تازہ ترین
سال2018: سیاسی افراتفری ،35A ٹکراؤ،الیکشن بائیکاٹ، ہڑتال ، ہلاکتیں ، اسمبلی تحلیل : ایک نظر میں
خبراردو
سال 2018ریاست جمو ں وکشمیر میں سیاسی افراتفری اور انارکی سے پر ثابت ہوا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں سیاسی سطح پر کافی گہما گہمی رہی ۔ جہاں پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کے موجود ہونے تک سبھی مذکورہ سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے وہیں سال کے وسط میں حکومت گرجانے کے بعد سیاسی سطح پر ایک بھونچال آگیا جس دوران بیشتر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی وابستگیوں کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو ’ابن الوقت‘ ثابت کرتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں میں چھلانگیں مارنا شروع کردیا۔ریاست جموں وکشمیر نے 2018میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے زوال کے فوراً بعد ہی گورنر راج کا نظارہ کیا جس دورا ن یہاں زمام کار این این ووہرا کے ہاتھ میں آگئی۔ این این ووہرا نے چند مہینوں تک ریاست میں19جون سے لے کر 22اگست تک ریاست میں کام کاج سنبھالا جس کے بعد اُن کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد مرکزنے ریاست کے لئے نئے گورنر ستیہ پال ملک کی تعینانی کے احکامات صادر کئے۔

21اگست کو صدر رام ناتھ کوند نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھاگپت اتر پردیش کے رہنے والے ستیہ پال ملک کو ریاست کے نیا گورنر تعینات کیا اور یوں انہیں ریاست کے انتظامی اُمور کو بحسن و خوبی چلانے کے لیے مامور کیا گیا۔اس دوران سال بھر عموماً اور گورنر راج کے دوران بالخصوص جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران جہاں جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیا اُدھر عام شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اس کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں وادی میں تناؤ اور کشیدگی کے ماحول نے نیا رخ اختیار کیا تاہم سرکاری ذرائع نے سال بھر کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد کو اطمینان کا اظہار کیا اور گورنر راج کے دوران ریاست میں حالات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر قرار دیا۔سال کے اوائل سے ہی سیاسی سطح پر افرا تفری کا ماحول بپا رہا جس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مارچ 2019میں وزیر مالیات ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کردیا۔اسی طرح اپریل کے آخر پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی کابینہ میں بڑے پیمانے پر روبدل کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل اکائیوں سے وبستہ نئے چہروں کو متعارف کرایا جن میں اسمبلی کے سابق اسپیکر کوندر گپتا شامل ہے جنہیں کابینی ردوبدل کے بعد ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بطور حلف دلایا گیا۔اسی اثنا میں جب کہ ابھی پی ڈی پی نے اُڑان بھرنے کی نیت ہی کی تھی ، کی شراکت دار بی جے پی نے اچانک پی ڈی پی کے پیروں سے زمین کھسکائی اور اس طرح پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمات واپس لیتے ہوئے ریاست میں سیاسی سطح پر غیر یقینی صورتحال پید اکرکے یہاں گورنر راج کے لیے راہ ہموار کردی۔اس دوران گورنر این این ووہرا جو کہ ایک ہفتے بعد ہی اپنی مدت کار مکمل کرنے جارہے تھے، نے وادی ریاست میں گورنر راج کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس دوران انہوں نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا کیوں کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے گورنر کو اپنی سفارشات پیش نہیں کی تھی تاہم 6مہینے کا عرصہ گزرجانے کے بعد ریاست میں صدر راج کی راہ بھی ہموار ہوگئی جس کا فیصلہ بالآخر 19دسمبر کی دیر شام گئے جاری کردیا گیا۔صدر رام ناتھ کووند نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی سفارشات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی ریاست میں صدر راج سے متعلق حکم نامے پر دستخط ثبت کردئے۔اسی طرح سال 2018میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے نیچا کردیا جس کے نتیجے میں ریاست اور بیرون ریاست انسان دوست لوگوں کے کلیجے منہ کو آگئے۔
10جنوری 2018کو کٹھوعہ کے رسانہ علاقے میں گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی اچانک لاپتہ ہوئی جس کے بعد گھر والوں نے اُن کو تلاش کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ واقعے نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب 8سالہ بچی کی نعش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی۔پولیس نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے لاش کا جونہی پوسٹ مارٹم کیا تو اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ 8سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کی جبکہ بعد میں واقعے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اور لوگوں کے مطالبے پر ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو مقرر کیا۔ سی بی آئی نے جونہی کیس کی گہرائی سے چھان بین کی تو اس دوران انسانیت کو شرمسار کردینے والے انکشاف سامنے آگئے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ بچی کو پہلے نشیلی ادویات دی گئی تھی جس کے بعد اُس کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ اس طرح کے انکشاف سامنے آنے کے بعد وادی سمیت بیرون ریاست میں عوام نے کڑا احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو پھانسی پرلٹکانے کا مطالبہ کیا۔اس کے برعکس بی جے پی حکومت میں شامل 2وزرا چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن نے جموں صوبے میں عوامی ریلیاں نکالتے ہوئے ملزمین کے حق میں عوامی حمایت بٹورنے کی کوشش کی اور واقعے کی کرائم برانچ آف انڈیا کی طرف سے تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔اس دروان مخلوط اتحاد میں شامل پی ڈی پی نے کٹھوعہ واقعے پر اپنے مؤقف کو سخت کرتے ہوئے عوامی مطالبے کے شانہ بشانہ چلنے کا عہد کیا جس کو محسو س کرتے ہوئے بی جے پی نے چند دن بعد ہی کابینہ میں سے چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تاہم چودھری لعل سنگن نے اس کے بعد بھی جموں صوبے میں عوامی ریلیوں کو منعقد کیا اور کٹھوعہ واقعے میں ملوث افراد کے حق میں مہم شروع کردی۔ادھرسال کے اوائل میں جموں کے سدراہ علاقے میں رہائش پذیر گجر بستیوں کو تہس نہس کیا گیا ۔

