فن و ادب
صفِ اول کی ہیروئن مالا سنہا اپنی خوبصورتی اور صلاحیت کےلئے مشہور تھیں
سالگرہ 11 نومبر کے موقع پر
ممبئی، مشہور ہندی فلم اداکارہ مالا سنہا اپنی خوبصورتی اور صلاحیت دونوں کے لیے جانی جاتی ہیں 1950 سے 1970 کی دہائی تک ہندی فلموں کی صفِ اول کی ہیروئینوں میں ان کا شمار ہوتا ہے انہوں نے ہندی کے ساتھ ساتھ بنگالی اور نیپالی فلموں میں بھی کام کیا ہے اپنی خوبصورت شخصیت، پروقار انداز اور اداکاری کے گہرے تاثر کے باعث آج بھی کلاسیکی ہندوستانی سنیما کی سب سے معتبر اداکاراؤں میں شمار کی جاتی ہیں۔ اداکاری کے علاوہ مالاسنہا موسیقی کی بھی شوقین تھیں، لیکن فلموں کی خاطر انہوں نے اپنے گلوکاری کے شوق کو قربان کر دیا۔
11 نومبر 1936 ایک نیپالی عیسائی خاندان میکن پیدا ہوئی مالا سنہا کے والد کا نام البرٹ سنہا تھا۔ جوانی میں بطور اداکارہ انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے مالا سنہا رکھ لیا۔بچپن سے ہی مالا سنہا کا رجحان اداکاری سے زیادہ موسیقی کی طرف تھا۔ وہ نہ صرف گاتی تھیں بلکہ آل انڈیا ریڈیو میں بطور گلوکارہ بھی کام کر چکی تھیں۔ لیکن جب انہیں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا تو انہیں اداکاری یا گلوکاری مین سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا ، انہوں نے فلموں کے لیے اپنے سنگنگ کیریئر کو خیر باد کہہ دیا اور یہی ان کے فلمی سفر کی بنیاد بنا۔
بچپن سے ہی مالاسنہا کو ڈانس اور موسیقی سے گہری دلچسپی تھی اور انہوں نے دونوں فنون میں باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی تھی وہ اسکول کے ڈراموں میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ ایک دن اسکول کے ایک فنکشن میں ایک مشہور فلم ڈائریکٹر مدعو تھے۔ اس فنکشن میں مالا سنہا نے ایک ڈرامے میں اداکاری کی اور جیسے ہی ڈائریکٹر نے ان کی پرفارمنس دیکھی، وہ ان کے فن کے قائل ہو گئے۔فنکشن کے فوراً بعد وہ مالا کے گھر پہنچے اور ان کے والد البرٹ سنہا سے کہا کہ آپ کی بیٹی میں اداکاری کی زبردست صلاحیت ہے، اسے فلموں میں موقع ملنا چاہیے۔ والد صاحب نے بھی ڈائریکٹر کی بات سے اتفاق کیا، اور یوں مالا سنہا نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے فلمی سفر کی شروعات کی۔
ایک بنگالی فلم جئے ویشنو دیوی سے بطور چائلڈ آرٹسٹ شروعات کے بعد 1952 میں ان کی پہلی بڑی فلم روشن آرا ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے کئی بنگالی فلموں میں کام کیا۔انہی دنوں ایک فلم کی شوٹنگ کے لیے وہ ممبئی آئیں، جہاں ان کی ملاقات مشہور اداکارہ گیتا بالی سے ہوئی۔ گیتا بالی ان کی شخصیت اور صلاحیت سے بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے فلم ڈائریکٹر کیدار شرما سے درخواست کی کہ وہ مالا سنہا کو بالی ووڈ میں موقع دیں۔ گیتا کی سفارش پر کیدار شرما نے مالا سنہا کو اپنی فلم‘’ رنگین راتیں‘ میں بطور ہیروئن کاسٹ کیا۔
اس کے بعد انہوں نے کئی فلمیں کیں، مگر ابتدائی فلموں سے انہیں خاص پہچان نہیں ملی۔آخر کار ان کا انتظار ختم ہوا 1957 میں جب فلم پیاسا ریلیز ہوئی۔ یہ فلم مالا سنہا کے کیریئر کی سب سے بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی اور اسی فلم نے انہیں بالی ووڈ میں ایک مضبوط مقام دلایا۔اس فلم میں وہ گرو دت کے ساتھ نظر آئیں۔ یہی ان کے فلمی سفر کا سنہری موڑ بن گیا۔
