جموں و کشمیر
ہم ترقی یا حکمرانی کےخلاف نہیں ہیں، لیکن جموں وکشمیر ریاست ہماری پہچان ہے :وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
جدوجہد جمہوری اقدار اور عدم تشدد پر مبنی رہے گی
لداخ کی صورتحال سب کے سامنے،کشمیروادی میںتباہی، بربادی ور خونریزی کو قبول نہیں کریں گے
بھاجپا کےساتھ حکومت بنانے سے شاید ریاست کا درجہ جلد مل جاتا لیکن میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا
سری نگر :جے کے این ایس : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور یہ کہ ان کی حکومت کی جدوجہد جمہوری اقدار اور عدم تشدد پر مبنی رہے گی۔جے کے این ایس کے مطابق اننت ناگ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ احتجاج کرنے کےلئے تیار ہیں لیکن لداخ کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور وہ کشمیروادی میںتباہی، بربادی اور خونریزی کو قبول نہیں کریں گے۔عمرعبداللہ نے مزیدکہاکہ میں ریاست کی بحالی کے لیے جمہوری اور پرامن طریقے سے لڑوں گا۔ لیکن میں کشمیر کو ایک بار پھر آگ میں جھونکنے نہیں دوں گا۔انہوں نے کہاکہ یہاں کے خاندان پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں اور میں غم کے اس چکر کو واپس نہیں دیکھنا چاہتا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مقصد کو حاصل کرنے کےلئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ کسی بھی سیاسی رہائش کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو حکومت میں شامل کرنے سے ریاست کا درجہ بحال کرنے میں مدد ملے گی تو میرا استعفیٰ لے لیں اور کسی دوسرے ممبراسمبلی کو وزیر اعلیٰ بنائیں لیکن میں سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
عمرعبداللہ نے یاد دلایا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد ان کے پاس بھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا آپشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی نے2015 اور 2016 میں کیا تھا، میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا انتخاب کر سکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے سے شاید ریاست کا درجہ جلد مل جاتا۔ لیکن میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا، بی جے پی کو جموں و کشمیر میں اقتدار سے دور رکھنے کے لیے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہمیں مزید انتظار کرنا پڑے گا، لیکن میں ان کے ذریعے حکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا۔ریاست کے لیے احتجاج کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کا جواب دیتے ہوئے، جموں وکشمیرکے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لداخ سے موازنہ کیا۔انہوںنے کہاکہ لداخ میں، جب لوگ باہر نکلے تو ایک گھنٹے میں فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہاں کشمیر میں، وہ اتنا انتظار بھی نہیں کریں گے، 10 منٹ کے اندر گولیوں کی بارش ہو جائے گی۔ عمرعبداللہ نے کہاکہ میں نہیں چاہتا کہ کشمیری خاندان دوبارہ غم میں ڈوب جائیں۔ انہوں نے زور دیاکہ ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے، لیکن جمہوری اور پرامن طریقے سے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لوگوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ لداخ، جس نے ابتدائی طور پر 5 اگست2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کا خیر مقدم کیا تھا، اب تسلیم کیا ہے کہ یہ آئینی تحفظ تھا جس نے ان کے مفادات کا تحفظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تب بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہے ہیں کہ 5 اگست2019 کو جو کچھ بھی ہوا وہ غلط تھا۔عمرعبداللہ نے کہا کہ ریاست کے لیے ان کی حکومت کی جدوجہد جمہوری اقدار اور عدم تشدد پر مبنی رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ ہم ترقی یا حکمرانی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ریاست ہماری پہچان ہے، ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک اسے بحال نہیں کیا جاتا اور وہ بھی اپنے اصولوں سے دستبردار ہوئے بغیر۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
