ہندوستان
مودی، ایک مضبوط اور خود کفیل ہندستان کے معمار:وزیر داخلہ امت شاہ
نئی دہلی، 17 ستمبر کا دن، کئی وجوہات کی بنا پر تاریخ کا ایک اہم دن ہے اس دن تمام کاریگر اور کارکن بڑے جوش وخروش کے ساتھ وشوکرما جینتی مناتے ہیں اس دن حیدرآباد کو جابر نظام اور رضا کاروں سے آزاد کرایا گیا اور، آج کے دن ہی ایک ایسے سماجی خدمتگار کا جنم ہوا ،جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک اور اہل وطن کے لیے وقف کر دیا مودی جی کا یہ یوم پیدائش اس لئے بھی نہایت خاص ہے، کیونکہ یہ ان کی 75ویں سالگرہ ہے۔ 140 کروڑ ہم وطنوں کی طرف سے، میں مودی جی کو سالگرہ کی دلی مبارکباد دیتا ہوں اور ایشور سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ وہ ہندوستان کے مضبوط مستقبل کے لیے مودی جی کو لمبی زندگی، توانائی اور صحت عطا کرے۔ان خیالات کا اظہار مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیرامت شاہ نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کئی دہائیوں تک کام کرتے ہوئے، میں نے یہ تجربہ کیا ہے کہ ان کی شخصیت ایک سیاست دان سے زیادہ ہے، لیکن قومی مفاد کے لیے وقف ایک ہدف پر مبنی رہنما کی ہے اور ایک ایسے لیڈر جن کی قیادت میں قوم کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود اس کا نصب العین ہو۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت کی یہ خاصیت ہے کہ ان کے پاس اپنی حکمرانی میں سماج کے تمام طبقات کی شراکت کو یقینی بنانے کا وژن ہے۔ وہ اس مقصد کے ساتھ پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ پر زور دیتے ہیں کہ معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اور فرد ترقی سے محروم نہ رہے۔ وہ حکمرانی کو خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، طاقت کا ذریعہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت میں غریبوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوزکرتے ہوئے بہت سی اسکیمیں نہ صرف شروع کی گئیں بلکہ اپنے مقاصد کو کامیابی سے حاصل بھی کر رہی ہیں۔
امت شاہ نے کہا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جن دھن یوجنا نے 50 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بینکنگ نظام سے جوڑ کر مالی شمولیت کا ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ اجولا یوجنا ہر گھر تک دھوئیں سے مبرا اور باعزت زندگی کا پیغام لے کر آئی۔ آیوشمان بھارت نے غریبوں کو صحت کا تحفظ فراہم کیا، جب کہ پردھان منتری آواس یوجنا نے غریبوں کو اپنا گھر بنانے کا خواب پورا کرنے کا موقع دیا۔ جب بھی میں اس طرح کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے کی آنکھوں میں اطمینان اور اعتماد دیکھتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ مودی جی کی حکومت زمینی سطح پر عوامی بہبود کے مقصد کو کس طرح پورا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پرچارک کے طور پر انہوں نے ملک کے کئی حصوں میں سماج کے ہر طبقے کے ساتھ بات چیت کی۔ یہ ان کی جہاندیدہ زندگی کا وہ دور تھا، جس میں انہوں نے نہ صرف ملک کی روح کو قریب سے دیکھا، بلکہ اس کی باطنی قوت سے بھی روبرو ہوئے۔ ان کا یہ تجربہ، ان کی حکمرانی کی پالیسی اور کام کرنے کے انداز فکر سے غریبوں اور محروموں کے تئیں ہمدردی کی صورت میں جھلکتا ہے۔ سنگھ کے پرچارک کے طور پر، مودی جی نے تنظیم سازی کا فن سیکھا اور بعد میں بی جے پی کے تنظیم کے معمار کے طور پر، تنظیم کو عصری کام کرنے کے لیے انہوں نے کئی کامیاب اختراعات اور تجربات کیے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ بی جے پی کے قومی صدر کی حیثیت سے مجھے مودی جی کی رہنمائی اور ان کے تنظیمی تجربے کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا موقع ملا۔
مشکل حالات میں فیصلے لینے کی صلاحیت مضبوط قیادت کی پہچان ہوتی ہے۔ اس معاملے میں مودی جی کی قائدانہ صلاحیت الگ ہی طریقے سے بنی ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بڑے سے بڑے حالات میں بھی اُن کے اندر غیر معمولی تحمل اور واضح نظریہ ہے۔ 2014 کے بعد ایسے کئی موقع آئے، جب ملک کو بڑے اور سخت فیصلوں کی ضرورت تھی۔ ایسے تمام موقعوں پر وزیر اعظم مودی نے پوری مضبوطی اور مستعدی کے ساتھ قیادت کی باگ ڈور سنبھالی اور قومی مفاد کے مطابق فیصلے کئے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات نے اقتصادی اصلاحات کو تیز کرکے ہماری معیشت میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
