تازہ ترین
جامع مسجد سرینگر میں یوم تقدس پروگرام سے گیلانی ،میرواعظ اورملک کاخطاب،’نوجوان‘ہی کشمیر کا ترجمان :مزاحمتی قائدین کااعلان
خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت اورانجمن اوقاف جامع مسجدکے زیر اہتمام مشترکہ طور پر مرکزی جامع مسجد سرینگر میں پروگرام کے مطابق یوم تقدس کی تقریب انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ منائی گئی ۔ تقریب کی صدارت کے فرائض انجمن اوقاف جامع مسجد کے صدر اور حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے انجام دئے جبکہ اس موقعہ پر کشمیر کی مقتدر سیاسی ،دینی ،سماجی اور کاروباری تنظیموں کے سربراہوں یا نمائندوں نے بیک زبان ہوکر گزشتہ جمعہ کو جامع مسجد میں پیش آئے اُس واقعہ جس میں چند سر پھر ے نوجوانوں نے اسلامی آداب اور اقدار کا لحاظ کئے بغیر جوتوں سمیت جامع مسجد میں گھس کر مسجد شریف کے تقدس اور منبر رسول ﷺ کی حرمت کو پامال کیا تھا کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے واضح کیا کہ مرکزی جامع مسجد کی تاریخی مرکزیت اور اہمیت کو زک پہنچانے اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی بھی طرح کی کوشش کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور ان شرپسند عناصر کو الگ تھلگ کرنا قیادت اور قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔
اس موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے علاوہ جن سیاسی ، دینی اور سماجی تنظیموں کے سربراہوں یا نمائندوں نے خطابات کئے ان میں سید علی گیلانی نے نظر بندی کے سبب ٹیلیفونک خطاب کیا جبکہ دوسرے مقررین میں محمد یاسین ملک، جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی ،جمعیت اہلحدیث کے نمائندے مولانا زبیر طاہری، انجمن حمایت الاسلام کے سرپرست مولانا شوکت حسین کینگ،انجمن شرعی شیعان جموں وکشمیر کے صدر آغا سید حسن کے نمائندے غلام محمد ناگو ،پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی کے علاوہ دیگر متعدددینی تنظیموں کے سربراہاں اور نمائندے شامل تھے ۔اپنے خطابات میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مساجد کی اہمیت اور تقدس کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد سرینگر میں گزشتہ جمعہ جو افسوسناک سانحہ پیش آیا وہ ہرلحاظ سے نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اُس سے صرف تحریک دشمن عناصر کو ہی فائدہ پہنچا ہے اور ہم اس حرکت کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری کشمیری قوم اپنے وجود اور بقا کی جنگ لڑرہی ہے ہماری خون سے سینچی تحریک ہم سے اتحاد و اتفاق کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ دشمن ہمیں مختلف خانوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے مسلکی منافرت کے زہریلے جراثیم یہاں پھیلائے جارہے ہیں اور یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ ہماری تحریک کوئی مقامی تحریک نہیں ہے بلکہ بیرونی قوتوں کے اشاروں پر چلائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پرامن اور مبنی برحق تحریک کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک میں کشمیر کے عوام روز قربانیاں پیش کررہے ہیں اور یہ سلسلہ 1947 سے برابر جاری ہے لہٰذا ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہمارا دشمن جابر اور ظالم ہی نہیں بلکہ انتہائی شاطر بھی ہے اور وہ ہماری کمزوریوں اور لغزشوں کو ہمارے خلاف استعمال کرنے سے گریز نہیں کررہا ۔مزاحمتی قائدین نے رواں تحریک آزادی کو کشمیریوں کی اپنی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پر ما ردھاڑ، ظلم و جبر، قتل و غارت کے ساتھ ساتھ ہمیں اقتصادی طور پر بھی بدحال کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے لہٰذا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے سرفروشوں کے مقدس لہو کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس تحریک کو منطقی انجام تک لیجانے کیلئے اپنی صفوں میں کامل اتحاد قائم رکھیں۔
مزاحمتی قائدین نے گزشتہ جمعہ کو مرکزی جامع مسجد سرینگر میں پیش آئے واقعہ کو انتہائی افسوسناک ، بزدلانہ اور بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد ہمارا مرکز ہے اور کشمیر میں جب بھی کوئی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی چاہے وہ 1931ء کا خونین واقعہ ہو یا پھر رواں تحریک آزادی ہر موقعہ پر شہید ملت میرواعظ مولانا محمد فاروق ؒ نے تادم شہادت اور پھر اس کے بعد کمسن اور نو عمر میرواعظ محمد عمر فاروق نے جامع مسجد کے منبر و محراب سے قال اللہ و قال الرسول کے علاوہ یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیا ہے اور ہر نازک مرحلے پر رواں جدوجہد آزادی کی پیشوائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اس تحریک کا سرمایہ ہے کیونکہ تحریک میں اس کا لہو بہہ رہا ہے اور آئے روز نوجوانوں کے جنازے یہ قوم اٹھا رہی ہے اور تحریک کے تئیں یہاں کے نوجوان نسل سمیت بچوں، خواتین ، بزرگوں اور یہاں کی مزاحمتی قیادت کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور اگر نوجوانوں کو کوئی گلہ یا شکوہ ہے یا ان کی کوئی تجویز یا رائے ہے تو مشترکہ مزاحمتی قیادت کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں اور ہم ان کا تہہ دل سے خیر مقدم کریں گے۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ شہر خاص ہمیشہ سے تحریک مزاحمت کی علامت رہا ہے اور حکومت ہر بار اس علاقے کو مرکزی جامع مسجد سمیت ٹارگٹ کرتی ہے اور میں نوجوانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ تحریک میں اپنا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات کو قابو میں بھی رکھیںں اور شر پسند عناصر کی سازشوں سے بھی اس تحریک کو بچانے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد سرینگر ہم سب کا روحانی اور دینی مرکز ہے اور اس کا احترام ہم سب پر لازم ہے کیونکہ اسی منبر ومحراب سے تاریخ کے ہر دور میں یہاں کے مظلوم عوام کے حقوق کی ترجمانی ہوتی رہی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ 28 دسمبر جمعتہ المبارک کو جو المناک سانحہ مرکزی جامع مسجد میں پیش آیا حقیقت یہ ہے کہ اُس واقعہ کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اِس واقعہ کو لیکر پوری قوم غمزدہ اور تکلیف میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ یورپ اور دیگربیرونی ممالک میں رہ رہے کشمیریوں نے ٹیلیفون کے ذریعہ اس واقعہ پر اپنے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملت کشمیر کے ساتھ اپنی بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ مزاحمتی قائدین نے کہاکہ 1931ء سے شخصی راج کی چیرہ دستیوں کیخلاف اور پھر بھارت کے جبری قبضے کیخلاف اسی منبر و محراب سے یہاں کے عوام کی حق خودارادیت کے حق میں آواز بلند ہوتی رہی ہے ۔انہوں نے کشمیر کی نوجوان نسل کو رواں تحریک آزادی کا گرانقدر سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یہاں کا نوجوان ہی ہے جو یہاں کے عوام کی حقوق کی بازیابی کیلئے اپنا خون دے رہا ہے ۔شہادتیں پیش کررہا ہے اور یہ قوم روز اپنے نوجوانوں کے جنازے اٹھا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی یہ نعرہ دیا تھا کہ کشمیر کا ترجمان ’نوجوان نوجوان‘ اور ہم آج بھی اسی بات پر قائم ہیں کہ یہاں کی نوجوان نسل کو آگے آکر تحریک مزاحمت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر لینا چاہئے اور ہمارے گھروں اور ہمارے دفاتر کے دروازے ہمیشہ نوجوانوں کیلئے کھلے ہیں کیونکہ یہاں کا نوجوان ہی تحریک کا اثاثہ ہے اور ہم ہر قیمت پر ان کا خیر مقدم کریں گے ۔
مزاحمتی قائدین نے کہا کہ رواں تحریک آزادی کو کسی بھی قیمت پر ان قوتوں کو جو کشمیر کی تحریک آزادی کی ہیئت اور سمت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ہرگزHijack کرنے نہیں دیا جائیگا اور ہمارا یہ واحد ایجنڈا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کا ایک دائمی اور منصفانہ حل چاہتے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ یا تو اس مسئلہ کو حق خودارادیت کی بنیاد پر حل کیا جائے یا مسئلہ کے تینوں فریق کے ساتھ ایک بامعنی عمل کے ذریعہ اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ہند نے کبھی بھی مذاکرات تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے یہاں ظلم و جبر اور قبل و غارتگری کا بازار گرم کرکے کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور قیادت اور نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کی کوششوں میں نہ صرف لگی رہی بلکہ کشمیر کو بھارت میں جبری طور پر ضم کرنے کے حوالے سے منصوبوں پر عمل آوری کیلئے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی خاطر دفعہ 35-A کی آڑ میں لگاتار کوششوں میں مصروف ہے اور کبھی EDاور کبھی NIA کے حربے استعمال کرکے یہاں کی مزاحمتی قیادت کے ساتھ ساتھ ہماری Indeginious تحریک کو دبانے کی کوشش کی۔
اس موقعہ پر میرواعظ نے جملہ مقررین اور حاضرین کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک جامع مسجد کے تقدس اور احترام کا تعلق ہے تو انجمن اوقاف جامع مسجد اس بات کو یقینی بنائے گی اور اس طرح کے اقدامات اٹھائے گی کہ آئندہ اس طرح کا کوئی شر انگیز واقعہ رونما نہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی جامع مسجد مسلمانان کشمیر کا وہ واحد روحانی اور دینی مرکز ہے جہاں آج سے نہیں بلکہ صدیوں سے قال اللہ و قال الرسول ﷺ کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کے حق میں آواز بلند ہوتی رہی ہے ۔صدیوں سے اس مرکز کی وساطت سے اشاعت اسلام، حفاظت اسلام اور دین کی تبلیغ کا کام ہوتا رہا ہے لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس دینی اور روحانی مرکز کیخلاف بڑے پیمانے پر سازشیں بھی ہوتی رہی ہیں تاکہ اس منبر ومحراب کی آواز کو خاموش کیا جاسکے ۔دیگر معزز مقررین نے اپنے خطابات میں مرکزی جامع مسجد سرینگر میں گزشتہ جمعہ کو پیش آئے واقعہ پر اپنے شدید غم و غصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد کیخلاف اس طرح کی ناپاک اور شرمناک حرکتیں ملت کشمیر کیلئے ناقابل برداشت ہیں ور ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ من حیث القوم ہم نہ صرف جامع مسجد کی مرکزیت اور حرمت کی پاسداری کے پابند ہیں بلکہ جن عناصر نے یہ شرانگیز حرکت کی وقت آگیا ہے کہ ان کو الگ تھلگ کرکے آئندہ اس قسم کی حرکتوں پر روک لگائی جائے.
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