مالا سنہا اپنے دور کی ایک نہایت کامیاب اداکارہ تھیں۔ وہ فلموں کے لیے خاطر خواہ معاوضہ لیا کرتی تھیں اور اپنے وقت کی ٹاپ ہیروئنز میں شمار ہوتی تھیں۔اپنی ماں کی طرح ان کی بیٹی پرتیبھاا سنہا بھی اداکارہ بننا چاہتی تھیں۔ اسی خواہش کے تحت انہوں نے بھی بالی ووڈ میں قدم رکھا، مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور انہیں وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جو ان کی والدہ کو ملی تھی۔بیٹی کی ناکامی سے مالا سنہا بہت رنجیدہ ہو گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے فلمی تقریبات اور پارٹیز میں جانا بند کر دیا اور آہستہ آہستہ فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
انہوں نے سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا، جن میں پیاسا (1957)، دھول کا پھول (1959)، ان پڑھ اور دل تیرا دیوانہ (1962)، گمراہ، بہو رانی، گہرا داغ (1963)، ہمالیہ کی گود میں (1965) وغیرہ نمایاں ہیں۔انہیں اکثر دھرمندر، راج کمار، راجندر کمار، بسوجیت، کشور کمار، منوج کمار اور راجیش کھنہ جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ سال 1957 میں مشہور اداکار اور ہدایت کار گرو دت نے اپنی فلم پیاسا میں مالا سنہا کو لیا۔ اس کردار کے لیے پہلے وہ مدھوبالا کو لینا چاہتے تھے، مگر مدھوبالا کے انکار کے بعد یہ رول مالا سنہا کو ملا۔
اس کے بعد ان کی فلم پھر صبح ہوگی (1958) اور یش چوپڑا کی ہدایت میں بنی دھول کا پھول (1959) نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔1958 سے 1960 کی دہائی کے آغاز تک وہ کئی کامیاب فلموں میں جیسے پرورش (1958)، اجالا، میں نشے میں ہوں، دنیا نہ مانے، لو میرج (1959)، بیوقوف (1960)، مایا (1961)، ہریالی اور راستہ، دل تیرا دیوانہ (1962)، ان پڑھ اور بمبئی کا چور (1962) وغیرہ میں نظر آئیں1960 اور 1970 کی دہائی میں انہوں نے اپنے دور کے بڑے ستاروں جیسے راج کپور، دیو آنند، کشور کمار، پردیپ کمار کے ساتھ بھی کام کیا۔ نئے ابھرتے ہوئے اداکاروں شمی کپور، راجندر کمار، راج کمار، منوج کمار، دھرمندر، راجیش کھنہ، سنیل دت، سنجے خان، جیتندر اور امیتابھ بچن کے ساتھ بھی کئی یادگار فلمیں کیں۔ جب مالا سنہا بالی ووڈ میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں، تبھی انہیں نیپالی فلم انڈسٹری سے بھی آفر آنے لگے۔ 1966 میں انہوں نے نیپال جا کر اپنی پہلی اور واحد نیپالی فلم ماٹی گھر میں کام کیا۔اس فلم کے ہیرو چدمبر پرساد لوہانی تھے، جو ایک اسٹیٹ کمپنی کے مالک بھی تھے۔اسی فلم کی شوٹنگ کے دوران مالا کو اپنے کو اسٹار چدمبر پرساد لوہانی سے محبت ہو گئی۔ مگر شادی کے لیے دونوں کے خاندان نے دو شرطیں رکھ دیں کہ شادی کے بعد مالا فلموں میں کام نہیں کریں گی۔شادی باقاعدہ مذہبی رسومات کے مطابق ہوگی۔
مالا نے دونوں شرطیں مان لیں، اور یوں دونوں کی شادی خاندان کی رضامندی سے ہو گئی۔ لیکن اس شادی کی ایک منفرد بات یہ تھی کہ مالا کو اپنے شوہر سے تین بار شادی کرنی پڑی پہلی بار عیسائی طریقے سے،دوسری بار ہندو رسم و رواج کے مطابق اور تیسری بار کورٹ میرج کی۔شادی کے بعد جب چدمبر پرساد نے دیکھا کہ مالا اداکاری کے لیے کتنی پرجوش ہیں، تو انہوں نے خود ہی انہیں فلموں میں کام جاری رکھنے کے لیے کہا۔ اپنے خداداد حسن اور فنکارانہ صلاحیتوں کے سبب مالا سنہا نے نہ صرف فلم شائقین کے دلوں پر راج کیا بلکہ ہندوستانی سینما پراپنی اداکاری کے انمٹ نقوش بھی مرتسم کیے۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
