تازہ ترین
اقتدار میں آئے تو 2016میں ہوئی شہری ہلاکتوں کی ہوگی اعلیٰ سطح پر تحقیقات: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ اگر پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہوئی ہلاکتوں سے متعلق ایک غیر جانبدارانہ کمیشن مقرر کیا جائے گا تو ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں امن کی بحالی کا خواب تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک نہ کشمیریوں کی عزت و وقار کو بحال کیا جاتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب اُمور پر مذاکرات کا آغاز کیا جاتا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جنوبی ضلع اننت ناگ میں پارٹی کنونشن کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوتی ہے تو پارٹی کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران ہوئی ہلاکتوں سے متعلق ایک غیر جانبدارانہ کمیشن کا قیام عمل میں لائے گا تاکہ ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس عوام سے وعدہ کرتی ہے کہ جونہی پارٹی کو بھاری منڈیٹ حاصل ہوگا تو اگلے ہی روز ہم کشمیر میں ہوئی ہلاکتوں سے متعلق ایک کمیشن قائم کریں گے تاکہ ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے علاوہ متاثرین کو انصاف فراہم ہو۔سرینگر بڈگام پارلیمانی سیٹ کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اُن کے بیٹے اور پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ بھی ہلاکتوں سے متعلق کمیشن کے قیام کے حق میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر عبداللہ نے بھی کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں سے ہوئی ہلاکتوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کی اعلیٰ سطحی کمیشن کے ذریعے تحقیقات پر زور دیا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم پرامید ہیں کہ اللہ ہماری پارٹی کو بھاری منڈیٹ سے کامیاب کرے گا اور ہمیں دوسروں کے تعاون کی ضرورت درپیش نہیں رہے گی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا کہ نیشنل کانفرنس اقتدار میں آنے کے بعد اگلے روز ہی گزشتہ برسوں کے دوران ہوئی ہلاکتوں سے متعلق کمیشن کا تقرر عمل میں لائے گی۔
این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کمیشن کی کارکردگی دیکھنے کے لائق ہوگی جس کا مشاہدہ نہ صرف ریاستی عوام کریں گے بلکہ دنیا کے باقی لوگ بھی اس کی کارکردگی کو سراہیں گے۔ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی آپریشن آل آؤٹ کی حمایت نہیں کی اور نہ اس کی حمایت مستقبل میں کرے گی۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہا کہ نیشنل کانفرنس کس طرح اُن اقدامات کی حمایت کرسکتی ہے جب لوگوں کی طاقت، دھونس دباؤ اور جبر کے ذریعے دبایا جارہا ہو۔ہم یہ کیسے برداشت کریں گے کہ ہمارے لوگوں کو نہ صرف باہر بلکہ گھروں کے اندر بھی مارا پیٹا جارہا ہو۔اس طرح کی پالیسی نیشنل کانفرنس کا کبھی بھی حصہ نہیں رہی ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کبھی بھی انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کی پیٹ تھپتھپائے گی۔ یہاں ہر کوئی آزاد ہے، ہم ایک آزاد ملک میں سکونت پذیر ہے لہٰذا بحیثیت حکومت ہمیں اپنے لوگوں کا ہر حال میں خاص خیال رکھا ہے کہیں ان کے حقوق کو پامال تو نہیں کیا جارہا ہے۔بات چیت اور افہام و تفہیم کو جموں وکشمیر میں مکمل امن و امان کی واحد ضمانت قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ نئی دلی کو کسی بھی صورت میں کشمیریوں اور پاکستان کیساتھ بات چیت کرنی ہے کیونکہ اسی صورتحال میں روشن اور تابناک مستقبل کی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں کے دل جیتنا اور کشمیریوں کی عزت اور وقار بحال کرنا وقت کی اہم ضروری ہے۔ اگر فوجی سربراہ طالبان کیساتھ غیر مشروط مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں تو پھر کشمیر میں بات چیت کا راستہ اپنانے سے کیوں گریز کیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ چھاپہ مار کارروائیوں، مار دھارڈ اور ظلم ڈھانے سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور مرکز کو ایسی کوشش کرنی چاہئے جس سے امن بحال ہو اور لوگوں میں اطمینان آئے تاکہ ریاست کے عوام امن اور چین کی زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کسی بھی سخت گیری پالیسی کی حمایت نہیں کرتی ، مرکز کو لوگوں کا غم و غصہ کم کرنے کیلئے اُن کے دکھ کو دیکھنا پڑیگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو ہم یہاں سخت گیر پالیسیوں کی اجازت نہیں دیں گے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمیں مضبوط مینڈیٹ ملے گا، ٹوٹی پھوٹی حکومت میں ایسا کر پانا مشکل ہے۔ 1996میں جب ہم واضح اکثریت کیساتھ آئے تو ہم نے یہاں سب کچھ نئے سرے سے شروع کیا اور ہمیں اس میں کافی حد تک کامیابی ملی۔ یہاں کے سکول، کالج اور دیگر دانشگاہیں مفلوج تھیں، نقل کی وبا عام تھی، ورک کلچر ختم ہوگیا تھا، ہسپتال میں ڈاکٹرموجود نہیں تھے، پل نذر آتش کئے گئے تھے، سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوتا تھا نیز ہر ایک شعبے کو ہم نے نئی جہت بخشی۔ اس کے علاوہ ہم نے اٹانومی کا مسودہ تیار کیا اور اسے اسمبلی سے پاس کروایا اور مرکز کے سامنے رکھ دیا۔ لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے اٹانومی کو منظور نہیں کیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ میں نے تب بھی مرکز سے کہا اور آج بھی کہتا ہوں کہ آپ کو جموں وکشمیر کی اٹانومی بحال کرنی ہی ہوگی کیونکہ اسی صورت میں ریاست میں دیرپا اور مکمل امن و امان آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دل صرف اور صرف ریاست کی اندرونی خودمختاری کی بحالی سے ہی جیتے جاسکتے ہیں۔ لوگ کو آر ایس ایس اور بھاجپا کے ایجنٹوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ میں نے 2014میں بھی لوگوں سے کہا تھا کہ آپ پی ڈی پی کو ووٹ مت دیں، کیونکہ یہ آر ایس ایس اور بھاجپا کے آلہ کار ہیں، لیکن اُس وقت میری باتوں پر کسی نے یقین نہیں کیا اور پھر 2015میں لوگوں نے خود دیکھا کہ کسی طرح سے پی ڈی پی والے آر ایس ایس کی گودھ میں بیٹھ گئے۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
