تازہ ترین
سال2018: سیاسی افراتفری ،35A ٹکراؤ،الیکشن بائیکاٹ، ہڑتال ، ہلاکتیں ، اسمبلی تحلیل : ایک نظر میں
خبراردو
سال 2018ریاست جمو ں وکشمیر میں سیاسی افراتفری اور انارکی سے پر ثابت ہوا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں سیاسی سطح پر کافی گہما گہمی رہی ۔ جہاں پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کے موجود ہونے تک سبھی مذکورہ سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے وہیں سال کے وسط میں حکومت گرجانے کے بعد سیاسی سطح پر ایک بھونچال آگیا جس دوران بیشتر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی وابستگیوں کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو ’ابن الوقت‘ ثابت کرتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں میں چھلانگیں مارنا شروع کردیا۔ریاست جموں وکشمیر نے 2018میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے زوال کے فوراً بعد ہی گورنر راج کا نظارہ کیا جس دورا ن یہاں زمام کار این این ووہرا کے ہاتھ میں آگئی۔ این این ووہرا نے چند مہینوں تک ریاست میں19جون سے لے کر 22اگست تک ریاست میں کام کاج سنبھالا جس کے بعد اُن کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد مرکزنے ریاست کے لئے نئے گورنر ستیہ پال ملک کی تعینانی کے احکامات صادر کئے۔

21اگست کو صدر رام ناتھ کوند نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھاگپت اتر پردیش کے رہنے والے ستیہ پال ملک کو ریاست کے نیا گورنر تعینات کیا اور یوں انہیں ریاست کے انتظامی اُمور کو بحسن و خوبی چلانے کے لیے مامور کیا گیا۔اس دوران سال بھر عموماً اور گورنر راج کے دوران بالخصوص جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران جہاں جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیا اُدھر عام شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اس کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں وادی میں تناؤ اور کشیدگی کے ماحول نے نیا رخ اختیار کیا تاہم سرکاری ذرائع نے سال بھر کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد کو اطمینان کا اظہار کیا اور گورنر راج کے دوران ریاست میں حالات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر قرار دیا۔سال کے اوائل سے ہی سیاسی سطح پر افرا تفری کا ماحول بپا رہا جس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مارچ 2019میں وزیر مالیات ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کردیا۔اسی طرح اپریل کے آخر پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی کابینہ میں بڑے پیمانے پر روبدل کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل اکائیوں سے وبستہ نئے چہروں کو متعارف کرایا جن میں اسمبلی کے سابق اسپیکر کوندر گپتا شامل ہے جنہیں کابینی ردوبدل کے بعد ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بطور حلف دلایا گیا۔اسی اثنا میں جب کہ ابھی پی ڈی پی نے اُڑان بھرنے کی نیت ہی کی تھی ، کی شراکت دار بی جے پی نے اچانک پی ڈی پی کے پیروں سے زمین کھسکائی اور اس طرح پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمات واپس لیتے ہوئے ریاست میں سیاسی سطح پر غیر یقینی صورتحال پید اکرکے یہاں گورنر راج کے لیے راہ ہموار کردی۔اس دوران گورنر این این ووہرا جو کہ ایک ہفتے بعد ہی اپنی مدت کار مکمل کرنے جارہے تھے، نے وادی ریاست میں گورنر راج کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس دوران انہوں نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا کیوں کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے گورنر کو اپنی سفارشات پیش نہیں کی تھی تاہم 6مہینے کا عرصہ گزرجانے کے بعد ریاست میں صدر راج کی راہ بھی ہموار ہوگئی جس کا فیصلہ بالآخر 19دسمبر کی دیر شام گئے جاری کردیا گیا۔صدر رام ناتھ کووند نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی سفارشات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی ریاست میں صدر راج سے متعلق حکم نامے پر دستخط ثبت کردئے۔اسی طرح سال 2018میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے نیچا کردیا جس کے نتیجے میں ریاست اور بیرون ریاست انسان دوست لوگوں کے کلیجے منہ کو آگئے۔
10جنوری 2018کو کٹھوعہ کے رسانہ علاقے میں گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی اچانک لاپتہ ہوئی جس کے بعد گھر والوں نے اُن کو تلاش کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ واقعے نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب 8سالہ بچی کی نعش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی۔پولیس نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے لاش کا جونہی پوسٹ مارٹم کیا تو اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ 8سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کی جبکہ بعد میں واقعے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اور لوگوں کے مطالبے پر ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو مقرر کیا۔ سی بی آئی نے جونہی کیس کی گہرائی سے چھان بین کی تو اس دوران انسانیت کو شرمسار کردینے والے انکشاف سامنے آگئے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ بچی کو پہلے نشیلی ادویات دی گئی تھی جس کے بعد اُس کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ اس طرح کے انکشاف سامنے آنے کے بعد وادی سمیت بیرون ریاست میں عوام نے کڑا احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو پھانسی پرلٹکانے کا مطالبہ کیا۔اس کے برعکس بی جے پی حکومت میں شامل 2وزرا چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن نے جموں صوبے میں عوامی ریلیاں نکالتے ہوئے ملزمین کے حق میں عوامی حمایت بٹورنے کی کوشش کی اور واقعے کی کرائم برانچ آف انڈیا کی طرف سے تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔اس دروان مخلوط اتحاد میں شامل پی ڈی پی نے کٹھوعہ واقعے پر اپنے مؤقف کو سخت کرتے ہوئے عوامی مطالبے کے شانہ بشانہ چلنے کا عہد کیا جس کو محسو س کرتے ہوئے بی جے پی نے چند دن بعد ہی کابینہ میں سے چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تاہم چودھری لعل سنگن نے اس کے بعد بھی جموں صوبے میں عوامی ریلیوں کو منعقد کیا اور کٹھوعہ واقعے میں ملوث افراد کے حق میں مہم شروع کردی۔ادھرسال کے اوائل میں جموں کے سدراہ علاقے میں رہائش پذیر گجر بستیوں کو تہس نہس کیا گیا ۔

