جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس کا اندرابی کی برطرفی اور وقف بورڈ کی ہاؤس کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ
سری نگر، حکمراں نیشنل کانفرنس کے قانون سازوں نے ہفتے کو جموں و کشمیر وقف بورڈ کی وائس چیئرپرسن درخشاں اندرابی سے غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور حضرت بل درگاہ کے پر قومی نشان کے مبینہ غلط استعمال پر انہیں فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا، جس میں 2019 سے وقف بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا جائے گا۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسمبلی تنویر صادق ہفتے کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ اشوک چکر محض پتھر یا کاغذ پر نقش نہیں بلکہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ہر شہری خواہ کسی بھی مذہب یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، اس کا احترام کرتا ہے۔ ہماری پارٹی پختہ یقین رکھتی ہے کہ قومی نشان کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ نشان کا غلط استعمال یا نامناسب جگہوں پر اس کی تنصیب قانونی کارروائی کی متقاضی ہے۔
انہوں نے ساتھ ہی گذشتہ روز حضرت بل میں ہونے والے واقعے کی مذمت کی۔
مسٹر صادق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے تشدد کو کبھی قبول کیا ہے نہ کبھی حمایت کی ہے۔ اعتراضات درج کرنے کے بہتر طریقے تھے۔
پارٹی نے اندرابی کو اس واقعہ میں ملوث عقیدت مندوں کے خلاف ایف آئی آر اور پی ایس اے کا مطالبہ کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
تنویر صادق نے کہا کہ لوگوں کو ایف آئی آر اور پی ایس اے کی دھمکی دینا بہت غلط ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
ماضی کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘یہاں تک کہ ملک اور ریاست کے سرکردہ لیڈروں نے بھی سنگ بنیاد پر قومی نشان کا استعمال نہیں کیا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ تو کیا ہمارے وی سی صاحبہ ان سب سے بڑھ کر ہیں کیا وہ آئین سے بالاتر ہیں یہ یا تو ناقص فیصلے کا نتیجہ ہے یا قانون کی خلاف ورزی ہے’۔
پارٹی نے اسٹیٹ ایمبلم آف انڈیا (غیر مناسب استعمال کی ممانعت) ایکٹ 2005 کے تحت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
وقف بورڈ کے کام کے بارے میں صادق نے کہا کہ ‘نیشنل کانفرنس کے قانون سازوں نے اسمبلی اسپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور 2019 سے جائیدادوں، ٹینڈرنگ اور ٹھیکوں میں مبینہ گڑبڑ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم ایک ہاؤس کمیٹی کا مطالبہ کریں گے اور سال 2019 کے بعد وقف بورڈ میں جو کچھ ہوا ہے – چاہے حضرت بل میں ہو یا کہیں اور – کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
بہت سے لوگوں کا الزام ہے کہ ٹینڈرنگ کا عمل شفاف نہیں تھا۔ اسے آن لائن نہیں کیا گیا تھا، اور ٹھیکے بغیر کسی مشاورت کے من مانے طریقے سے الاٹ کیے گئے تھے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ پارٹی کے مطالبے کا مقصد بورڈ کے کام کاج میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے’۔
ان الزام تھا: ‘ جس کو چاہا، ٹھیکہ دے دیا گیا۔ ہم اس عمل میں وضاحت چاہتے ہیں’۔
حضرت بل سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی سلمان ساگر نے الزام لگایا کہ حضرت بل کے مزار کی تختی کا تنازع “پہلے سے منصوبہ بند” اور اس کو “سیاسی فائدے” کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر آنے والے بہار انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے’۔
انہوں نے کہا: ‘ آج کا ماحول صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس کا تعلق انتخابات سے ہے۔ بہار میں کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے’۔
موصوف رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ ایف آئی آرز اور پی ایس ایز کے ذریعے اسے قومی ٹیلی ویژن پر بحث میں بدل دیا جائے گا۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
