جموں و کشمیر
پولیس کی بڑی کارروائی، بین ریاستی دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب، دو ڈاکٹروں سمیت سات گرفتار
سری نگر،1 جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائی میں بین ریاستی اور بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے سات افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں دو ڈاکٹر، ایک امامِ مسجد، اور کئی تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ ماڈیول کالعدم تنظیموں جیشِ اور انصار غزوة الہند سے منسلک تھا اور اس کے روابط پاکستان سمیت دیگر ممالک میں سرگرم غیر ملکی ہینڈلرز سے بھی قائم تھے۔
پولیس کے مطابق19 اکتوبر 2025 کو سرینگر کے نَوگام علاقے کے بُن پورہ میں مختلف مقامات پر جیشِ محمد کے دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں پائے گئے، جن میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس کے بعد نَوگام تھانے میں باضابط طورپر کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی گئی۔
بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ ایک ’وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک‘ تھا، جس میں پروفیشنلز، طلبہ اور مذہبی عہدیداران شامل تھے، جو خفیہ طور پر پاکستان میں بیٹھے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔ یہ گروپ انکرپٹڈ آن لائن چینلز کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے، فنڈز جمع کرنے، اسلحہ و بارود کی فراہمی اور آئی ای ڈی بنانے کے لیے مواد حاصل کرنے میں سرگرم تھا۔
گرفتار شدگان کی شناخت عارف نثار ڈار عرف ساحل، ساکن نَوگام سرینگر،یاسرالاشرف، ساکن نَوگام سرینگر،مقصود احمد ڈار عرف شاہد، ساکن نَوگام سرینگر،مولوی عرفان احمد (امام مسجد)، ساکن شوپیاں،ضمیر احمد آہنگر عرف متلاشہ، ساکن واکورہ، گاندربل، ڈاکٹر مزمل احمد گنائی عرف مصیب، ساکن کوئل پلوامہ اور ڈاکٹر عدیل، ساکن وانپورہ، کولگام کے بطور کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق کچھ دیگر مشتبہ افراد کے رول کا بھی انکشاف ہوا ہے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تحقیقات کے دوران جموں و کشمیر پولیس نے سرینگر، اننت ناگ، گاندربل اور شوپیاں میں کئی مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے، جب کہ ہریانہ پولیس کے ساتھ فریدآباد اور یوپی پولیس کے ساتھ سہارنپور میں بھی تلاشی کارروائیاں انجام دی گئیں۔
پولیس کے مطا بق چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ایک چینی ساختہ اسٹار پستول اور گولیاں،ایک بریٹا پستول بمعہ ایمونیشن،ایک اے کے-56 رائفل اور ایمونیشن،ایک اے کے رائفل اور گولیوں کے راونڈ ،2900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا مواد جس میں دھماکہ خیز کیمیکل، الیکٹرانک سرکٹس، بیٹریاں، وائرز، ریموٹ کنٹرولز، ٹائمرز اور دھات کی پلیٹس شامل ہیں کو برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ فنڈز کی فراہمی اور اس کے ذرائع کی تفتیش جاری ہے، اور اس ماڈیول کے تمام مالی و تکنیکی روابط کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی جموں و کشمیر پولیس کے انتھک عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر ہے، جس کا مقصد وادی کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور بیرونی سازشوں سے پاک کرنا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق،’یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس وادی میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
