تازہ ترین
ویڈیو: کیا وادی میں سنیما گھر پھر سے کھولے جا رہےہیں؟
رضوان سلطان:
وادی کشمیر میں لگ بھگ تیس سال کے لمبے عرصے کے بعد ایک بار پھر سے سرے نگر میں سنیما گھر کھولے جا رہے ہیں .اور سیول لائینز میں ایک سے زیادہ سکرینوں والے سنیما گھر کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے ۔
ایک بھارتی نیوز ایجنسی کے مطابق سیول لاینر میں ملٹی پلیکس سنیما گھر کی تعمیر اور بند پڑے سنیما گھروں کی بحالی کی کوشش ریاستی گورنر ستیہ پال کی معاملے میں زاتی دلچسپی سے شروع ہوئی ہے ۔
نیوز ایجنسی کے مطابق ایک سےئنر عہدیدار نے سرینگر کے سیول لائینز میں ایک ملٹی پلیکس سنیما گھر کی تعمیر کے کام کی تصدیق کی تاہم انہوں نے مالکانہ حقوق سے متعلق تفصیلات منکشف کرنے سے معزرت ظاہر کر دی ۔ انہوں نے کہا کہ جب ا سکا کام مکمل ہو گا تو میڈیا کو تفسیلات فراہم کی جائے گی ۔ لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ کام جلد مکمل ہو سکتا ہے ۔
سنیما گھروں کی واپسی کی کوشش میں سب سے زیادہ دلچسپی ریاتسی گورنر ستیہ پال ملک کی رہی ہے ۔ گورنر نے 10 جنوری کو کھٹوا میں تقریب کے دوران کہا تھا کہ کشمیر میں بچوں کے پاس چھ بجے کے بعد کرنے کو کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ وہاں کے بچوں نے سنیما نہیں دیکھا ہے ۔ ابھی میں نے ایک سنیما گھر کی سنگ بنیاد رکھوائی ہے ۔
ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک انٹرویو میں سنیما گھروں کی واپسی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وادی میں پہلا ملٹی پلیکس سنیما گھر دہلی پبلک سکول سرینگر کے چیر مین وجے دھر کی جانب سے قائم کیا جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں سنیما ، کافی ہاوسز ، غرض وہ ساری چیزیں مہیا کرائی جایں گی جہاں نوجوان بھیٹیں گے اور گپ شپ کریں گے ۔ اور اسکے لئے بہت سارے لوگ آگے آرہے ہیں ۔
وادی کی لگ بھگ تما م مین سٹریم سیاسی جماعتیں سنمیا گھروں کو کھولنے کے حق میں ہے ۔نومبر2017 میں سابق وزیر اور پی ڈی پی کے ترجمان نعیم اختر نے سنمیا گھروں کو دوبارہ کھولنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب اور پاکستان میں سنیما گھر ہو سکتے ہیں تو تو کشمیر میں کیوں نہیں ، ہمارے جیب میں موبائیل فون بھی ایک سنیما کی طرح ہے ۔’
2011 میں نیشنل اکنفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبدللہ نے کہا تھا کہ یہاں پر سنیما گھر اور شراب خانے کھولے جانے چاہیے جس سے سیاحت کو فروغ ملے گا .وہیں انہوں نے 2017 میں بھی سرینگر میں کہا تھا کہ کشمیر دینا کی واحد جگہ ہے جہان فلمیں نہیں دیکھائی جاتی ، پاکستان میں فلم ہال ہیں تو یہاں بند کیون کئے گئے ہیں ۔
آپ کو بتا دیں 1989 تک 15 سے زائد سنیما گھر چل رہے تھے جن میں سے سرینگر میں 9 باقی6 دوسرے علاقوں میں تھے ۔لیکن 1987 انتخابات میں دھاندلی ہونے کے بعد نواسی میں ایک عسکریت پسند جماعت اللہ ٹائیگرز نے سنیما اور شراب دکانوں کے مالکان کو اپنا کاروبار بند کرنے کو کہا اور اسکے تین مہینے کے بعد ہی تما م سنما گھر اور شراب خانے بند ہوئے ۔
اگرچہ 1999 میں ڈاکٹر فاروق عبدالہہ کی حکومت نے پھر سے سنیما گھر کھولے لیکن ، لیکن اس کے پہلے ہی شو میں عسکریت پسندوں لکے حملے میں ایک شخص ہلاک دیگر 15 زخمی ہوئے ۔
اسکے کہیں سال بعد پھر سے ایک کوشس کے ذریعے نیلم اور براڈ وے سنیما کھلوے گئے ، جن کیلئے سخت سیکورٹی مہیا کی گئی ، لیکن لوگون میں خوف کی وجہ سے سنیما گھروں سے دور ہی رہے اور براڈ وے کچھ مہیوں میں ہی بند ہو گیا جبکہ نیلم سنیما 2010 میں بند ہو گیا ۔ اور آج یا تو یہ گھر تباہ ہوگئے اور کچھ میں سیکورٹی فورسز موجود ہیں ۔
اب دیکھنے والی بتا ہو گی کہ گورنر ستیہ پال ملک سنیما گھر کھولنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
