دنیا
نیپال میں وزیراعظم اولی مستعفی، احتجاج کا سلسلسہ جاری، پارلیمنٹ اور وزراء کے گھر جلائے گئے
کھٹمنڈو، نیپال میں بدعنوانی اور سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد نوجوانوں میں بڑے غصے اور پرتشدد مظاہروں اور تشدد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے منگل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا دو دنوں سے ملک بھر میں کئی مقامات پر توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات ہو رہے ہیں پرتشدد ہجوم نے کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی مظاہرین نے وزیر اعظم کے دفتر سنگھا دربار، وفاقی پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، خصوصی عدالت، اٹارنی جنرل آفس اور اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کے گھروں اور دفاتر کو آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی۔ ان مظاہرین کو جنریشن زیڈ یا جنرل زیڈ کہا جا رہا ہے۔ جنرل زیڈ سے مراد نوجوان نسل ہے۔
صدر رام چندر پاڈیل نے مظاہرین سے تشدد کا راستہ ترک کرکے بات چیت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ صدر کے پرسنل سکریٹری نے کہا کہ مسٹر پوڈیل نے احتجاج کرنے والی جماعتوں سے بات چیت کرنے پر زور دیا ہے۔
انتظامیہ اور فوج کے اعلیٰ حکام نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ایک مشترکہ اپیل جاری کرتے ہوئے کہا کہ “وزیراعظم کے پی شرما اولی کا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے، اس لیے ہم تمام شہریوں سے امن برقرار رکھنے اور جان و مال کے مزید نقصان سے بچنے کی اپیل کرتے ہیں۔” اس میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہم تمام متعلقہ فریقوں سے سیاسی بات چیت کے ذریعے جلد اور پرامن حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
کانتی پور اخبار نے اطلاع دی ہے کہ اس اپیل پر فوج اور سرکاری افسران نے دستخط کیے تھے۔ ان میں نیپال حکومت کے چیف سکریٹری ایک نارائن آریال، آرمی چیف، نیپالی فوج کے اشوک راج سگدل، ہوم سکریٹری گوکرنا منی دوادی اور دیگر سینئر لوگ شامل ہیں۔ ان عہدیداروں نے زور دے کر کہا کہ صورتحال کو مستحکم کرنے اور مزید جانی و مالی نقصان کو روکنے کے لیے شہریوں کا تعاون اور تمام فریقین کا تحمل انتہائی ضروری ہے۔
کھٹمنڈو کے میئر اور مقبول لیڈر بلیندر نے بھی لوگوں سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ ایک فیس بک پوسٹ میں، میئر شاہ نے تسلیم کیا کہ جاری احتجاج “مکمل طور پر جنریشن زیڈ موومنٹ” ہے اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا استعفیٰ پہلے ہی حاصل ہو چکا ہے۔ انہوں نے لکھا، “ڈیئر جنریشن زیڈ، حکومت کے استعفیٰ کا آپ کا مطالبہ مان لیا گیا ہے، اب تحمل سے کام لینے کا وقت آگیا ہے۔”
ملک میں کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پیر کو کئی مقامات پر مظاہرے شروع ہوئے۔ کئی مقامات پر مظاہرین پرتشدد ہوگئے اور انہوں نے آتش زنی، توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کا سہارا لیا۔ گزشتہ روز پولیس کی کارروائی میں 20 افراد ہلاک اور 350 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد کئی وزراء نے استعفیٰ دے دیا۔ ان میں وزیر داخلہ رمیش لیکھک اور چار دیگر وزراء شامل تھے۔
ملک میں کئی مقامات پر تشدد کی مسلسل خبریں آرہی ہیں۔ مظاہرین نے نیپالی کانگریس کے سربراہ شیر بہادر دیوبا اور وزیر خارجہ ارجو رانا پر بھی حملہ کرکے زخمی کردیا۔
سنگین صورتحال کے پیش نظر کھٹمنڈو ہوائی اڈے سے تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے نے آج رات تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔ ہوائی اڈے کو بند کردیا گیا کیونکہ ہوائی اڈے کے ارد گرد اور رن وے پر دھواں دیکھا گیا۔
ہندوستان نے نیپال کے تمام فریقوں سے تحمل سے کام لینے اور مسئلہ کا پرامن حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔ ہندوستان پوری ترقی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آسٹریلیا، فن لینڈ، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ نے نیپال میں مظاہروں کے دوران تشدد اور جان و مال کے نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں ان ممالک نے کہا کہ “ہمیں کھٹمنڈو اور نیپال کے دیگر حصوں میں ہونے والے تشدد، بشمول احتجاج کے دوران جان و مال کے المناک نقصان اور زخمیوں کی تعداد سے بہت دکھ ہوا ہے۔ ہم متاثرین کے اہل خانہ اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔”نیپال کی صورت حال پر ایک بیان میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کو “طاقت کے استعمال سے متعلق بنیادی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ ظاہر ہے کہ اس صورتحال پر گہری تشویش کے ساتھ عمل کر رہا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ حکام، حکومت، پرامن اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوق کا تحفظ اور احترام کریں۔”
قبل ازیں مسٹر اولی نے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے پیش نظر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے کے خط میں لکھا کہ “ملک میں موجودہ غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور آئینی سیاسی حل اور مسئلے کے حل کے لیے مزید کوششوں کو آسان بنانے کے لیے میں فوری طور پر وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔”
مسٹر اولی نے 15 جولائی 2024 کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس سے قبل وہ اکتوبر 2015 سے اگست 2016 اور فروری 2018 سے جولائی 2021 تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔ بطور وزیر اعظم یہ ان کی چوتھی مدت تھی۔
اس وقت کے وزیر اعظم پشپا کمل دہل فلور ٹیسٹ کے دوران ایوان نمائندگان کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد صدر نے انہیں نئی حکومت بنانے کے لیے بلایا تھا۔ مسٹر اولی نے اپنی حمایت میں 166 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط جمع کرائے تھے۔ کل 275 رکنی ایوان نمائندگان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 138 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں نیپالی کانگریس کے 88 اراکین اور نیپالی کمیونسٹ پارٹی – یونائیٹڈ مارکسسٹ-لیننسٹ (یو ایم ایل) کے 78 اراکین شامل تھے۔
انہوں نے نیپال کے بھارت کے ساتھ روایتی طور پر قریبی تجارتی تعلقات کے متبادل کے طور پر چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
