جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس نے اپنے کئی قدآور لیڈران دہلی بھیجے، مگر کچھ دہلی کی آلودگی سے متاثر ہوئے: عمر عبداللہ
سری نگر جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز کہا کہ شیخ محمد عبداللہ سے لے کر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور اب خود اُن تک، نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اپنے مضبوط اور تجربہ کار لیڈران کو دہلی بھیجا تاکہ وہ جموں و کشمیر کی مؤثر نمائندگی کرسکیں، مگر افسوس کہ ان میں سے کچھ دہلی کی آلودگی سے متاثر ہوکر عوام سے دور ہوگئے۔
ہندواڑہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’شیخ صاحب سے لے کر ڈاکٹر فاروق صاحب اور مجھ تک، ہماری جماعت نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو دہلی بھیجا تاکہ وہ یہاں کے عوام کی آواز بن سکیں۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ دہلی جا کر وہاں کی آلودگی سے متاثر ہوگئے۔‘اس جملے پر سامعین میں قہقہے گونج اٹھے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ باصلاحیت اور تجربہ کار آوازوں کو دہلی بھیجا، تاہم سبھی نے عوامی رشتہ برقرار نہیں رکھا۔
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ اس بار راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے والے تین اراکین جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کو ایمانداری اور عزم کے ساتھ پارلیمان میں بلند کریں گے۔’ہماری خواہش ہے کہ وہ واقعی یہاں کے عوام کی آواز بنیں اور اُن کے مسائل دہلی میں سنوائیں، جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی سیاست وفاداری، اہلیت اور عوامی خدمت پر مبنی ہے، نہ کہ سیاسی فائدے یا اقربا پروری پر۔
ان کے مطابق ہم وعدے کرنے والی جماعت ہیں، انہی وعدوں کی بنیاد پر یہ حکومت بنی ہے، اور انشاء اللہ ہم اپنے تمام وعدے پورے کریں گے۔
یہ تقریب سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر چودھری محمد رمضان کے اعزاز میں منعقد کی گئی، جو حال ہی میں راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ چودھری رمضان کی نامزدگی اُن کی دہائیوں پر محیط سیاسی خدمات، عوامی وابستگی اور جماعت کے تئیں غیر متزلزل وفاداری کا اعتراف ہے۔ان کے مطابق ہماری پارٹی میں بہت سے قابل افراد ہیں، مگر چودھری رمضان صاحب کو ان کی قابلیت، سینئرٹی اور عوامی تعلقات کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہے، چاہے وہ جیتے یا ہارے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حدبندی کے دوران ہندواڑہ اسمبلی حلقے سے بیس ہزار ووٹ کاٹے نہ جاتے تو شاید چودھری رمضان صرف 600 ووٹوں سے نہیں ہارتے۔اگر 300 ووٹ بھی ان کے حق میں پڑتے تو آج وہ ایم ایل اے یا شاید میری کابینہ کے وزیر ہوتے۔
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ چودھری رمضان کی راجیہ سبھا نامزدگی وفاداری اور خدمت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کارکنوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ نیشنل کانفرنس اپنے مخلص کارکنوں کی قدر کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کی تعلیم اور نمائندگی پر زور دیتے ہوئے کہا، ’آج ہمارے بچے طب، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ صحیح نمائندوں کا انتخاب کریں۔‘
اپنے خطاب کے اختتام پر عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نعروں نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا فوکس حکمرانی، ترقی اور روزگار پر ہے۔ ہم جو وعدے کر چکے ہیں، وہ سب پورے ہوں گے، کیونکہ یہی نیشنل کانفرنس کی بنیاد ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