دفعہ- 370 کی تاریخی منسوخی صدیوں تک یاد رکھنے والا واقعہ ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی جرات مندی بلکہ قومی اتحاد اور سالمیت پر مودی جی کے غیر متزلزل یقین کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ تین طلاق جیسی سماجی برائیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ خواتین کے وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جرات مندانہ قدم تھا۔ یہ فیصلے آسان نہیں تھے۔ ان میں سے کئی فیصلوں کی مخالفت بھی ہوئی، لیکن وزیر اعظم مودی جی عزم مصمم کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ اگر کوئی کام قومی مفاد میں ضروری ہے، تو اسے مخالفت اور تنقید کی پرواہ کیے بغیر ہر حال میں مکمل کیا جائے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ بات زیادہ پرانی نہیں ہے کہ جب کووڈ- 19 جیسی وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسے مشکل وقت میں بھی مودی جی نے نہ صرف عوام کو یقین دلایا، بلکہ ملک کی صنعتوں، سائنسدانوں اور نوجوانوں کو خود انحصاری کی طرف لے گئے۔ دنیا سوچ رہی تھی کہ اس وبا میں ہندوستان کا کیا ہوگا! لیکن یہ ہماری قیادت کا ہنر تھا کہ نہ صرف ریکارڈ وقت میں ملک میں ویکسین تیار کی گئی، بلکہ ٹیکنالوجی سے چلنے والی مفت ٹیکہ کاری مہم کے ذریعے ہم نے دنیا کے سامنے کووِڈ مینجمنٹ کا ایک مثالی نمونہ پیش کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ قومی سلامتی اور عزت نفس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ اڑی حملے کے بعد سرجیکل اسٹرائیک نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہندستان اب دہشت گردی کا خاموشی سے تماشائی نہیں بنے گا۔ پلوامہ واقعہ کے بعد بالاکوٹ فضائی حملے نے اس عزم کو اور بھی تقویت بخشی۔ حال ہی میں پہلگام حملے کے جواب میں 7 مئی 2025 کو کیے گئے ‘آپریشن سندور’ نے فیصلہ کن طور پر یہ پالیسی قائم کی کہ جب بھی ملک کی شناخت اور شہریوں کی سلامتی کو زک پہنچے گی، ہندوستان پوری ہمت اور عزم کے ساتھ اس کا جواب دے گا۔ ان اقدامات سے نہ صرف ہم وطنوں میں اعتماد اور فخر کے جذبے کو تقویت ملی، بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ نیا ہندوستان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی مودی جی کا کام کرنے کا انداز منفرد ہے۔ آج جب وہ ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں اور اعتماد کے ساتھ ہندوستان کاموقف پیش کررہے ہیں، تو ہم سب کے اندر فخر کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پہلے جہاں ہندوستان کو اکثر ابھرتے ہوئے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اب مودی جی کی قیادت میں ہندوستان ایک عالمی لیڈر کا کردار ادا کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ آب وہوا سے متعلق پیرس معاہدہ ہو، جی- 20 کانفرنس ہو یا اقوام متحدہ میں دیا گیا خطاب – ہر جگہ ان کا اعتماد ہندوستان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور فخر کی علامت رہا ہے۔
میں نریندر مودی کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں، اسی کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ ان کی شخصیت صرف پالیسیوں اور پروگراموں تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ ان کے اندر ایک خاص کرشمہ ہے، جو انہیں براہ راست عوام سے جوڑتی ہے۔ ان کی تقریر میں بے ساختگی اور سادگی کا ہنر ہے، جس کی وجہ سے وہ بات چیت کرتے ہوئے عوام کے دلوں میں اُتر جاتے ہیں۔ جب وہ ریڈیو پر ‘من کی بات’ میں اظہار خیال کرتے ہیں، تو کروڑوں لوگوں کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم ان سے براہ راست ہم کلام ہیں۔ گاؤں کا کسان ہو یا شہر کا طالب علم یا گھریلو خاتون، ہر کوئی ان کے ساتھ وابستگی کا احساس کرنے لگتا ہے، یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر نریندر مودی نے ہندوستان کو نہ صرف معاشی اور سیاسی طور پر بلکہ ذہنی اور ثقافتی طور پر بھی طاقتور بنایا ہے۔ مودی جی، جنہیں ہندوستان کی اندرونی طاقت کا بخوبی اندازہ ہے، کا وژن یہ ہے کہ 2047 میں، جب ہندوستان آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، ہمارا ملک ایک ‘خود کفیل ہندوستان’ اور ایک عظیم ملک کے طور پر دوبارہ وجود میں آئے، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، وہ اپنی دور اندیش پالیسیوں سے ملک کو تیزی سے اس سمت لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے عوام کویہ یقین دلایا ہے کہ ہم دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں۔
گزشتہ 11 برسوں میں ان کی قیادت میں ملک نے عزت نفس، خود انحصاری اور خود اعتمادی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے، جو میری نظر میں تاریخی بھی ہے اور منفرد بھی۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ درحقیقت،حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے ، جو ہر لمحہ قوم کے لیے وقف ہو اور جس کا وژن حال سے مستقبل تک نظر آتا ہو۔ نریندر مودی جی کی یہ شخصیت آج ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یو این آئی۔ایف اے۔ م الف
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
