جموں و کشمیر
جماعت اسلامی اورفلاح عام ٹرسٹ سے وابستہ 215 اسکولوں کو حکومتی تحویل میں لینے کی کارروائی
بیشتر اپوزیشن پارٹیاں حکومتی فیصلے پرنالاں،BJP نے کیاخیر مقدم
وزیرتعلیم سکینہ ایتونے کیا ایک جانب اقدام سے لاتعلقی کااظہار ،مگر کیاماضی کی تحقیقا کی روشنی میں دفاع
سرینگر : جے کے این ایس : جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی اور فلاح عام ٹرسٹ سے وابستہ 215 اسکولوں کو اپنی تحویل میں لیکر ان کا انتظام سنبھالنے کا عمل شروع کیا ہے۔ ہفتہ کی صبح ضلع انتظامیہ اور پولیس کی ٹیموں نے وادی کے مختلف اضلاع میں قائم فلاح عام ٹرسٹ کے اسکولوں کا دورہ کیا اور ان کا انتظام اپنی تحویل میں لے لیا۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرحکومت کی اس کارروائی کے دوران مذکورہ اسکولوں کا انتظامی کام سنبھالنے کے لیے متعلقہ قریبی ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے پرنسپل بھی انتظامیہ کی ٹیموں کے ساتھ رہے۔ یہ عمل اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جماعت اسلامی اور اس کی زیلی ونگ ’فلاح عام ٹرسٹ‘ سے منسلک اسکولوں کی نگرانی میں لینے کے حکم نامے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔قریبی ہائر سکینڈری اسکولوں کے پرنسپل کو مذکورہ اسکولوں کے انچارج کے طور پر ان کی دیکھ ریکھ کے اس فیصلے سے متعلق جموں وکشمیر کی مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔جموں و کشمیر بی جی پی یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے حکومت کے 215 اسکولوں کا کنٹرول سنبھالنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جو پہلے جماعت اسلامی اور فلاح عام ٹرسٹ کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔ انہوں نے اس قدم کو ’انتہائی ضروری اور اہم قرار‘دیتے ہوئے کہا کہ ”اس سے نوجوانوں میں علیحدگی پسند سوچ پیدا کرنے سے بچا جا سکتا ہے“۔ تاہم الطاف ٹھاکر نے الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے میں وزیر تعلیم نے ’ ہچکچاہٹ ‘ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ”کیا اس سے وہ جماعت اسلامی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ یا راز کار فرما ہے۔“انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے کیونکہ یہ اقدام ہزاروں طلباءکے لیے ایک مثبت اور محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنائے گا۔ الطاف ٹھاکر نے مزید کہا کہ حکومت کے اس اہم اقدم سے51ہزار سے زیادہ بچوں کو علیحدگی پسند نظریے کا شکار ہونے سے بچایا۔ بلکہ اس کے برعکس انہیں اب تعلیم، کھیل، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرنے اور قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے مواقع ملیں گے۔ادھر، پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پلوامہ وحیدالرحمان پرہ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”جموں وکشمیر میں 1987 اور سال2024 کے انتخابات کے بعد پہلے جامع اور شرکت پر مبنی انتخابات منعقد ہوئے تھے جس میں معاشرے کے تمام طبقے شریک تھے۔ تاہم کتابوں پر پابندی اور اسکولوں پر قبضے جیسی حالیہ حرکتیں سوچی سمجھی حکمت عملیوں کے بجائے گھٹنے ٹیکنے والے ردعمل دکھائی دیتے ہیں۔“ وحیدالرحمان پرہ کے مطابق ”یہ کارروائیاں جماعت اسلامی سے منسلک افراد کو دباتی ہیں اور ان لوگوں کے لیے دروازے بند کر دیتی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں کے ہنگاموں سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ بھارت سرکار کو لازمی طور پر ایک اسپیس (Space) فراہم کرنی چاہیے، آئینی ضمانتوں کو برقرار رکھنا چاہیے اور جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کو فروغ دینا چاہیے جو اس خطے میں ابھی تک مکمل طور پر آزمایا جانے والا واحد ہتھیار ہے۔“ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے بھی اس فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”جموں و کشمیر حکومت نے215 اسکولوں پر زبردستی قبضہ کر لیا۔ منتخب حکومت نے (اس حوالے سے) حکم جاری کر دیا ہے۔“سجادلون کے مطابق ’یہ بے شرمی ہے اور بے شرمی نے اس حکومت میں نئے معنی لے لیے ہیں۔ وہ خدمت خلق میں نئے معیارات قائم کر رہے ہیں۔ اور صرف ان بیانات کو یاد کرنے کے لیے جو اس جماعت نے اپنے مخالفین کے خلاف صادر کیے تھے۔“سجاد لون نے این سی حکوم تکی تنقید کرتے ہوئے لکھا: ”کسی وہم میں نہ رہیں، منتخب حکومت تمام کارروائیوں میں برابر کی فریق ہے۔ یہ میلنگ (Mailing) ہو یا ملازمین کی برطرفی وہ برابر کے شراکت دار ہیں۔ وہ ماضی میں برابر کے شرکت دار رہے ہیں اور مستقبل میں برابر کے شریک ہوں گے۔ یہ اے ٹیم ہے اور ہمیشہ اے ٹیم ہی تھی۔“نیشنل کانفرنس کی سینئر رہنما اور وزیر تعلیم سکینہ نے کہا کہ ”این سی حکومت کے قیام کے بعد والدین اور اساتذہ نے (ہم سے) رابطہ کیا کہ ان کے بچوں کا مستقبل داو پر ہے کیونکہ تقریباً 221 اسکولوں کی انتظامی کمیٹی کی تصدیق سی آئی ڈی نے دی تھی۔ ان مذکورہ اسکولوں کی مینیجنگ کمیٹیوں کی تصدیق منفی تھی اور اسے زیر التوا رکھا گیا تھا۔ جس سے نویں اور بارہویں جماعت کے طلباءکو بورڈ امتحانات اور رجسٹریشن کے وقت طلباءکو مسائل سے دو چار ہونا پڑا تھا۔“سکینہ ایتو کے مطابق: ”چونکہ فلاح عام ٹرسٹ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔ ایسے میں ان اسکولوں کے طلباءکے مستقبل کو بچانے کے لیے ہم نے فیصلہ لیا کہ قریبی ہائر سکینڈری اسکول کے پرنسپل مذکورہ اسکولوں کے انچارج کے طور فلاح عام ٹرسٹ اسکولوں کی دیکھ ریکھ فی الحال 3 ماہ تک کریں گے۔“قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ215 اسکولوں کی مینیجنگ کمیٹی کو متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر کے ذریعے سنبھالا جائے گا، جو ان کی صحیح طور پر تصدیق کرنے کے بعد متعلقہ اسکولوں کے لئے مناسب وقت میں ایک نئی مینیجنگ کمیٹی کی تجویز کرے گی۔“مرکزی وزارت داخلہ نے 28 فروری 2019 اور بعد ازاں27 فروری 2024 کو جماعت اسلامی کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت غیر قانونی ایسوسی ایشن قرار دیا تھا۔حالیہ حکم نامے میں کہا گیاکہ ”انٹیلی جنس ایجنسیز نے متعدد اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جو کہ کالعدم تنظیم جماعت اسلامی اور فلاح عام ٹرسٹ (ایف اے ٹی) سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر وابستہ پائے گئے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور ان کمیٹیوں کے بارے میں انٹلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے ”منفی رپورٹ“ سامنے آئی ہے۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کو سنبھالنے کا فیصلہ ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلباءکے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مزکورہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءکا تعلیمی مستقبل کسی بھی طرح متاثر نہ ہو۔واضح رہے کہ ان اسکولوں میں اننت ناگ ضلع کے37 اسکول، بارہمولہ کے 53،بڈگام ضلع کے 20 ، بانڈی پورہ کے6 اسکول، گاندربل کے 6،کولگام ضلع کے16،کپوارہ کے 36،پلوامہ کے 22،شوپیاں کے 15 اور سرینگر ضلع کے 4 اسکول شامل ہیں۔
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