فن و ادب
رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج 1000 کروڑ کلب میں شامل
ممبئی، بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج نے ہندوستانی مارکیٹ میں 1013 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی بلاک بسٹر دھوندھر کا سیکوئل، دھوندھر: دی ریونج روزانہ لاکھوں روپے کی آمد کے ساتھ کامیابی جاری ہےرنویر سنگھ نے مرکزی کردار میں اداکاری کی، یہ فلم ریلیز کے بعد سے ہی شائقین کے درمیان زبردست ہٹ رہی ہے۔ فلم کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے۔ رنویر سنگھ، آر مادھاون، ارجن رامپال، سنجے دت، راکیش بیدی، اور سارہ علی خان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
سکنلک کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، “دھورندھر: دی ریوینج” نے 18 مارچ تک تقریباً 43 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہندوستانی مارکیٹ میں 674.17 کروڑ روپے کمائے۔ اس نے دوسرے ہفتے میں 263.65 کروڑ روپے کمائے۔ فلم نے 16ویں دن 21.55 کروڑ روپے، 17ویں دن 25.65 کروڑ اور 18ویں دن 28.75 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے 18 دنوں میں ہندوستانی مارکیٹ میں 1013.77 کروڑ روپے کمائے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نوتن فلموں میں کام کرنے والی پہلی مس انڈیا تھیں
21 فروری برسی کے موقع پر
خصوصی تحریر: نسیم الدین
بالی ووڈ میں ایسی شخصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جِن کے کارناموں کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور جِنھوں نے فلمی دنیا میں اپنے انمٹ نقش چھوڑے ہیں اِس طویل عرصے میں کیسے کیسے نامور فن کاروں نے، جِن میں ایکٹرز، ڈائریکٹرز، گلوکار، رائٹرز، شاعر اور موسیقار اور فلمی اسکرین پر اور اس کے پس پردہ کام کرنے والی سینکڑوں شخصیتیں شامل ہیں، اپنی لگن اور فنی جوہر سے بالی ووڈ کو وہ بلند مقام دیا جہاں اُسے ہم آج دیکھتے ہیں۔اِنہی میں ایک عظیم اداکارہ نوتن بھی شامل ہیں۔
نوتن نے اپنی فطری اداکاری، سادگی اور مکالموں کی ادائیگی سے فلم شائقین کو جِس طرح متاثر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آج کے دور میں جہاں مس انڈیا کا خطاب جیتنے والی حسیناؤں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے، وہیں نوتن کو فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔
چار جون 1936 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں نوتن کا اصلی نام نوتن سمرتھ تھا۔ ان کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کی ماں شوبھنا سمرتھ اس زمانے کی معروف فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے نوتن اکثر اپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں۔
اس وجہ سے ان کا رجحان بھی فلموں کی جانب مائل ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔نوتن نے بطور چائلڈا سٹار فلم ’نل دمينتی‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس درمیان نوتن نے آل انڈیا بیوٹی مقابلہ میں حصہ لیا جس میں وہ سرفہرست رہیں لیکن بالی ووڈ کے کسی فلمساز کی توجہ ان کی طرف نہیں گئی۔ انہیں 1950 کی فلم ہماری بیٹی میں اداکاری کرنے کا موقع ملا جس کی ہدایت کار ان کی ماں شوبھنا سمرتھ تھیں۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
