جموں و کشمیر
اسمبلی کا خزاں اجلاس :اپوزیشن ارکان حکومت کو گھیرنے کیلئے تیار،3 سرکاری بل پیش ہونگے
ریاستی درجہ، حکمرانی اور ریزرویشن پرممکنہ ہنگامہ آرائی
نیشنل کانفرنس کو عوام سے کئے گئے وعدوںکا جواب دینا ہوگا:قائد حزب اختلاف سنیل شرما
حکومت کاایک سال مکمل ،لیکن کسی سیاسی یا عوامی وعدے میں کوئی پیش رفت نہیں :پی ڈی پی
سری نگر: جے کے این ایس : جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں اجلاس طوفانی ہونے کی توقع ہے، اپوزیشن پارٹیاں کئی مسائل پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق 23اکتوبربروز جمعرات سے شروع ہونے والے اجلاس میں حکمرانی کے مسائل، نیشنل کانفرنس کی طرف سے اپنے انتخابی منشور، ریاست کا درجہ اور ریزرویشن میں کئے گئے وعدوں پر اپوزیشن کی طرف سے آتش بازی دیکھنے کی توقع ہے۔جے کے این ایس کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بی جے پی لیڈر اورقائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرے گی، جسے اس نے’انتخابی وعدوں سے خیانت‘ قرار دیا ہے۔سنیل شرما نے کہاہے کہ حکومت انتخابات کے دوران کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، چاہے وہ200 مفت یونٹ بجلی، 12 ایل پی جی سلنڈر فی گھر، یا لوگوں کو دی گئی دیگر یقین دہانیاں ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیربی جے پی،عمرسرکار سے نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکامی پر سوال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن مہم میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے نوجوانوں کے لئے ایک لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ سنیل شرما نے کہاکہ ہم ان سے پوچھیں گے کہ انھوں نے پچھلے ایک سال میں نوجوانوں کے لیے کیا کیا ہے۔دوسری طرف، کشمیرنشین چھوٹی اپوزیشن پارٹیاں جیسے پی ڈی پی،پیپلزکانفرنس اور عوامی اتحادپارٹی کی جانب سے اسمبلی کے خزاں اجلاس میں ریاست کا درجہ، ریزرویشن کو منطقی بنانے، اور خطے کو درپیش دیگر مسائل پر شورشرابے اورحکومت کو کٹہرے میں کھڑاکئے جانے کا امکان ہے۔پی ڈی پی کے ایک لیڈراورممبراسمبلی نے کہاکہ انہوںنے دوسری علاقائی جماعتوں کیساتھ مشاورت کرکے اپنی حکمت عملی تیارکی ہے ،تاکہ ایوان میں حکومت کو جوابدہ بنایاجاسکے ۔انہوںنے مزید کہاکہ اب حکومت کاایک سال مکمل ہوگیاہے ،لیکن کسی سیاسی یا عوامی وعدے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔جیسا کہ پہلے ہی اطلاع دی گئی ہے، اسمبلی سیکرٹریٹ نے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ممبراسمبلی ہندوارہ سجاد غنی لون کی جانب سے ریاست کی بحالی کے لئے پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔اس دوران معلوم ہواکہ جمعرات سے شروع ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس میں بحث کا مرکز حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے3 سرکاری بل ہوں گے۔ کابینہ نے پہلے ہی جموں و کشمیر پنچایتی راج ایکٹ1989 اور گڈز اینڈ سروسز(GST) ٹیکس ایکٹ2017 میں ترمیم کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر شاپس اینڈ بزنس اسٹیبلشمنٹ بل2025 کو نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اسمبلی کےلئے450سوالات، 13 پرائیویٹ ممبرز بلز اور55 پرائیویٹ ممبرز کی قراردادیں قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول ہوئی ہیں۔ 33 پرائیویٹ ممبرز بلز جو کہ اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں پیش کئے گئے تھے، ایوان میں زیر التوا ہیں اور انہیں28 اکتوبر کو کاروبار میں ترجیح دی جائے گی جو کہ پرائیویٹ اراکین کی قراردادوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
