تازہ ترین
فروری2019میں اسمبلی انتخابات: : جموں میں اعلیٰ سطحی مشاورت اور سرگرمیاں شروع
خبراردو:
جموں: مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی جانب سے ریاست میں پارلیمانی انتخابات کیساتھ ساتھ یااسے قبل اسمبلی انتخابات کرائے جانے کااشارہ دئیے جانے کے بعدگورنرانتظامیہ نے مجوزہ انتخابی عمل کیلئے درکارانتظامات کوحمتی شکل دینے کیلئے اعلیٰ سطحی مشاورت کاسلسلہ شروع کردیاہے اوراس سلسلے میں فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل رنبیرسنگھ نے منگل کے روزجموں میں ریاستی گورنرستیہ پال ملک کیساتھ ایک اہم میٹنگ کی ۔اس دوران معلوم ہواکہ ریاست کے محکمہ الیکشن نے پارلیمانی انتخابات کیساتھ ساتھ ممکنہ طورپرکرائے جانے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کاجائزہ لینابھی شروع کردیاہے ۔
خیال رہے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر شیلندکمارنے کچھ روزقبل ہی اسبات کااشارہ دیاتھاکہ اگرمرکزی الیکشن کمیشن ماہ فروری2019میں یہاں ریاستی اسمبلی کیلئے انتخابات کرانے کافیصلہ لیتاہے تواُن کاماتحت محکمہ الیکشن کوروبہ عمل لانے کیلئے تیارہے ۔ذرائع سے معلوم ہواکہ اگلے سال اپریل اورمئی کے مہینوں میں ہونے والے پارلیمانی(لوک سبھا)انتخابات سے 2ماہ قبل جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کرائے جانیکاقوی امکان ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ مرکزی سرکاربھی اسبات کے حق میں ہے کہ ریاست میں جلدسے جلدنئی اسمبلی معرض وجودمیں اائے اوریہاں ایک نئی عوامی یامنتخب سرکارکمان سنبھال ل۔ذرائع نے بتایاکہ مرکزکی جانب سے ریاست میں جلدسے جلداسمبلی انتخابات کرائے جانے کے واضح اشارے ملنے کے بعدریاست میں متحرک علاقائی اورقومی سطح کی مین اسٹریم جماعتوں نے اپنی سرگرم تیزکردی ہیں ۔
ذرائع کاکہناتھاکہ ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت نے اسمبلی انتخابات کرائے جانے کیخلاف کوئی بیان نہیں دیاہے بلکہ بیشترسیاسی جماعتوں کایہ موقف سامنے آیاہے کہ ریاست میں صدرراج کوزیادہ طول نہ دیتے ہوئے یہاں اسمبلی انتخابات عمل میں لائے جائیں ۔اس دوران ذرائع نے بتایاکہ جموں میں انتخابی عمل کے حوالے سے انتظامی سطح پرمشاورت کاسلسلہ تیزکیاگیاہے ۔اوراسی مشاورت کی ایک کڑی کے بطورفوج کی شمالی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے منگل کو جموں میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے ملکر اْنہیں جموں کشمیر کی حفاظتی صورتحال سے آگاہ کیا۔بتایاجاتاہے کہ میٹنگ کے دوران ریاست بالخصوص کشمیروادی کی سیکورٹی صورتحال کوزیرغورلایاگیا،جس دوران فوج کے اعلیٰ افسرنے گورنرکوبتایاکہ کشمیروادی میں ابھی بھی کچھ علاقوں میں جنگجوسرگرم ہیں لیکن مجموعی طورپراب صورتحال کافی بہترہے ۔ایک سرکاری بیان کے مطابق جنرل سنگھ نے گورنر کو اگلے علاقوں کی حفاظتی صورتحال سے آگاہی دلائی۔
جنرل رنبیرسنگھنے گورنر کو جنگجو مخالف سرگرمیوں کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔انہوں نے کنٹرول لائن پر رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے بارے میں بھی گورنرایس پی ملک کو مطلع کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ گورنر ستیہ پال ملک نے فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی سراہنا کی۔ انہوں نے کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحدپر چوکسی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس دوران معلوم ہواکہ ریاست کے محکمہ الیکشن نے پارلیمانی انتخابات کیساتھ ساتھ ممکنہ طورپرکرائے جانے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کاجائزہ لینابھی شروع کردیاہے ۔