیں ہوابلکہ اسکے برعکس سخت یعنی مخاصمانہ پالیسی اپنائی گئی جسکے نتائج آج ہم سب کے سامنے ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے بدامنی کے ماحول میں اچھی حکمرانی کوناممکن قراردیتے ہوئے کہاکہ ہم اُسی حالت میں لوگوں کواچھے حکومت یاحکمرانی دے سکتے ہیں جب حالات پُرامن ،پُراعتماداورسازگارہوں ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارت اورپاکستان کی دشمنی یاٹکراؤکاخمیازہ روزاول سے ہی کشمیریوں کوبھگتناپڑاہے ،اورآج بھی کشمیری عوام دونوں ممالک کے ناموافق تعلقات کی سزاکاٹ رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جب بھارت اورپاکستان کے مابین تعلقات بہترہوتے ہیں اورسرحدوں پرامن وامان رہتاہے توسب سے زیادہ راحت جموں وکشمیرکے عوام کوملتی ہے ،اورجب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی یاسفارتی ٹکراؤکی صورتحال پیداہوجاتی ہے توسب سے زیادہ نقصان کشمیری اُٹھاتے ہیں اورسب سے زیادہ مصائب ومشکلات کشمیری ہی جھیلتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشت وخون کی صورتحال اورہلاکتوں کے واقعات کودیکھناجیسے کشمیریوں کامقدربن چکاہے جبکہ یہ قوم امن اورانسانیت پسندہے لیکن کسی نے اس سادہ لوح قوم کی تکالیف،مشکلات اورخواہشات کوسمجھنے یاجاننے کی کوشش تک نہ کی ۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب کشمیریوں کوروزانہ خون اورلاشیں دیکھناپڑتی ہیں ،اورجیسے وہ اس صورتحال سے مانوس ہوچکے ہیں ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارت اورپاکستان کے تعلقات میں کوئی بہتری نہیں آرہی ہے جوایک افسوسناک بات ہے ۔انہوں نے کہاکہ سارک سربراہی کانفرنس اس مرتبہ پاکستان میں ہورہی ہے لیکن بھارت اس میں شرکت نہیں کررہاہے جویہ ظاہرکرتاہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان منافرت اوردشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سارک صرف ایک پلیٹ فارم نہیں بلکہ یہ ایک ایسافورم بن سکتاہے کہ جنوب ایشیائی خطے کے سبھی ممالک مستفیدہوسکیں گے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ سارک کووسعت دینے کی ضرورت ہے ،اوریہ تب جاکرممکن ہوپائے گاجب بھارت اورپاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اورحکمرانوں کافکروعمل واضح اوراخلاص پرمبنی ہو۔
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
