جموں و کشمیر
نمدہ سازی: وادیٔ کشمیر کا قدیم فن ہنوز باقی، مگر کاریگر مایوس
سری نگر، وادیٔ کشمیر اپنے قدرتی حسن و جمال اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں مشہور ہے اورقالین بافی، پشمینہ اور لکڑی پر نقش و نگار کے ساتھ ساتھ “نمدہ سازی” بھی کشمیری تہذیب کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔
نمدہ دراصل اون سے تیار ہونے والا ایک موٹا کپڑا ہے جو فرش پر بچھانے یا بستر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ دستکاری گھروں کی زینت ہوا کرتی تھی اور بڑی منڈیوں میں اس کی مانگ رہتی تھی، مگر آج یہ فن زوال کے دہانے پر ہے۔
نمدہ سازی ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل ہے۔ سب سے پہلے بھیڑ کی اون کو صاف کرکے مخصوص طریقے سے دھویا جاتا ہے۔ پھر اسے پانی اور صابن کے ساتھ بار بار دبایا اور رول کیا جاتا ہے تاکہ وہ سخت ہوکر ایک ٹھوس کپڑے کی شکل اختیار کرے۔ جب نمدہ تیار ہوجاتا ہے تو اس پر ہاتھ سے رنگین کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ یہی کاریگری اسے منفرد اور دلکش بناتی ہے۔ لیکن اتنے طویل اور مشکل عمل کے باوجود کاریگروں کو اس کا معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔
سری نگر کے نوہٹہ علاقے کے کاریگر بشیر احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اپنے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘ہم ایک نمدہ بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ پہلے ہمارے نمدے دہلی، ممبئی اور خلیجی ممالک تک جاتے تھے۔
خریدار قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر آج کے حالات میں ہماری محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ کئی بار تو اتنا نقصان ہوتا ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ ہنر چھوڑ ہی دیں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سرکار نے بارہا وعدے کیے کہ نمدہ سازی سمیت روایتی فنون کو سہارا دیا جائے گا، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے بچے اب اس پیشے کی طرف نہیں آتے کیونکہ اس سے گھر کا خرچ نہیں چلتا۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو چند برسوں میں نمدہ سازی کا نام بھی لوگ بھول جائیں گے۔‘
بشیر احمد بٹ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘پائین شہر کے ہر محلے میں دس سے پندرہ نمدہ ساز ہوا کرتے تھے۔ ہر گھر میں یہ ہنر زندہ تھا، مگر آج پورے شہر میں نمدہ بنانے والے صرف چار کاریگر رہ گئے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاروبار کس حد تک سکڑ گیا ہے اور ہمارا فن کہاں جا پہنچا ہے’۔
پرکھوں سے نمدہ سازی کے کاروبار سے وابستہ تاجر ارشید احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدیم ہنر وادی میں آج بھی زندہ ہے، تاہم اس کے دائرے سکڑتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ‘نمدہ سازی کا کام آج بھی وادی میں جاری ہے لیکن یہ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث وقت اور محنت دونوں درکار ہوتے ہیں۔ کاریگروں کی تعداد دن بہ دن کم ہو رہی ہے اور اس وجہ سے نمدے کی دستیابی بھی محدود ہوگئی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ مارکیٹ میں طلب کے باوجود ہنر مندوں کی کمی نے اس روایتی دستکاری کو متاثر کیا ہے’۔
آج کے دور میں مشینوں سے بنے قالین، کمبل اور دیگر اشیاء نے نمدہ سازی کو تقریباً بازار سے باہر کردیا ہے۔ عالمی منڈی میں مصنوعی مصنوعات کی دستیابی نے روایتی دستکاریوں کی مانگ کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاریگر اپنی محنت کا جائز معاوضہ حاصل نہیں کر پاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو بچانے کے لیے اسے جدید مارکیٹ سے جوڑنے اور ای-کامرس کے پلیٹ فارمز پر لانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں دستکاریوں کی مانگ موجود ہے، بس انہیں صحیح پلیٹ فارمز تک پہنچانے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
نمدہ سازی صرف ایک ذریعۂ روزگار نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے۔ یونیسکو کے مطابق، کشمیری دستکاریاں عالمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر نمدہ سازی ختم ہوگئی تو وادی ایک اور قیمتی ورثے سے محروم ہو جائے گی۔
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو اسکولوں اور تربیتی مراکز میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اس ہنر کی طرف راغب ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے سامنے نمدہ سازی کی نمائش کرکے اسے ایک “کلچرل پروڈکٹ” کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
وادی کے کئی لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقامی عوام کو بھی اس ہنر کی اشیاء خریدنے اور استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اگر وادی کے باشندے خود نمدہ خریدنے لگیں تو کاریگروں کو سہارا مل سکتا ہے۔
اس ہنر سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال مایوس کن ہے مگر کئی کاریگر اب بھی پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، سماج اور نجی ادارے مل کر منصوبہ بندی کریں تو نمدہ سازی دوبارہ اپنے سنہرے دور کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیری مصنوعات کی پہچان اب بھی موجود ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فن کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل۔ایف اےسری نگر،23ستمبر(یو این آئی) وادیٔ کشمیر اپنے قدرتی حسن و جمال اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں مشہور ہے اورقالین بافی، پشمینہ اور لکڑی پر نقش و نگار کے ساتھ ساتھ “نمدہ سازی” بھی کشمیری تہذیب کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔
نمدہ دراصل اون سے تیار ہونے والا ایک موٹا کپڑا ہے جو فرش پر بچھانے یا بستر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ دستکاری گھروں کی زینت ہوا کرتی تھی اور بڑی منڈیوں میں اس کی مانگ رہتی تھی، مگر آج یہ فن زوال کے دہانے پر ہے۔
نمدہ سازی ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل ہے۔ سب سے پہلے بھیڑ کی اون کو صاف کرکے مخصوص طریقے سے دھویا جاتا ہے۔ پھر اسے پانی اور صابن کے ساتھ بار بار دبایا اور رول کیا جاتا ہے تاکہ وہ سخت ہوکر ایک ٹھوس کپڑے کی شکل اختیار کرے۔ جب نمدہ تیار ہوجاتا ہے تو اس پر ہاتھ سے رنگین کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ یہی کاریگری اسے منفرد اور دلکش بناتی ہے۔ لیکن اتنے طویل اور مشکل عمل کے باوجود کاریگروں کو اس کا معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔
سری نگر کے نوہٹہ علاقے کے کاریگر بشیر احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اپنے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘ہم ایک نمدہ بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ پہلے ہمارے نمدے دہلی، ممبئی اور خلیجی ممالک تک جاتے تھے۔
خریدار قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر آج کے حالات میں ہماری محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ کئی بار تو اتنا نقصان ہوتا ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ ہنر چھوڑ ہی دیں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سرکار نے بارہا وعدے کیے کہ نمدہ سازی سمیت روایتی فنون کو سہارا دیا جائے گا، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے بچے اب اس پیشے کی طرف نہیں آتے کیونکہ اس سے گھر کا خرچ نہیں چلتا۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو چند برسوں میں نمدہ سازی کا نام بھی لوگ بھول جائیں گے۔‘
بشیر احمد بٹ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘پائین شہر کے ہر محلے میں دس سے پندرہ نمدہ ساز ہوا کرتے تھے۔ ہر گھر میں یہ ہنر زندہ تھا، مگر آج پورے شہر میں نمدہ بنانے والے صرف چار کاریگر رہ گئے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاروبار کس حد تک سکڑ گیا ہے اور ہمارا فن کہاں جا پہنچا ہے’۔
پرکھوں سے نمدہ سازی کے کاروبار سے وابستہ تاجر ارشید احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدیم ہنر وادی میں آج بھی زندہ ہے، تاہم اس کے دائرے سکڑتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ‘نمدہ سازی کا کام آج بھی وادی میں جاری ہے لیکن یہ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث وقت اور محنت دونوں درکار ہوتے ہیں۔ کاریگروں کی تعداد دن بہ دن کم ہو رہی ہے اور اس وجہ سے نمدے کی دستیابی بھی محدود ہوگئی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ مارکیٹ میں طلب کے باوجود ہنر مندوں کی کمی نے اس روایتی دستکاری کو متاثر کیا ہے’۔
آج کے دور میں مشینوں سے بنے قالین، کمبل اور دیگر اشیاء نے نمدہ سازی کو تقریباً بازار سے باہر کردیا ہے۔ عالمی منڈی میں مصنوعی مصنوعات کی دستیابی نے روایتی دستکاریوں کی مانگ کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاریگر اپنی محنت کا جائز معاوضہ حاصل نہیں کر پاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو بچانے کے لیے اسے جدید مارکیٹ سے جوڑنے اور ای-
کامرس کے پلیٹ فارمز پر لانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں دستکاریوں کی مانگ موجود ہے، بس انہیں صحیح پلیٹ فارمز تک پہنچانے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
نمدہ سازی صرف ایک ذریعۂ روزگار نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے۔
یونیسکو کے مطابق، کشمیری دستکاریاں عالمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر نمدہ سازی ختم ہوگئی تو وادی ایک اور قیمتی ورثے سے محروم ہو جائے گی۔
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو اسکولوں اور تربیتی مراکز میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اس ہنر کی طرف راغب ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے سامنے نمدہ سازی کی نمائش کرکے اسے ایک “کلچرل پروڈکٹ” کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
وادی کے کئی لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقامی عوام کو بھی اس ہنر کی اشیاء خریدنے اور استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اگر وادی کے باشندے خود نمدہ خریدنے لگیں تو کاریگروں کو سہارا مل سکتا ہے۔
اس ہنر سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال مایوس کن ہے مگر کئی کاریگر اب بھی پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، سماج اور نجی ادارے مل کر منصوبہ بندی کریں تو نمدہ سازی دوبارہ اپنے سنہرے دور کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیری مصنوعات کی پہچان اب بھی موجود ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فن کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل۔ایف اے
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