اس حوالے سے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جموں میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر جموں کے مضافات میں رہائش پذیر گوجروں کے کوٹھوں کو تہس نہس کرتے ہوئے انہیں زبردستی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔اس طرح کے اقدام پر جموں کی مسلم آبادی نے حکومت اورجموں انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرستوں کی ایما پر اس طرح کی کارروائی کررہی ہے تاکہ جموں سے مسلمانوں کا انخلا عمل میں لایا جائے۔ادھر سال 2018کے دوران ریاست جمو ں وکشمیر کو خصوصی شناخت فراہم کرنے والی دفعہ 35Aاور 370پر بھی کافی گرما گرم بحث و مباحثہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ریاست بالخصوص وادی میں غیر یقینی اور کشیدگی کا ماحول چھایا رہا۔ مرکز میں دائیں بازوں کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جن کی سماعت کو لے کر وادی میں تناؤ کا ماحول بنارہا۔ اس دوران اگر چہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کو مؤخر کیا تاہم اس دوران ریاست بھر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مسلسل احتجاجی ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں ہوکا عالم چھایا رہا۔سال کے دوران مسئلہ کشمیر کی گونج نے بھی بیرونی دنیا میں تہلکہ مچادیا جب اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق انسانی کے کمیشن نے ریاست جمو ں وکشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے متعلق رپورٹ منظر عام پر لائی۔ کمیشن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کمیشن کے ممبران کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ یہاں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو وہ از خود جائزہ لیں تاہم بھارت نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی کے بیان کو نکارتے ہوئے اسے سیاسی طرفداری سے تعبیر کیا۔

ادھر وادی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال میں ابتری واقع ہونے کے بعد مخلوط اتحاد میں شامل بی جے پی نے پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لی جس کے بعد پی ڈی پی کے اندر موجود خلفشار نے سنگین رخ اختیار کرتے ہوئے کئی چوٹی کے لیڈران کو پارٹی معاملات پر محبوبہ مفتی کی بغاوت پر اُترتے ہوئے دیکھا۔باغی اور ناراض ممبران نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی میں اقربا پروری کو ہی ترجیح دیتے ہوئے لوگوں کے منڈیٹ سے کھلواڑ کیا۔اس دوران ریاست میں افواہیں گشت کرنے لگی کہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے لیڈران بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دیں گے ۔ پی ڈی پی کے چند ناراض لیڈران کے دل سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے تئیں دھڑک رہے تھے جو ریاست میں بی جے پی کے درپردہ اُمیدوار کی حیثیت سے معروف ہے۔شیعیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر عمران رضاانصاری،ایم ایل سی عابد انصاری، ممبر اسمبلی ٹنگمرگ محمد عباس وانی،ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید بیگ، ایم ایل سی یاسر ریشی اور ایم ایل سی سیف الدین بٹ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی پارٹی معاملات کو لے کر کھل کر مخالف کی۔حتی کہ پی ڈی پی کے سینئر ترین لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے دست راست مظفر حسین بیگ نے بھی پارٹی صدر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی معاملات کر کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ پر بھی ان کی رائے طلب نہیں کی گئی۔

تاہم چند دن قبل ہی پی ڈی پی ایک اہم نشست میں مظفر حسین بیگ کو پارٹی کا سرپرست مقرر کیا گیا اوراگر اندرون ذرائع کی بات کو صحیح مانا جائے تو انہیں ناراض اور باغی ممبران کو پارٹی میں واپس لانے اور پارٹی کے اندر استحکام پید اکرنے کی ذمہ داری سونپی جاچکی ہے۔ادھر چند دن قبل پی ڈی پی کو اور ایک جھٹکا اُس وقت لگا جب شمالی کشمیر کے اہم ترین لیڈر بشارت بخاری نے بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دتے ہوئے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ معلوم ہو اہے کہ کریری بارہمولہ کے رہنے والے بشارت بخاری نے چند ہفتے قبل پارٹی معاملات کے حوالے سے اپنے حلقہ انتخاب کے کارکنوں سے گفت و شنید کے بعد ہی پی ڈی پی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر پی ڈی پی کے اور ایک رکن پیر محمد نے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی اور انہوں نے بھی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر سال کے وسط میں شروع ہوئی امر ناتھ یاترا کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے مرکز نے ریاست میں تعینات اُس وقت کے گورنر این این ووہرا کی مدت کار میں مزید دو مہینوں کی توسیع کی تاکہ امر ناتھ یاترا کے انتظامات کو بلاخلل جاری رکھا جائے تاہم 22اگست کو نئے گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست جمو ں وکشمیر میں انتظامی اُمور کو چلانے کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلہ جات لیے جن میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔ اگر چہ ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے گورنر ستیہ پال ملک کو سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کی مانگ کی تاہم گورنر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ کے این ایس
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
