جموں و کشمیر
باغ گل لالہ کو کھول کر سیاحتی سیزن کا آغاز کیا،باغ داﺅدسیزن کو مزید آگے بڑھائے گا: وزیراعلیٰ عمرعبداللہ
ایک سال کی ریکارڈمدت میںتیار لاکھوں دلکش پھولوں سے مزین ’باغ گل داﺅد ‘کاباضابطہ طورپرافتتاح
صرف موسم گرمامیں پھول کھلنے کی غلط فہمی دُور،خزاں بھی پُررونق
سری نگر:جے کے این ایس : وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ’نہرو میموریل بوٹنیکل گارڈن‘ کے بیچوں بیچ ایک سال کی ریکارڈمدت میںتیار کئے گئے ’ ’باغ گل داﺅد‘ ‘کاباضابطہ طورپرہفتہ کو افتتاح کیا۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس وزیر اعلی عمر عبدللہ نے ”باغ گل داود“ کی بنیاد رکھی تھی اور آج26 تاریخ کوانہوںنے باضابطہ طور اس کا رسمی افتتاح کیا گیا۔جے کے این ایس کے مطابق باغ گل داﺅدکاافتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے باغ داﺅد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وادی میں سیاحتی سیزن کو بڑھا دے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہمیشہ سیاحت کے سیزن کو بڑھانے کی رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ٹیولپ گارڈن ہمارے سیاحتی سیزن کو آگے بڑھاتا ہے، اور اب باغ گل داﺅد اسے مزید آگے بڑھائے گا۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح ہم نے ٹیولپ گارڈن کو شروع کیا اور پھر اسے ایشیا کا سب سے بڑا باغ بنانے کےلئے بڑھایا، ہمارے پاس ہر موسم میں زیادہ سے زیادہ کرسنتھیمم گل داﺅدکھلیں گے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ کشمیر میں گرمی کے موسم کے بعد پھول نہیں کھلتے۔انہوںنے کہاکہ محکمہ پھول بانی (فلوری کلچر ڈیپارٹمنٹ) کے حکام کےساتھ میٹنگ کے بعد ہم نے اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر ہم ٹیولپ گارڈن کو کھول کر سیاحتی سیزن کا آغاز کر سکتے ہیں تو ہم گل داو ¿د باغ کے ساتھ سیزن کو بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ میں تمام باغبانوں اور محکمہ کے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔کرسنتھیمم گارڈن یعنی باغ گل داﺅکے افتتاح کے موقع پر، وزیر اعلیٰ نے ایک نمائش کا بھی افتتاح کیا جس میں سجاوٹی، لیوینڈر اور دیگر پھولوں کی اقسام کی وسیع رینج پر مشتمل ہے جو مقامی کاشتکاروں نے محکمانہ تعاون سے کاشت کی ہے۔ انہوں نے پھولوں کے کاشتکاروں سے بات چیت کی اور باغبانوں اور فیلڈ سٹاف کی لگن اور دستکاری کو سراہا جن کی کوششوں سے پھولوں میں جان آئی۔’ باغ گل داﺅد‘ یہ کشمیر وادی میں اپنی نوعیت کا ایسا پہلا باغ ہے جو کہ موسم خزاں میں گل داﺅد کے تھیم پر تیار کیا گیا ہے۔ 5ہیکٹیئر یعنی لگ بھگ100 کنال اراضی پر محیط اس باغ میں گل داﺅد کے ایک لاکھ پودے لگائے گئے ہیں جن پر اس وقت 30 لاکھ رنگ برنگے پھول اپنے جوبن پر ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق دراصل ’باغ گل داﺅد‘ کی گزشتہ برس نومبر میں بنیاد ڈالی گئی تاکہ سیاحوں کو نہ صرف یہاں خزاں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملے بلکہ ان پھولوں کی دلکشی اور خوبصورتی سے بھی محظوظ ہو سکیں۔کشمیر میں اس وقت خزاں (پت جڑھ) کا موسم ہے اور ہر سو درختوں سے پتے گرنے شروع ہو جاتے ہیں اور بیشتر پھول بھی مرجھائے نظر آتے ہیں، جس سے درخت برہنہ اور زرخیز زمین و باغات سونے معلوم ہوتے ہیں، تاہم خزاں کے ساےے میں ماہ اکتوبر میں گل داﺅد کے یہ رنگین پھول ماحول میں دوبارہ رنگ بھرنے اور دیکھنے والے کو معطر کرتے ہیں۔فلوریکلچر آفیسر جاوید مسعود کہتے ہیں کہ ”گل داود“ موسم خزاں کے پھول ہیں اور یہ اسی موسم میں کھلتے ہیں اور یہ پھول باغات اور گھریلوں پارکوں کے خلا ءکو دور کرتے ہیں جو ہمیں خزاں میں زمینی سطح کو دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا ”گل داود کی قسم میں تقریباً ہر رنگ کے پھول کھلتے ہیں لیکن سرخ، پیلا اور نارنگی اس پھول کے بنیادی رنگ ہیں۔“وادی کشمیر اپنی بے پناہ خوبصورتی اور دلکشی سے جہاں دنیا بھر میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے، وہیں یہ بدلتے موسموں کی وجہ سے بھی جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں کے موسم بھی بڑے نرالے ہوتے ہیں۔ موسم سرما ہو یا گرما، بہار ہو یا خزاں، ہر موسم میں کشمیر اپنے حسن کا الگ رنگ بکھیرتا ہے۔ اور یہی وہ حسن ہے جو وادی کی سیر کرنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔موسم خزاں میں کشمیر کی سیر پر آئے سیاح ان دنوں باغ گل داﺅد کی سیر کرنا نہیں بھولتے۔ ممبئی سے آئی ایک خاتون سیاح یاسمین بانو نے بتایا ”پت جڑھ (خزاں)کے اس موسم میں مختلف رنگوں کے پھولوں سے بھرا ہوا ایسا باغ میں نے پہلی بار دیکھا ہے باغ اور پھولوں کی یہ خوبصورتی میرے لیے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔“’باغ گل داود‘ کشمیر میں خزاں میں ایک نئی کشش ثابت ہو رہا ہے اور اس سے سیاحت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ جاوید مسعود کہتے ہیں کہ ”ہمارے پاس سیاحوں کو اس وقت چنار کے زرد پتوں کو دکھانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا تھا تاہم اب ’باغ گل داود‘ اکتبور نومبر میں سیاحوں کو کشمیر کی طرف متوجہ کرنے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