اس حوالے سے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جموں میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر جموں کے مضافات میں رہائش پذیر گوجروں کے کوٹھوں کو تہس نہس کرتے ہوئے انہیں زبردستی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔اس طرح کے اقدام پر جموں کی مسلم آبادی نے حکومت اورجموں انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرستوں کی ایما پر اس طرح کی کارروائی کررہی ہے تاکہ جموں سے مسلمانوں کا انخلا عمل میں لایا جائے۔ادھر سال 2018کے دوران ریاست جمو ں وکشمیر کو خصوصی شناخت فراہم کرنے والی دفعہ 35Aاور 370پر بھی کافی گرما گرم بحث و مباحثہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ریاست بالخصوص وادی میں غیر یقینی اور کشیدگی کا ماحول چھایا رہا۔ مرکز میں دائیں بازوں کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جن کی سماعت کو لے کر وادی میں تناؤ کا ماحول بنارہا۔ اس دوران اگر چہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کو مؤخر کیا تاہم اس دوران ریاست بھر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مسلسل احتجاجی ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں ہوکا عالم چھایا رہا۔سال کے دوران مسئلہ کشمیر کی گونج نے بھی بیرونی دنیا میں تہلکہ مچادیا جب اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق انسانی کے کمیشن نے ریاست جمو ں وکشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے متعلق رپورٹ منظر عام پر لائی۔ کمیشن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کمیشن کے ممبران کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ یہاں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو وہ از خود جائزہ لیں تاہم بھارت نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی کے بیان کو نکارتے ہوئے اسے سیاسی طرفداری سے تعبیر کیا۔

ادھر وادی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال میں ابتری واقع ہونے کے بعد مخلوط اتحاد میں شامل بی جے پی نے پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لی جس کے بعد پی ڈی پی کے اندر موجود خلفشار نے سنگین رخ اختیار کرتے ہوئے کئی چوٹی کے لیڈران کو پارٹی معاملات پر محبوبہ مفتی کی بغاوت پر اُترتے ہوئے دیکھا۔باغی اور ناراض ممبران نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی میں اقربا پروری کو ہی ترجیح دیتے ہوئے لوگوں کے منڈیٹ سے کھلواڑ کیا۔اس دوران ریاست میں افواہیں گشت کرنے لگی کہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے لیڈران بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دیں گے ۔ پی ڈی پی کے چند ناراض لیڈران کے دل سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے تئیں دھڑک رہے تھے جو ریاست میں بی جے پی کے درپردہ اُمیدوار کی حیثیت سے معروف ہے۔شیعیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر عمران رضاانصاری،ایم ایل سی عابد انصاری، ممبر اسمبلی ٹنگمرگ محمد عباس وانی،ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید بیگ، ایم ایل سی یاسر ریشی اور ایم ایل سی سیف الدین بٹ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی پارٹی معاملات کو لے کر کھل کر مخالف کی۔حتی کہ پی ڈی پی کے سینئر ترین لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے دست راست مظفر حسین بیگ نے بھی پارٹی صدر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی معاملات کر کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ پر بھی ان کی رائے طلب نہیں کی گئی۔

تاہم چند دن قبل ہی پی ڈی پی ایک اہم نشست میں مظفر حسین بیگ کو پارٹی کا سرپرست مقرر کیا گیا اوراگر اندرون ذرائع کی بات کو صحیح مانا جائے تو انہیں ناراض اور باغی ممبران کو پارٹی میں واپس لانے اور پارٹی کے اندر استحکام پید اکرنے کی ذمہ داری سونپی جاچکی ہے۔ادھر چند دن قبل پی ڈی پی کو اور ایک جھٹکا اُس وقت لگا جب شمالی کشمیر کے اہم ترین لیڈر بشارت بخاری نے بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دتے ہوئے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ معلوم ہو اہے کہ کریری بارہمولہ کے رہنے والے بشارت بخاری نے چند ہفتے قبل پارٹی معاملات کے حوالے سے اپنے حلقہ انتخاب کے کارکنوں سے گفت و شنید کے بعد ہی پی ڈی پی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر پی ڈی پی کے اور ایک رکن پیر محمد نے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی اور انہوں نے بھی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر سال کے وسط میں شروع ہوئی امر ناتھ یاترا کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے مرکز نے ریاست میں تعینات اُس وقت کے گورنر این این ووہرا کی مدت کار میں مزید دو مہینوں کی توسیع کی تاکہ امر ناتھ یاترا کے انتظامات کو بلاخلل جاری رکھا جائے تاہم 22اگست کو نئے گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست جمو ں وکشمیر میں انتظامی اُمور کو چلانے کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلہ جات لیے جن میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔ اگر چہ ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے گورنر ستیہ پال ملک کو سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کی مانگ کی تاہم گورنر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ کے این ایس
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
