ہندوستان
بہار اسمبلی انتخاب میں مسلمانوں کی شراکت کے بغیر محض فاشزم کا خوف دلاکر مسلمانوں کا ووٹ حاصل نہیں کیا جاسکتا: ساجد ملک
نئی دہلی، بہار میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخاب میں مہاگٹھبندھن اور دیگر سیکولر جماعتوں پر مسلمانوں کوان کی آبادی کے حساب سے نشست نہ دینے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سماجی کارکن اور کانگریس کے سینئر لیڈر ساجد ملک نے کہاکہ مناسب حصہ داری کے بغیر محض فاشزم کا خوف دلاکر مسلمانوں کا ووٹ حاصل نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہاکہ بہار میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 18فیصد ہے اور اس کے حساب سے اسمبلی میں 46نشستیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاگٹھبندن میں سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے محض 18 سیٹ دی ہے جب کہ کانگریس نے 10سیٹوں پر اکتفا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ مہا گٹھبندھن میں شامل تمام پارٹیا ں مل کر 46 نشستیں دیتیں۔ انہوں نے کہاکہ بہار میں یادو، کرمی، بھومیہار،برہمن، ٹھاکر اور دیگر ذات والے کو ان کی تناسب سے بہت زیادہ نشستیں دی گئی ہیں جب کہ مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ لوک سبھا کا الیکشن یا راجیہ سبھاکایا ایم ایل سی کا ہو، ہمیشہ مسلمانوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کا بھی یہی نعرہ ہے کہ ’جس کی جتنی بھاگیداری اس کی اتنی حصہ داری‘۔ پھر مسلمانوں کو انتخابات میں ٹکٹ دینے میں اس فارمولا پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ بہت سے ایسی سیٹوں پر جہاں مسلمان آسانی کامیاب ہوسکتے تھے لیکن مسلمانوں کا ٹکٹ کاٹ کر دوسروں دے دیا گیا۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہ نوادہ سے سیٹنگ ایم ایل اے کامران کی سیٹ آر جے ڈی نے کاٹ کر دوسروں کو دے دی جب کہ کامران اور اچھی خاصی ووٹ سے کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے وہاں کے دلوں میں جگہ بنالی تھی جس کا ثبوت ان کاغذات نامزدگی میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ اسی طرح جالے سیٹ سے مشکور عثمانی کا ٹکٹ کر دوسروں کو دے دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ مہاگٹھبندھن میں شامل وکاس شیل انسان پارٹی نے اپنے کوٹے سے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے میں شامل سیکولر پارٹیوں میں جنتا دل یونائٹیڈ نے محض چار مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے جب کہ چراغ پاسوان نے صرف ایک مسلمان کو ووٹ دیا ہے۔
مسٹر ساجد ملک نے کہاکہ مسلمانوں کے تئیں سیکولر پارٹیوں کے رو یہ نہایت مایوس کن ہے اورسیکولر پارٹیاں مسلم ووٹ کو اپنا جاگیر سمجھ رہی ہیں اس لے مناسب شراکت دینے سے گریز کیا ہے۔انہوں نے دعوی کیاکہ اس طرح پارٹیوں نے مسلمانوں کو حاشیہ پر دھکیلنے اور اس کی نمائندگی کم کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کہاکہ کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو اور دیگر سیکولر پارٹیاں کب تک بی جے پی سے خوف دلاکر مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرتی رہیں گی اور شراکت کے بجائے مسلما نوں کی نمائندگی کم کرتی رہیں گی۔اس بارے میں مسلمانوں کو غور وخوض کرنا چاہئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
