تازہ ترین
ہنگامہ کے درمیان طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ
خبراردو:
ترمیم شدہ بل برائے طلاق ثلاثہ کو جس میں کسی مسلمان شوہرکے ایک ہی مرحلے میں بیوی کو تین طلاقیں دینے کو قابل مواخذہ قرار دیا گیا ہے، آج لوک سبھا میں پانچ گھنٹے کی بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔
کانگریس اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے نے مخالفت میں جہاں واک آوٹ کیا وہیں تین طلاقیں ایک ساتھ دینے کے معاملہ کو فوجداری قانون کے تحت لانے کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں نے کہا کہ اس بل کو پارلیمانی سیلکٹ کمیٹی کے حوالے کیا جائے۔ واضح رہے کہ حکومت کا استدلال یہ تھا کہ سپریم کورٹ نے پچھلے سال اپنے تاریخی فیصلے میں ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کو غیر آئینی اور من مانے اقدام پر محمول کیا تھا۔
وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس بل کو سیاسی چشمہ لگا کر نہ دیکھا جائے بلکہ انسانی معاملہ سمجھا جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی میناکشی لیکھی نے مودی حکومت کو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ سال کی مدت کار میں خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے مفادات کی حفاظت سے متعلق 50 اسکیمیں لائي ہيں، وہیں کانگریس کی سشمتا دیو نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بل کی حمایت تو کی، لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس بل کو لانے میں حکومت کی نیت صاف نہیں بلکہ ’منہ میں رام ، بغل میں چھری‘ والا معاملہ ہے۔ یہ بل ہندو، پارسی اور عیسائیوں کے قانون کے مشابہ نہيں ہے۔ اس بل میں اب بھی بہت سی خامیاں ہیں، اس لئے اسے مناسب سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔
کچھ جماعتوں نے بل میں ترامیم کی تجاویز پیش کیں لیکن اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سمیت دیگر جماعتوں کی طرف سے بل میں ترمیم کے لئے لائی گئی تجاویز کو نامنظور کر دیا گیا۔
تین طلاق پر مبنی بل کے حوالہ سے ایوان میں موجود 256 ارکان پارلیمنٹ میں سے 245 نے اس کے حق میں ووٹنگ کی جبکہ 11 ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
قبل ازیں تین طلاق بل پر بحث کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خواتین کے نام پر لایا جا رہا یہ بل سماج کو جوڑنے والا نہیں بلکہ سماج کو توڑنے والا بل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف تو ہے ہی مساوی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ بل مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور آئینی اقدار کے خلاف کوئی حکومت قانون سازی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کے ہم بھی حامی ہیں لیکن کسی بھی قانون میں طلاق دینے پر شوہر کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لوک سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد 2 بجے شروع ہوئی اور تین طلاق پر مبنی بل پر بحث کا آغاز ہوا۔ بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ تین طلابق بل ایک اہم بل ہے، حکومت کسی مذہبی معاملہ میں مداخلت کر رہی ہے لہذا اس بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ کھڑگے نے کہا کہ بل سے تقریباً 30 کروڑ خواتین متاثر ہوں گی اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔
تین طلاق بل پر بحث کے دوران کانگریس کی رکن سشمتا دیو نے کہا، ’’ہمیں بل پر اعتراض نہیں ہے بلکہ منہ میں رام بغل میں چھری سے اعتراض ہے۔ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ اسلام کی روایات میں دخل کا حق نہ عدالت کو ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کو۔‘‘
سشمتا دیو نے کہا کہ تین طلاق کے نام پر مسلم خواتین کو قانونی مقدمہ کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’شاہ بانو اور شاعرہ بانو کے مقدمات سے ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ میں اگر کسی قانون نے مسلم خواتین کو حقوق دئے تو وہ راجیو گاندھی کی حکومت نے 1986 میں دئے تھے۔‘‘
ادھر آر ایس پی رکن پارلیمنٹ این کے پریم چندرن نے بل پر اپنا موقف رکھتے ہوئے بل کی کئی دفعات پر سوال کھڑے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بل کے مطابق تین طلاق دینے پر شوہر کے لئے جیل کا التزام ہے، اگر طلاق دینے پر شوہر جیل چلا جائے گا تو پھر متاثرہ خاتون کو معاوضہ کیسے ملے گا۔ کو دیگا پھر معاوضہ، جس کا بل میں التزام کیا گیا ہے۔‘‘
بحث کے دوران سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے اپنا موقف رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مسلم خوتین کے نام پر گھڑیالی آنسو بہا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو مسلم خواتین کو انصاف دلانے سے کوئی مطلب نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعہ وہ مسلم مردوں کو دوئم درجے کا شہری بنانے کی سازش کر رہی ہے۔
رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے مزید کہا، ’’حکومت کا کہنا ہے کہ بل کو ترمیم کے بعد لوک سبھا میں پیش کیا گیا ہے لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بل میں جو مجرامانہ التزامات موجود تھے انہیں نہیں ہٹایا گیا ہے۔‘‘ محمد سلیم نے کہا کہ بل میں بہت ساری کمیاں ہیں، لہذا اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔
اے آئی اے ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ انور رضا نے کہا کہ بل مسلم پرسنل لا کے خلاف ہے اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ادھر ٹی ایم سی کے رکن سدیپ بندھوپادھیائے نے کہ، ’’ہم جنائیت کو فروغ دینے والے اس بل کے خلاف ہیں۔ جب شوہر جیل میں ہوگا تو معاوضہ کون دیگا، جیسا کہ بل میں التزام ہے۔‘‘
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
