جموں و کشمیر
روزانہ کروڑوں کا نقصان، اگر یہ جاری رہا تو یہ کشمیر کے شعبہ باغبانی کو تباہ کر دے گا:صدر فروٹ منڈی سوپور
قومی شاہراہ کو 2دن میں بحال کرﺅ ،کاشتکاروں نے دی ہمہ گیر ہڑتال کی وارننگ
بازاروں سے سیب اور دوسرے مقامی میوہ جات بھی خریدیں: صدرفروٹ منڈی کولگام کی لوگوں سے اپیل
سوپور،:جے کے این ایس : گزشتہ کم وبیش 3ہفتوں سے بڑی اورمال بردارگاڑیوں کی آواجاہی کیلئے بند پڑی سری نگر جموں قومی شاہراہ پرقاضی گنڈ سے لیکر بانہال تک سیب کی پیٹیوں اور ڈبوں سے لدے سینکڑوں ٹرک درماندہ پڑے ہوئے ہیں جبکہ30اگست کو رام بن سے بانہال تک رُکی پڑی مال بردار گاڑیوں کو نکالاگیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق قومی شاہراہ کی مسلسل بندش کے باعث کشمیروادی کے پھل کاشتکاروں اور تاجروں میں تشویش کیساتھ ساتھ حکومت کیخلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔پھلوں سے لدے ٹرکوں کی آسانی سے نقل و حرکت کو یقینی بنانے میں حکومت کی ناکامی کےخلاف پیر کو کشمیر بھر کی پھل منڈیوں نے مکمل بند منایا۔منڈیوںکو تالہ بند کرکے پھل کاشتکاروں اور تاجروں نے سری نگر جموں قومی شاہراہ کو 2دن کے اندر مکمل طور پر بحال نہ کرنے کی صورت میں وادی گیر ہڑتال کا انتباہ دیا۔سوپور میں قائم ایشیا کی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی میں پیرکو جذباتی مناظر منظر دیکھنے میں آئے، جہاں بحران سے دوچار پھل کاشتکار آنسو بھری آنکھوں کےساتھ صنعت کی بقاءکی التجا کر رہے تھے۔سینکڑوں کاشتکار، ڈیلرز، تاجر اور دیگر اسٹیک ہولڈرز فروٹ منڈی کے دروازوں پر جمع ہوئے، جنہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور نعرے بلند کر رہے تھے کہ شاہراہ پر دنوں سے پھنسے ہوئے پھلوں سے لدے ٹرکوں کو بلا روک ٹوک گزرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا اور پرامن طور پر منتشر ہوگیا۔سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں خاندان باغبانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے پھلوں کے ٹرک بغیر کسی وجہ کے ہائی وے پر روکے جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں روزانہ کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر یہ جاری رہا تو یہ کشمیر کے باغبانی کے شعبے کو تباہ کر دے گا۔بہت سے باغ مالکان اور پھل تاجروں کی قوت برداشت احتجاج کے دوران ٹوٹ گئی۔اس پر سخت افسردہ پھل کاشتکاروں نے کہاکہ ان کی سال بھر کی محنت پھنسے ہوئے ٹرکوں میں سڑ رہی ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بن بیٹھی ہے۔احتجاج میں شامل پھل کاشتکاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے صدرفروٹ منڈی ایسوسی ایشن فیاض احمد ملک عرف کاکا جی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر لوگوں کو ناکام کرنے کا الزام لگایاکہ منتخب حکومت ہاتھوں پر ہاتھ لیکر بیٹھی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر وزیراعلیٰ پھلوں کے ٹرکوں کے گزرنے کو یقینی نہیں بنا سکتا ہے، تو اسے دفتر پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ فیاض احمد ملک عرف کاکا جی نے وزیراعلیٰ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ کسی بھی ایم ایل اے نے کاشتکاروں کے لیے بات نہیں کی۔درپیش صورتحال سے تشویش میں مبتلاءپھل کاشتکاروں نے الزام لگایا کہ جب لوہے اور دیگر اجناس سے لدے ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی تھی، پھلوں سے لدی گاڑیوں کو جان بوجھ کر روک دیا گیا تھا۔فیاض احمد ملک نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر سری نگر جموں قومی شاہراہ کو بحال نہیں کیا گیا تو کاشتکار وادی بھر میں ہڑتال کا اعلان کریں گے جس سے پورے خطے میں معاشی سرگرمیاں مفلوج ہو سکتی ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوپور، ہندواڑہ، شوپیاں، کولگام، اننت ناگ اور دیگر سمیت وادی بھر کی فروٹ منڈیاں14 اور 15 ستمبر کو 2 روزہ بند کال کے ایک حصے کے طور پر بند رہیں۔ اس سے قبل پھلوں کے کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن نے اطلاع دی تھی کہ سینکڑوں ٹرکوں کو پھل لیکرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور سری نگر جموں قومی شاہراہ پھلوں سے لدے ٹرکوں کے قابل نہیں ہے۔اس دوران فروٹ منڈی کولگام کے صدرجی این بانڈے نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ درآمدی میوہ جات کیساتھ ساتھ مقامی میوﺅں کو بھی خریدیں ۔انہوںنے کہاکہ مقامی لوگ میوہ صنعت کو بڑی تباہی سے بچانے میں رول ادا کرسکتے ہیں ۔جی این بانڈے نے کہاکہ میں لوگوں سے اپیل کرتاہوں ،وہ بازاروں سے سیب اور دوسرے مقامی میوہ جات بھی خریدیں ۔تاہم فروٹ منڈی کولگام کے صدرجی این بانڈے نے کہاکہ جن لوگوں کے اپنے میوہ باغات ہیں،وہ بھی یہ بازاروں سے درآمدی میوے خرید کر گھر لے جاتے ہیں۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
