جموں و کشمیر
سرمایہ کاروں کے لیے جموں و کشمیر کو پرکشش بنانا حکومت کی ترجیح: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے اور دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔
وہ یہاں فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے زیر اہتمام ایک انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کر رہے تھے جو پہلی مرتبہ سرینگر میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر ایف آئی ای او کے صدر ایس سی رالہان، نائب صدر شری کانت کپور، ڈائریکٹر جنرل و سی ای او اجے سہائے، ریجنل چیئرمین، سابق صدور اور بورڈ ممبران کے علاوہ دیگر معززین بھی موجود تھے۔
عمر عبداللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی ای او کا اپنا بورڈ آف مینجمنٹ اجلاس سرینگر میں منعقد کرنا جموں و کشمیر کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا، ’آپ کی یہاں موجودگی ہمارے لیے نہایت حوصلہ افزا ہے۔ جموں و کشمیر ہمیشہ سے ملک کی تجارتی اور برآمداتی برادری کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ایسے اقدامات کرنا ہے جو ریاست کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں مقام بنائیں۔ ان کے مطابق، ہم ایک شعوری کوشش کے طور پر بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو دور کر کے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ جغرافیائی حالات اور محدود وسائل جموں و کشمیر کے لیے مخصوص چیلنجز ہیں، تاہم حکومت ان شعبوں پر توجہ دے رہی ہے جہاں خطے کو قدرتی برتری حاصل ہے، جیسے کہ زراعت، باغبانی، دستکاری، دواسازی، آئی ٹی خدمات اور الیکٹرانکس۔
عمر عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ کاروباری فضا میں سب سے اہم عنصر اعتماد ہے اور بدقسمتی سے پچھلے تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر کو اس اعتماد سے محروم رکھا گیا۔ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ماضی کی یہ کمی ہمارے مستقبل کی پہچان نہ بنے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمام مشکلات کے باوجود ریاست کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔
ہمارا اپنا اندازہ ہے کہ اس سال جموں و کشمیر کا جی ڈی پی تقریباً 10 سے 11 فیصد کی شرح سے بڑھے گا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ حالات نے سیاحت کے شعبے کو سخت نقصان پہنچایا ہے، جس کے منفی اثرات زراعت، باغبانی، دستکاری اور برآمدات پر بھی پڑے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کے لیے کئی مثبت پہلو موجود ہیں، جن میں سستی بجلی، تعلیم یافتہ نوجوان افرادی قوت، اور سازگار پالیسی ماحول شامل ہیں۔
آخر میں عمر عبداللہ نے ایف آئی ای او کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’آپ کی یہاں موجودگی اس تصور کو بدلنے میں مددگار ثابت ہوگی کہ جموں و کشمیر غیر محفوظ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں اس طرح کے مزید اجلاس منعقد ہوں گے جن سے ریاست ترقی کی نئی راہیں اختیار کرے گی۔‘
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
