ہندوستان
فوجوں کو جنگ کے روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے: راج ناتھ
کولکتہ/نئی دہلی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مسلح افواج پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے روایتی تصورات سے آگے بڑھیں اور معلومات، نظریاتی، ماحولیاتی اور حیاتیاتی جنگ جیسے غیر روایتی خطرات سے پیدا ہونے والے پوشیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے چوکس اور تیار رہیں۔ 16 ستمبر 2025 کو مغربی بنگال کے کولکتہ میں کمبائنڈ کمانڈروں کی کانفرنس 2025 سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے ہنگامہ خیز عالمی نظام، علاقائی عدم استحکام اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے منظر نامے کے پیش نظر، دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں اور ملک کے سلامتی کے نظام پر اس کے اثرات کے مسلسل جائزے کی ضرورت پر زور دیا۔مسٹر راج ناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ جنگ کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور حالیہ عالمی تنازعات نے ’’ٹیکنالوجی دوست‘‘ فوج کی موزونیت کو اجاگر کیا ہے ۔ آج کی جنگیں اتنی اچانک اور غیر متوقع ہیں کہ اس کی مدت کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔ یہ دو ماہ، ایک سال یا پانچ سال بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہماری اضافے کی صلاحیت کافی رہے۔
ہندوستان کے دفاعی شعبے کو جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کا امتزاج قرار دیتے ہوئے، وزیر دفاع نے کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نقطہ نظر میں سرگرم رہیں اور وزیر اعظم مودی کے تصور کے مطابق سدرشن چکر کی تعمیر کے لیے کوشش کریں۔ یہ بتاتے ہوئے کہ اس منصوبے کا جائزہ لینے اور ’’حقیقت پسندانہ ایکشن پلان‘‘ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے اگلے پانچ سالوں کے لیے ایک درمیانی مدت کا منصوبہ اور اگلے دس سالوں کے لیے ایک طویل مدتی منصوبہ وضع کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ اس وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے ۔
اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ملک کا دفاعی شعبہ جدید کاری، آپریشنل تیاری، تکنیکی برتری اور قابل اعتماد روک تھام کی صلاحیت پر مرکوز ہے، مسٹر راج ناتھ سنگھ نے 15 ستمبر 2025 کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے دیے گئے ’’جے اے آئی (جوائنٹنیس، آتم نربھرتا اور انوویشن)‘‘ کے منتر پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مستقبل کے لیے تیار ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ گہری وابستگی پر زور دیا۔ انہوں نے ایک مضبوط دفاعی اختراعی ماحولیاتی نظام بنانے اور گھریلو صنعت کو دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین صنعت بنانے میں نجی شعبے کے کردار کو مزید بڑھانے کے لیے وزیر اعظم مودی کے وژن کا اعادہ کیا۔
وزیر دفاع نے پوری قوم کے نقطہ نظر کے مطابق مسلح افواج کے ساتھ ساتھ دیگر ایجنسیوں کے ساتھ اشتراک اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ’’ضروری‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے دفاعی شعبے میں انضمام اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے ٹرائی-سروس لاجسٹک نوڈس اور ٹرائی-سروس لاجسٹک مینجمنٹ ایپلی کیشن کی تشکیل کا ذکر کیا، جبکہ زیادہ سے زیادہ سول-ملٹری فیوژن پر توجہ دینے پر بھی روشنی ڈالی۔
’’آپریشن سندور نے دکھایا ہے کہ طاقت ، حکمت عملی اور خود انحصاری تین ستون ہیں جو ہندوستان کو 21 ویں صدی میں وہ طاقت دیں گے جس کی اسے ضرورت ہے۔ آج ہمارے پاس اپنے فوجیوں کی ناقابل تسخیر ہمت کے ساتھ مل کر دیسی پلیٹ فارم اور نظام کی مدد سے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے‘‘۔ مسٹر سنگھ نے آپریشن کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ’’شاندار کارکردگی‘‘ اور ’’مثالی پیشہ ورانہ مہارت‘‘ کے لیے مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ آتم نربھر بھارت کے تئیں حقیقی طاقت ہے ۔
آتم نربھر بھارت کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ، وزیر دفاع نے کہا کہ خود انحصاری کوئی نعرہ نہیں ہے ، بلکہ ایک ضرورت ہے ، جو اسٹریٹجک خود مختاری کی کلید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خود کفالت کے تحت دفاعی مقامی کاری اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہی ہے، روزگار پیدا کر رہی ہے اور شپ یارڈز، ایرو اسپیس کلسٹرز اور دفاعی راہداریوں کی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفاع میں آتم نربھرتا کا اثر ہے۔
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے دفاعی خریداری مینول 2025 کو اپنی منظوری کے بارے میں بھی بتایا جس کا مقصد خریداری کے عمل کو ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی خریداری کے طریقہ کار 2020 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد عمل کو آسان بنانا، تاخیر کو کم کرنا اور افواج کو تیزی سے آپریشنل طاقت فراہم کرنا ہے۔
چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی، چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دویدی، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ، سکریٹری (دفاعی پیداوار) سنجیو کمار، سکریٹری (سابق فوجیوں کی بہبود) ڈاکٹر نتن چندر، سکریٹری، محکمہ دفاعی تحقیق و ترقی اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر وی کامت، مالیاتی مشیر (دفاعی خدمات) ڈاکٹر مینک شرما اور دیگر سینئر افسران میٹنگ کے دوران موجود تھے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