خیال رہے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر شیلندکمارنے کچھ روزقبل ہی اسبات کااشارہ دیاتھاکہ اگرمرکزی الیکشن کمیشن ماہ فروری2019میں یہاں ریاستی اسمبلی کیلئے انتخابات کرانے کافیصلہ لیتاہے تواُن کاماتحت محکمہ الیکشن کوروبہ عمل لانے کیلئے تیارہے۔ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر شیلندر کمار نے پارلیمانی انتخابات سے کچھ وقت پہلے ریاست میں اسمبلی الیکشن کرائے جانے کااشارہ دیتے ہوئے واضح کیاکہ اگر مرکزی الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی فیصلہ لیاتو ریاست کا الیکشن محکمہ اسمبلی انتخابات کے لئے تمام تر تیاریاں مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کے لئے تیار ہے ۔
خبررساں ایجنسی کے ساتھ۳۰،دسمبرکو فون پر بات کرتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسر شیلندر کمار کا کہناتھا کہ ریاست جموں وکشمیرمیں پارلیمانی انتخابات سے پہلے یا پارلیمانی انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات کرانے کا فیصلہ بہت جلد لیاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس سلسلے میں اہم میٹنگ طلب کی ہے اور ریاست کے محکمہ برائے الیکشن کے حکام کو بھی اس میٹنگ میں شرکت کے لئے مدعوکیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مرکزی الیکشن کمیشن کے ذمہ داروں کو ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر کی جانیوالی تیاریوں کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم کریں گے ۔ شیلندر کمار کا کہناتھاکہ اگر مرکزی الیکشن کمیشن نے ریاست میں پارلیمانی انتخابات سے پہلے یا مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ اسمبلی الیکشن کرانے کا فیصلہ لیاتو ہم یعنی ریاست کا محکمہ الیکشن اس کے لئے تیار ہے ۔
انہوں نے کہاکہ فیصلہ لیاگیا تو ہم اپنی تمام تر تیاریاں مقرر ہ وقت سے پہلے ہی مکمل کرسکتے ہیں ۔ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نے بتایاکہ ریاست کی گورنر انتظامیہ نے پہلے ہی کشمیر اور جموں صوبوں کے صوبائی کمشنروں کی سربراہی میں دوالگ الگ ٹیمیں تشکیل دی ہیں ، جو ریاست میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے حوالے سے کی جانیوالی تیاریوں بشمول سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیکر سرکار کو اپنی اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔انہوں نے کہاکہ مرکزی الیکشن کمیشن کی طلب کردہ میٹنگ میں شرکت سے پہلے میں یعنی شیلندر کماردونوں صوبوں کے صوبائی کمشنروں کیساتھ میٹنگ کرکے اس بات کا مکمل جائزہ لوں گا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کرانے کے لئے کس حدتک صورتحال بہتر ہے اور کس حدتک انتظامیہ کو الیکشن عمل کے لئے تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ موسم سرما الیکشن عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتاہے ۔ شیلندر کمار نے بتایا کہ موسم سرما کے باوجود ریاست میں الیکشن کا عمل ہوتا رہاہے اوراب کی بار بھی ایسا ہوسکتاہے ۔تاہم انہوں نے کہ اگر لوگوں کو موسم سرما کے دوران پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے تو اس صورت میں دوسرا فیصلہ بھی لیاجاسکتاہے ۔ انہوں نے واضح کیاکہ انتظامی سطح پر فروری2019ء میں ہمیں پارلیمانی انتخابات کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
