تازہ ترین
جموں وکشمیرمیں پھرصدرراج کانفاذ،مرکزی کابینہ کی سفارش پرراشٹریہ بھون نے کیاحکمنامہ جاری
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں سابق پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کے زوال پذیر ہونے کے بعد 19جون 2018کو ریاست جموں وکشمیر میں گورنر راج کانفاذ عمل میں لایا گیا جس کے بعد ریاست کی آئین ہند میں درج خصوصی پوزیشن کے مدنظر رکھتے ہوئے یہاں 6ماہ تک گورنر راج نافذ رہا۔ خیال رہے دستاویزالحاق اوردہلی ایگریمنٹ کی روشنی میں آئین ہندکے تحت جموں وکشمیرکوانڈین یونین میں شامل دوسری ریاستوں کے مقابلے میں جوخصوصی اورمنفردپوزیشن حاصل ہے ،اْس آئینی پوزیشن کاخلاصہ آئے دنوں کسی نہ کسی آئینی معاملے کوبروئے کارلاتے وقت ہوجاتاہے۔آئین ہندکے دفعہ356کے تحت جب کسی بھی ریاست میں کوئی سیاسی بحران پیداہوجاتاہے یاکہ امن وقانون کی صورتحال بگڑجاتی ہے تواْس ریاست میں براہ راست صدرراج نافذکیاجاتاہے لیکن جموں وکشمیر کے معاملے میں صورتحال بالکل مختلف ہے کیونکہ یہاں متذکرہ بالاحالات پیداہوجانے کی صورت میں براہ راست صدرراج لاگونہیں کیاجاتاہے بلکہ ریاستی آئین کے سیکشن 92کے تحت یہاں پہلے 6ماہ کیلئے گورنرراج نافذ کیاجاتاہے ،جیسے کہ19جون2018کوپی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارگرجانے کے بعدکیاگیا،اورریاست میں ریاستی آئین کے سیکشن 92کے تحت گورنرراج لاگوکیاگیا،جسکی 6مہینوں پرمحیط معیادیامدت 19دسمبر2018کومکمل ہوجاتی ہے۔
ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرکر نے ریاست جموں وکشمیر میں گورنر راج کی میعاد مکمل ہونے پر یہاں صدر راج کو منظوری دئے جانے کی سفارش کی ہے۔ریاست کے موجودہ گورنرایس پی ملک نے گزشتہ روزصدرہندکے پاس اسبات کی سفارش روانہ کردی کہ ریاست میں چونکہ گورنرراج کی چھ ماہ پرمحیط معیاد19دسمبرکوپوری ہورہی ہے،اسلئے ریاست میں صدرراج نافذ کیاجائے۔ریاست کی موجودہ سیاسی وآئینی صورتحال کے چلتے ،جس میں اسمبلی کوپہلے ہی تحلیل کیاگیاہے ،صدرراج کانفاذیقینی ہے یعنی20دسمبر2018سے جموں وکشمیرمیں مرکزکی براہ راست حکمرانی ہوگی۔ جہاں تک ریاست میں1947کے بعد نافذ کئے گئے گورنرراج یا صدر راج کا تعلق ہے توسب سے پہلے 26مارچ1977ء کو ریاست میں105روز تک گورنرراج لاگو رہا۔اس کے بعد6مارچ1986ء کو پھرایک مرتبہ246دنوں کے لئے ریاست میں پہلے گورنرراج اورپھر صدر راج نافذ رہا۔19جنوری1990ء کو ریاست میں طویل وقت یعنی6برس264دنوں کے لئے پہلے گورنر راج اورپھر صدر راج لاگو رہا۔ اسی طرح سے18اکتوبر2002ء کو ریاست میں محض 15دنوں کے لئے گورنرراج لاگو رہا۔ 11جولائی2008ء کو 178دنوں کے لئے گورنر راج نافذ رہا جبکہ9جنوری2015ء کو51دنوں کے لئے گورنرراج راج نافذ کیاگیا۔8جنوری2016ء کو مفتی محمدسعید کے بحیثیت وزیراعلیٰ انتقال کئے جانے کے بعد87دنوں کے لئے ریاست میں پھرایک مرتبہ گورنرراج لاگو کیاگیا جبکہ 19جون2018ء کو مخلوط سرکار گرجانے کے بعد ریاست میں گورنرراج نافذ ہوا اوراب 20دسمبر سے ریاست میں اگلے اسمبلی انتخابات ہونے اورپھر منتخب سرکار تشکیل پانے تک صدرراج نافذ رہے گا۔ کے این ایس کو خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرکزی کابینہ نے ریاست میں صدر راج نافذ کئے جانے کے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ راج بھون جہاں گورنر کا سرکاری دفتر قائم ہے سے مرکزی وزارت داخلہ کو ایک خط روانہ کردیا گیا ہے جس میں ریاست جموں وکشمیر میں صدر راج کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق گورنر ہاؤس سے چند روز قبل ایک خط مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کردیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا کہ ریاست جموں وکشمیر میں 6ماہ تک گورنر راج نے اپنی مفوضہ ذمہ داریاں انجام دی اور 19دسمبر 2018کو ریاستی آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں گے لہٰذا 19دسمبر 2018کے بعد سے ریاست میں صدر راج کو منظور دی جائے تاکہ ریاست کے جملہ اُمور مرکز کی زیر نگرانی جاری رہیں۔ ذرائع کے مطابق ریاست کے جملہ اُمور کی نگرانی اور یہاں جاری سرگرمیوں کی دیکھ ریکھ اب پارلیمنٹ کے اختیار میں ہوں گے جس کے لیے صدر رام ناتھ کووند الگ سے خصوصی ہدایات کو مشتہر کریں گے۔یاد رہے رواں سال کے جون میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار اُس وقت ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوگئی جب دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات بڑگئے جس کے فوراً بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ ریاستی آئین میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ درج ہے کہ گورنر 6ماہ گزرجانے کے بعد ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے مجاز ہوں گے جس کے بعد ریاست میں براہ راست صدر راج نافذ العمل ہوگا۔آئین میں اس بات کو صاف کیا گیا ہے کہ آئین ہند میں درج ریاست کی خصوصی پوزیشن کے کی دفعہ 92کے تحت ریاست میں6ماہ تک گورنر راج نافذ رہے گا جس کے بعد تمام آئینی اختیارات گورنر کو تفویض ہوجاتے ہیں
۔خصوصی پوزیشن کے تحت ریاستی گورنر 6ماہ بعد ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے مکلف ہوتے ہیں جس کے بعد ریاست ابتدائی طورپر 6ماہ کے لیے براہ راست صدر راج کے تحت آجاتی ہے۔اس دوران اگر ریاست میں انتخابات منعقد نہیں ہوں گے تو صدارتی راج کی میعاد مزید 6ماہ تک بڑھادی جاتی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس عرصے کے دوران الیکشن کے منعقد نہ ہونے پر صدارتی راج کا نفاذ 3برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ یاد رہے گورنر ستیہ پال ملک نے 21نومبر کو 87ممبران پر مشتمل ریاستی اسمبلی کو اُس وقت تحلیل کردیا جب پی ڈی پی، کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے حکومت سازی کے حوالے سے مطلوبہ تعداد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
