ہندوستان
سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں سے ڈیجیٹل گرفتاری گھپلے میں درج ایف آئی آر کی تفصیلات طلب کی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے آج تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ گھپلوں میں درج ایف آئی آر کی تفصیلات فراہم کریں یہ سائبر فراڈ کی ایک بڑھتی ہوئی شکل ہے جہاں فراڈ کرنے والے قانون نافذ کرنے والے افسران کا روپ دھارتے ہیں اور متاثرین کو پیسے دینے پر مجبور کرتے ہیں جسٹس سوریہ کانت اور جویمالیہ باگچی کی بنچ نے کہا کہ عدالت تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سونپنے پر غور کر سکتی ہے بشرطیکہ ایجنسی کے پاس ملک بھر میں ایسے معاملات کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل ہوں۔ عدالت کی یہ ہدایت شہریوں بالخصوص بزرگ شہریوں کو نشانہ بنانے والے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل گرفتاری کے گھپلوں کی رپورٹوں کے بعد 17 اکتوبر کو شروع ہونے والے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران آئی۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سماعت کے دوران بنچ کو مطلع کیا کہ سی بی آئی پہلے ہی ایسے کچھ معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہاکہ “براہ کرم معلوم کریں کہ کیا سی بی آئی کے پاس تمام معاملات کو سنبھالنے کے وسائل ہیں؟”
جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر انہیں سائبر کرائم ماہرین کی ضرورت ہے تو وہ ہمیں بتا سکتے ہیں۔ سالیسٹر جنرل نے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی ان معاملات میں وزارت داخلہ کے سائبر کرائم ڈویژن سے مدد لے رہی ہے۔
جسٹس باگچی نے مسئلہ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہاکہ”مسئلہ مقدمات کی تعداد کا ہے۔ ہم نے اسے پونزی کیسوں میں دیکھا۔ اس وقت سی بی آئی پر زبردست دباؤ تھا۔ کیا آپ خصوصی تحقیقات کے لیے تیار ہیں؟ اور یہ وہ اضافی خرچ ہے جس کی آپ کو ضرورت ہو سکتی ہے۔”
بنچ نے ایک مربوط قومی قرارداد کے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ یکساں تحقیقات کے حق میں ہے، لیکن تمام ریاستوں کے خیالات سنے بغیر کوئی فوری حکم جاری نہیں کریں گے۔
تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم آج کوئی ہدایت جاری نہیں کر رہے ہیں۔ ہم ریاستوں کو نوٹس جاری کر رہے ہیں تاکہ یکساں جانچ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ مقدمہ ایک بزرگ جوڑے کے ایک خط سے شروع ہوا، جس نے بتایا کہ 1 سے 16 ستمبر کے درمیان، سی بی آئی، انٹیلی جنس بیورو، اور عدلیہ کے اہلکار ظاہر کرتے ہوئے دھوکہ دہی کرنے والوں نے انہیں 1.5 کروڑ (تقریباً 1.5 ملین ڈالر) کا دھوکہ دیا۔
جعلسازوں نے فون اور ویڈیو کالز کا استعمال کیا اور یہاں تک کہ متاثرین کو فنڈز کی منتقلی کے لیے ڈرانے دھمکانے اور گرفتاری کی دھمکی دینے کے لیے سپریم کورٹ کے جعلی احکامات بھی پیش کیے۔ اس کے بعد انبالہ میں سائبر کرائم برانچ نے اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج کیں، جس سے ملک بھر میں اسی طرح کے جرائم کے منظم گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا۔
میڈیا رپورٹس نے یہ بھی اشارہ کیا کہ اسی طرح کے گھپلے کئی دیگر ریاستوں میں بھی ہوئے ہیں، جس سے عدالت کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔
17 اکتوبر کو عدالت نے مرکزی حکومت اور سی بی آئی سے جواب طلب کیا اور اٹارنی جنرل آف انڈیا سے مدد کی درخواست کی۔ عدالت نے مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کے درمیان مربوط کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہریانہ سائبر کرائم پولیس، انبالہ کو اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
ہریانہ کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) نے آج کی سماعت کے دوران عدالت کو مطلع کیا کہ اسی طرح کے جرائم کے لیے مزید ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور مزید تفصیلات درج کرنے کے لیے مزید وقت کی درخواست کی ہے۔ عدالت نے انہیں ایک ہفتہ کا وقت دیا اور دیگر تمام ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ اس طرح کے گھپلوں سے متعلق ایف آئی آر کی تفصیلات پیش کریں۔
بنچ نے ہدایت دی کہ “ان دو ایف آئی آر کے علاوہ اسی طرح کے جرائم سے متعلق ہریانہ میں کئی دیگر ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے تفصیلات جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے اور انہیں وقت دیا گیا ہے۔ اس دوران، ہم تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ وہ اپنی متعلقہ عدالتوں میں گرفتاری سے متعلق ڈیجیٹل جواب میں درج ایف آئی آر کی تفصیلات فراہم کریں۔ صرف کیسز کی تفصیلات ریکارڈ پر لائی جا سکتی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
