جموں و کشمیر
دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے کےلئے تحقیقاتی تکنیک کو فروغ،57 سے زائد افراد اور متعدد گروپ دہشت گرد تنظیمیں قرار:امت شاہ
آرٹیکل 370 کی منسوخی سے لے کر سرجیکل اسٹرائیک اور ایئر اسٹرائیک اور آپریشن سندور تک ہم نے حساس مقامات کوبنایا نشانہ
دہشت گردی کے خطرات سے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے کثیرجہتی اقدامات
UAPAاورNIAایکٹ میں ترمیم،3 نئے فوجداری قوانین میں دہشت گردی کی تعریف،شدت پسندافرادو گروپوں پر پابندی
سری نگر:جے کے این ایس : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو زور دے کر کہا کہ مرکز نے دہشت گردی کے خطرات سے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے کئی اقدامات کئے ہیں، جن میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) میں ترمیم اور تین نئے فوجداری قوانین میں دہشت گردی کی تعریف شامل ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نیشنل سیکورٹی گارڈ (NSG) کے 41ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ مرکز نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا جیسے گروپوں پر پابندی لگا دی ہے اور دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے کے لیے تحقیقاتی تکنیک کو بھی بڑھایا ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہمارے ملک نے دہشت گردی کےخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ 2019 سے ہم ملک کو دہشت گردی کے خطرات سے بچانے کےلئے یکے بعد دیگرے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے UAPA میں ترمیم کی،NIA ایکٹ میں ترمیم کی، PMLA اور ED کو دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے فعال کیا، دہشت گردی کی فنڈنگ کی سائنسی تحقیقات کے لیے ایک نظام قائم کیا۔امت شاہ نے مزید کہاکہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی لگائی، MAC کو مضبوط کیا، CCTV اور Netgrid کے ذریعے ملک بھر کی تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ قومی ڈیٹا کا اشتراک شروع کیا ۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ2023 میں متعارف کرائے گئے 3 نئے فوجداری قوانین نے پہلی باردہشت گردی کی تعریف کی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ مرکز نے 57 سے زیادہ افراد اور مختلف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل370 کی منسوخی سے لے کر سرجیکل اسٹرائیک، ایئر اسٹرائیک اورمسلح افواج کی جانب سے آپریشن سندور تک، ہندوستان دہشت گردوں کے ایک حساس مقام کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔امت شاہ نے کہاکہ پہلی بار، ہم نے تین نئے فوجداری قوانین میں دہشت گردی کی تعریف کی ہے اور عدالتوں میں پہلے پائی جانے والی خامیوں کو پ ±ر کیا ہے۔ اب تک ہم57 سے زائد افراد اور متعدد تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر کامیابی سے پابندی لگا چکے ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ اگر ہم اس پوری مہم کو غور سے دیکھیں تو آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے لے کر سرجیکل اسٹرائیک، ایئر اسٹرائیک اور آپریشن سندورتک، ہم نے ان کے حساس مقام کو نشانہ بنایا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کی گزشتہ چار دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک زبردست جنگ لڑنے کی کوششوں کی تعریف کی۔این ایس جی کی کارروائی میں دکھائے گئے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے،امت شاہ نے کہا کہ اس سے ملک کو اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔انہوں نے کہاکہ ان تین اصولوں: سرواترا، سرووٹم، تحفظ، اور سمرپن، سہاس اور راشٹربھکتی کو اپنی پہچان بنا کر، این ایس جی نے چار دہائیوں سے اس ملک میں منظم جرائم اور دہشت گردی کے خلاف ایک زبردست جنگ لڑی ہے۔ مظاہرے کو دیکھنے کے بعد، ہم سب نے ابھی دیکھا ہے، ملک کا ہر شہری اپنے دل و دماغ میں اس اطمینان کے ساتھ چلا جاتا ہے کہ ہم، ہماری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بہت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اسپیشل آپریشن ٹریننگ سینٹر (SOTC)، جس کا آج افتتاح کیا گیا، نہ صرف NSG بلکہ ریاستی پولیس فورسز کو تربیت دینے کے لیے بھی تھا۔انہوںنے کہاکہ میں تمام ریاستی پولیس فورسز کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج جس اسپیشل آپریشن ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کیا گیا ہے وہ صرف این ایس جی کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ آپ سب کو تربیت فراہم کرے گا۔مرکزی وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ ہم این ایس جی کے کردار میں بڑی تبدیلیاں کرنے جا رہے ہیں۔ این ایس جی کا نیا مرکز ایودھیا میں قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ، NSG کے تمام 6 ایسے مرکز، جنہیں SG کہا جاتا ہے، کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو کم کرنے میں مدد کریں گے۔امت شاہ نے بتایا کہ SOTC کا افتتاح 141 کروڑ روپے کی لاگت کے بعد کیا گیا تھا، اور یہ کمانڈوز کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید ترین تربیت فراہم کرے گا۔امت شاہ نے کہاکہ آج، 141 کروڑ روپے کی لاگت سے اسپیشل آپریشنز ٹریننگ سینٹر (SOTC) کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ ، یہ 8 ایکڑ جگہ پر کمانڈوز اور اسپیشل کمانڈوز کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید ترین تربیت دی جائے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اتنے وسیع ملک میں، مرکزی حکومت اکیلے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہNSG نے بہادری کے ساتھ اپنی طاقت کے ساتھ ملک کی حفاظت کی ہے۔ اشو میدھ، آپریشن سروشکتی، آپریشن ڈھنگو، اکشردھام حملہ، ممبئی حملہ، اور متعدد دیگر قومی بحران ۔امت شاہ نے مزید کہاکہ ممبئی، چنئی، کولکتہ، حیدرآباد، احمد آباد، جموں ٹاسک فورس، اور اب ایودھیا میں پہلے ہی 6 این ایس جی مرکز قائم کیے جا چکے ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہ این ایس جی کمانڈوز کو دن کے24 گھنٹے، سال کے 365 دن تعینات کیا جائے گا۔ ان کے لیے اس مرکز کے ارد گرد ایک زون مقرر کیا جائے گا، اور اسپیشل کمپوزٹ گروپ کسی بھی دہشت گرد زون پر ہونے والے اچانک حملے کا جواب دینے کے لیے دستیاب ہوگا۔ (مشمولات ،اے این آئی)
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
