جموں و کشمیر
کشمیر میں اخروٹ اتارنے کا سیزن جوبن پر
سری نگر، وادی کشمیر میں ان دنوں اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کا سیزن جوبن پر ہے۔ یہ سیزن عام طور پر ماہ اگست کے اواخر یا ماہ ستمبر کے اوائل سے شروع ہو کر کم و بیش ایک مہینے تک جاری رہتا ہے۔
اخروٹ کے درخت یوں تو وادی کے ہر علاقے میں پائے جاتے ہیں لیکن اننت ناگ، کپوارہ اور پلوامہ اضلاع اخروٹ پیدوار کے خاص مراکز ہیں جبکہ شوپیاں، بارہمولہ، بڈگام، سری نگر اور گاند بل میں بھی اخروٹ کی اچھی خاصی پیدوار حاصل کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی برڈ یا بلغاریہ اخروٹ کے باغ لگانے سے بھی کسانوں کو اچھی آمدنی ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر چہ اس کو آمدنی کے لحاظ سے سیب باغ کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا ہے لیکن اخروٹ کا باغ لگانے میں خرچہ اور محنت سیب باغ کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
وسطی ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے منظور احمد نامی ایک بیوپاری نے یو این آئی کو بتایا: ہم گذشتہ کم و بیس 30 برسوں سے یہ کاروبار کرتے ہیں اور اچھی خاصی کمائی کرتے ہیں بلکہ سیزن میں کئی لوگوں کو روز گار بھی فراہم کرتے ہیں’۔
انہوں نے اپنے اس کاروبار کے متعلق بتایا: ‘ہم کسانوں سے درختوں پر لگے اخروٹ خریدتے ہیں، یہ سودا درخت پر لگے اخروٹ کا اندازہ کرکے کیا جاتا ہے، پھر ہم مزور لاتے ہیں جو درختوں سے اخروٹ اتارتے ہیں اور ہم ان کو گھر میں صاف کرکے سکھاتے ہیں اور پھر منڈیوں یا بڑے بیو پاریوں کو فروخت کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم کسانوں سے صاف اور سوکھے اخروٹ بھی خریدتے ہیں اور پھر ان کو گھر میں پیک کرکے فروخت کرتے ہیں’۔
بڈگام کے پارس آباد کے اعجاز احمد نامی ایک کسان نے بتایا: ‘میں نے اخروٹ کا باغ نہیں بنایا ہے بلکہ اپنی کھیت پر کہیں کہیں اخروٹ کے درخت لگائے ہیں، میں ان کے لئے کوئی محنت نہیں کرتا ہوں مشکل سے سال بھر میں ایک بار ان کی معمولی کی دیکھ ریکھ کرتا ہوں’۔
انہوں نے کہا: ‘لیکن اس کے باوجود مجھے ان اخروٹ کے درختوں سے سالانہ اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اگر اخروٹ کے درختوں کا کچھ کنال اراضی پر ایک باغ تیار کیا جائے تو اچھی آمدنی ہوسکتی ہے جس سے گھر کا خرچہ چل سکتا ہے’۔
محکمہ زراعت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہائی برڈ یا بلغاریہ اخروٹ کا باغ کسانوں کے لئے اچھی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ایک کنال اراضی پر بلغاریہ اخروٹ کے کم سے کم دس درخت لگ سکتے ہیں، دو تین برسوں میں ہی فی درخت 40 سے 50 کلو اخروٹ دے سکتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان اخروٹوں کی بازار میں اچھی قیمت ہوتی ہے جس سے ایک کسان کو اچھی آمدنی ہوسکتی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جس قدر ان درختوں کی عمر بڑھ جائے گی اس قدر زیادہ سے زیادہ پیدوار دیں گے۔
تاہم بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ اخروٹ اتارنے کے لئے مزدوروں کا ملنا ہر گذرتے سال مشکل بن رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ مشکل اور انتہائی پر خطر اورصبر آزما کام ہے جس کی وجہ سے مزدور اب اس کام سے اجتناب کرتے ہیں۔
محمد اسداللہ میر نامی ایک بیوپاری نے کہا: ‘اچھی سے اچھی مزدوری دینے کے باوجود بھی کوئی یہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘یہ جوکھم بھرا کام ہے جس کی وجہ سے آج کے مزدور یہ کام نہیں کر رہے ہیں’۔
محمد یوسف خان نامی ایک مزدور جو اخروٹ اتارنے کا کام کرتا ہے، نے بتایا: ‘ میں درختوں سے اخروٹ اتارنے کا کام گزشتہ کئی سالوں سے کر رہا ہوں لیکن میرے گھر والے مجھ سے کافی ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘شادی پر بیوپاری سے قرضہ لیا تھا اور اس نے یہی کام کرنے کی شرط پر قرضہ دیا تھا اب اس سال قرضے کی بھرپائی ہو گی اگلے سال سے یہ کام نہیں کروں گا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس کام میں گھر والوں کو بھی یقین ہی نہیں ہوتا ہے کہ شام کو ہم واپس آئیں گے اور خود ہم کو بھی ہر آن درخت سے گرنے خطرہ لاحق رہتا ہے’۔
غلام محمد وانی نامی ایک مزدور نے بتایا کہ میں درخت سے اخروٹ اتارنے کے بجائے زمین پر پڑے اخروٹوں کو جمع کرنے کی مزدوری کرتا ہوں اس میں مزدوروی کم ملتی ہے لیکن جان گنوانے کا کوئی خطرہ نہیں رہتا ہے۔
اخروٹ کے درخت دیگر پھل کے درختوں جیسے سیب، ناشپاتی، انار، وغیرہ سے قد و قامت میں بڑے ہوتے ہیں اور ان سے اخروٹ اتارنے کا عمل بھی مذکورہ پھل اتارنے کے کاموں سے بھی مختلف ہے۔
سیب، ناشپاتی وغیرہ جیسے درختوں سے ایک عام مزدور بھی میوے اتار سکتا ہے اور ان درختوں پر چڑھ کر گرنے کا بھی کوئی خاص خطرہ لاحق نہیں ہوتا ہے لیکن اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔
زرعی یونیورسٹی کے ایک فارغ التحصیل اسکالر نے بتایا: ‘ہائی برڈ اخروٹ کے درخت بھی قد و قامت میں سیب کے درختوں جیسے ہیں جن کو لگانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘لمبے درختوں کے بجائے یہ درخت لگانے سے جہاں کسان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا وہیں بیوپاریوں کا کام بھی آسان ہوگا’۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر سال اس سیزن کے دوران کئی مزدور یا تو لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا عمر بھر کے لئے معذور ہو کر کچھ کمانے سے رہ جاتے ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
