جموں و کشمیر
دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی تقدیر بدل چکی ہے: کرن رجیجو
جموں، مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی تقدیر بدل چکی ہے اور اب یہ خطہ امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد وہ تبدیلیاں ممکن ہوئیں جن کا تصور بھی پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا کرن رجیجو نے کٹرہ میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میں نے خود محسوس کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر کی قسمت بدلی ہے۔ آج یہاں امن بھی ہے اور ترقی بھی۔ دنیا کشمیر کو دیکھنا چاہتی ہے، کیونکہ یہ قدرتی حسن سے مالامال علاقہ ہے، اور جب یہاں امن و ترقی دونوں ہوں گے تو یہ خطہ مزید خوبصورت نظر آئے گا۔‘
یہ تقریب وزیر اعظم مودی کی زیر صدارت ملک گیر پروگرام کے تحت منعقد ہوئی تھی، جس میں نوجوانوں کو سرکاری محکموں میں ملازمتوں کے تقرر نامے فراہم کیے گئے۔ رجیجو نے کہا کہ ملک بھر میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا سلسلہ اسی تصور کا حصہ ہے جس کے تحت وزیر اعظم مودی نے ’نئے بھارت‘ کی بنیاد رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ 1970 کی دہائی سے کشمیر آتے رہے ہیں اور مختلف ادوار میں اس خطے کا مشاہدہ کیا ہے، لیکن 2014 کے بعد سے جس رفتار سے ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے، ویسی ترقی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق، ’آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد آئینی اور انتظامی رکاوٹیں دور ہوئیں۔ اب مرکزی حکومت کی تمام اسکیمیں براہ راست عوام تک پہنچ رہی ہیں، اور عام لوگوں کو وہ سہولیات مل رہی ہیں جو پہلے صرف خواب تھیں۔‘
مرکزی وزیر نے کہا کہ ماضی میں آرٹیکل 370 کے باعث کئی آئینی دفعات اور ریزرویشن پالیسیوں کا اطلاق جموں و کشمیر پر نہیں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو سماجی انصاف سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا، آج وہ تمام اسکیمیں اور حقوق یہاں کے شہریوں کو میسر ہیں جو باقی ملک کے عوام کو حاصل ہیں۔ یہ دراصل حقیقی انضمام کا دور ہے۔
رجیجو نے بتایا کہ بطور وزیر قانون اور کھیل، انہوں نے جموں و کشمیر میں کھیلوں کے میدان، اسپورٹس کمپلیکس، تربیتی مراکز، عدالتوں کے انفراسٹرکچر اور ہائی کورٹ کی عمارتوں جیسے منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اقدامات اسی مشن کے تحت اٹھائے گئے جس کا مقصد نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اور جموں و کشمیر کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
بہار کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ ملک میں اس وقت مودی لہر جاری ہے اور عوام کو یقین ہے کہ بھارت کا مستقبل وزیر اعظم مودی کی قیادت میں محفوظ اور روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم نے بہار میں اپنی انتخابی مہم کارپوری ٹھاکر جی کے آبائی مقام چھپرا سے شروع کی ہے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ بہار صرف مودی جی کی قیادت میں ترقی کر سکتا ہے۔ لوگ ’جنگل راج‘ کی واپسی نہیں چاہتے۔
رجیجو نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تیجسوی یادو کو انڈیا بلاک کا وزیر اعلیٰ امیدوار بنائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، صرف کسی کو نامزد کر دینا کافی نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں اصل اہمیت عوامی قبولیت کی ہوتی ہے، اور آج عوام مودی جی کے ساتھ ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر رجیجو نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت خطے کے امن و ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کٹرہ میں منعقدہ تقریب میں 51,000 نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے تقرر نامے دینے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا، ’یہ صرف نوکریاں نہیں بلکہ ملک کی خدمت کا موقع ہے۔ جب کوئی نوجوان نوکری حاصل کرتا ہے تو خوشی صرف اس کے لیے نہیں بلکہ پورے خاندان اور سماج کے لیے ہوتی ہے۔‘
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سرکاری نوکری کو صرف روزگار کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے ملک کی خدمت کا ایک مقدس فریضہ سمجھیں۔
رجیجو نے کہا، ’آج جو 51 ہزار تقرر نامے دئیے گئے ہیں، وہ دراصل قوم کی خدمت کا موقع ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اسے محض ملازمت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں۔‘
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
